تحریک عدم اعتماد عمران کے لیے نئی سیاسی زندگی کیوں ہے؟

سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتیں عمران خان کو ہٹانے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہیں تو اگلی حکومت بھی یرغمالی بن کر رہے گی کیونکہ موجودہ اسمبلی میں چند نشستوں والی اتحادی پارٹیز ڈیڑھ سو سیٹیں رکھنے والی جماعت پر بھاری ثابت ہوتی ہیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ کہ جہاں 150 اور 100 سیٹوں والی جماعتیں چند نشستوں والی جماعتوں کے آگے بے بس یوں، وہاں اگلی حکومت کا مستقبل کتنا تابناک ہو گا۔ ایسے میں عدم اعتماد کی تحریک منظور ہو بھی جائے تو کیا اور ناکام ہو جائے بھی تو کیا۔ بقول مظہر عباس، کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ عمران خان کی حکومت اگلے الیکشن میں اپنے پانچ سال کی کارکردگی کا حساب دیتی نہ کہ ساڑھے تین سال کا۔ عدم اعتماد لا کر تو اپوزیشن نے عمران کو نئی سیاسی زندگی دے دی یے۔

مظہر عباس موجودہ سیاسی صورتحال پر سوال کرتے ہیں کہ اچانک ایسا کیا ہوا کہ چند ماہ میں ایک جمہوری عمل ٹھپ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا، منتشر اپوزیشن متحد نظر آنے لگی، حکومت کے اتحادی ناراض سے لگنے لگے، حکمران جماعت میں دراڑیں گہری ہونے لگیں اور اچانک بہت سے لوگوں کا سویا ہوا ’ضمیر‘ جاگ اُٹھا؟ ایساآخر کیا ہوا کہ اچانک حزبِ اختلاف کو ’امپائر‘ نیوٹرل نظر آنے لگا اور ساری زندگی نیوٹرل امپائر کا کریڈٹ لینے والے وزیر اعظم عمران خان اس کی نئی تعریف نکال لائے جس میں غصہ زیادہ نظر آ رہا ہے۔

اب تو کسی کو یہ کہتے ہوئے بھی سوچنا پڑتا ہے کہ تم نیوٹرل ہو؟ ایسا کیا ہوا کہ پچھلے تین برسوں میں سینیٹ میں اکثریت ہونے کے باوجود اپوزیشن کو متواتر شکست کا سامنا کرنا پڑا ’باضمیر‘ سینیٹروں اور نیوٹرل امپائروں کی وجہ سے اور پھر اچانک وزیراعظم ایوان میں اعتماد کا ووٹ کھوتے نظر آ رہے ہیں؟

پی آٹی آئی ہمارے پاس حکومت میں رہنے کا جواز تو رہنے دیتی

خود پارٹی کے اندر سے بانی اراکین نئے قائدِ ایوان کی باتیں کر رہے ہیں۔ اتحادی ’ہارس ٹریڈنگ‘ کی تردید کر رہے ہیں۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ اِن سوالات کا جواب نہ آپ کو حزبِ اقتدار سے ملے گا، نہ حزبِ اختلاف سے کیونکہ ایک اقتدار میں آنے کی کوشش میں لگا ہے تو دوسرا اقتدار بچانے کی اور ان کے درمیان پانچ پانچ، چھ چھ سیٹوں والے اتحادی مزے لوٹ رہے ہیں۔ خان صاحب جسکی شکل دیکھنا برداشت نہیں کرتے تھے اب اس کی بات پر مسکراتے ہیں تو دوسری طرف سڑکوں پر آصف زرداری کو گھسیٹنے والے اور نواز شریف کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے زرداری صاحب عظیم تر ملکی مفاد میں ساتھ ساتھ ہیں، مولانا فضل الرحمٰن کی امامت میں۔ ان سب سوالات کےجوابات اس ملک کے سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں کو تلاش کرنے پڑیں گے۔

ایسا آخرکیوں ہوتا ہے کہ اگر کبھی کوئی منتخب وزیراعظم چاہے وہ سلیکٹڈ ہی کیوں نہ ہو اپنا استحقاق استعمال کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا، رکاوٹیں آڑے آ جاتی ہیں۔ مجھے اب وزیر اعظم عمران خان کی کئی باتوں سے اختلاف ہے اور وہ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ انہیں ایمپائر نیوٹرل نہیں چاہئے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ کھڑا ہو،ان کا ہمنوا بنا رہے۔ شاید یہ وہ نکتہ ہے جو اختلافِ رائے کا باعث بنا۔

بقول مظہر عباس، یہ ایک ایسی سوچ ہے جو ہماری سیاست میں نقصان دہ رہی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا ماضی ہے جب سیاسی معاملات میں متواتر مداخلت رہی۔ بدقسمتی سے سیاست دانوں نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔ مگر یہ استحقاق بہرحال ایک منتخب وزیر اعظم کا ہی ہونا چاہئے۔ یہ استحقاق مگر حاصل نہیں ہے کہ آپ اداروں سے سیاسی حمایت مانگیں۔
ٹیلیفون کالز بند ہونے پر اعتراض کریں۔

اگر کل کچھ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے لوگ ضمیر کا سودا کر کے چیئرمین سینیٹ کیخلاف ووٹ دے رہے تھے اور عمران خان اسے انکے ضمیر کی آواز کہہ رہے تھے تو آج وہی لوگ ضمیر فروش اور لوٹے کیسے ہو گے؟

مظہر کے مطابق، اس پس منظر میں مجھے وزیراعظم کے خلاف ’عدم اعتماد‘ کی تحریک کے عوامل کچھ اور نظر آ رہے ہیں اور 2008 میں شروع ہونے والا جمہوری عمل خطرے میں نظر آ رہا ہے۔

عین ممکن ہے میرا تجزیہ غلط ہو مگر اس پورے عمل میں مجھے سب سے زیادہ سیاسی نقصان جمہوریت کو ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جہاں 150 اور 100 سیٹوں والی جماعت چند نشستوں والی جماعتوں کے آگے بے بس یے، وہاں اگلی حکومت کا مستقبل بھی تاریک ہی سمجھیں۔ ایسے میں عدم اعتماد کی تحریک منظور ہو بھی جائے تو کیا اور ناکام ہو جائے بھی تو کیا۔ بقول مظہر عباس، کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ عمران خان کی حکومت اپنے پانچ سال کا حساب دیتی نہ کہ ساڑھے تین سال کا۔ عدم اعتماد لا کر تو اپوزیشن نے عمران کو نئی سیاسی زندگی دے دی۔

Why is no-confidence motion a new political life for Imran?

Back to top button