عمران کیلئے سیاسی شہید کا درجہ حاصل کرنا ممکن کیوں نہیں؟

کل تک آئینی مدت پوری کرنے کے لئے مطمئن نظر آنے والے وزیراعظم عمران خان آج اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے واضح امکانات کے بعد سیاسی شہید بننے کے کی خاطر عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور یورپ کے للکارتے نظر آتے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے ان کو نکالنے کی سازش مغرب کے پیچھے مغربی ممالک ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ کپتان پاکستانیوں کو ریلیف دینے کی بجائے سرکاری خرچ پر ایک نیا بیانیہ پیش کر کے محض سیاسی شہید بننے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ کچھ ایسا ہی چلن ماضی میں بھی دیکھنے میں آیا جب اپنے اقتدار کو خطرے میں دیکھ کر کر حکمرانوں نے اپنی ناکامی کا ملبہ عالمی اور مقامی اسٹیبلشمنٹ پر ڈال کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوششیں کیں۔ لیکن عمران اپنی اس کوشش میں اس لیے ناکام ہوتے دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں صرف اپوزیشن کے حملے کا سامنا نہیں بلکہ انکے خلاف ان کی جماعت کے اندر سے ہی بغاوت پھوٹ پڑی ہے۔

سیاسی مبصرین کے خیال میں جب بھی کوئی وزیر اعظم اپنا اقتدار خطرے میں دیکھ کر باہر نکلتا ہے اور عوام سے رجوع کرتا ہے تو اس کا ایک ہی مطلب ہوتا ہے کہ وہ اپنی چھٹی ہونا بھانپ چکا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ وزیراعظم عمران خان کا ہے جو کہ اب شہادت کے رتبے پر فائز ہونے کے لیے کوشاں ہو چکے ہیں، خصوصا جب انکی حکومت مکمل ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے اور عوام جھولیاں اٹھا کر حکمرانوں کو بد دعائیں دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے جس پر ووٹنگ سے پہلے ہی موصوف اپنے ہوش و حواس کھوتے ہوئے جلسوں میں اپوزیشن کے خلاف ہذیان بک رہے ہیں۔ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد وزیراعظم کی حالیہ جلسوں میں تقاریر امریکہ اور مغرب مخالف ایک خاص بیانیے کا اظہار کر رہی ہیں جن کا مقصد شاید یہ ہے کہ اگر وہ اقتدار سے نکل بھی جائیں تو امریکہ سے ٹکر لینے والے سیاسی شہید کہلائیں تاکہ عوامی ہمدردیاں انکے ساتھ ہوں۔

سینیئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’اس میں کوئی دو آرا نہیں کہ پاکستان کا سیاسی نظام ہمیشہ ہی کمزور رہا ہے اور یہاں منتخب ہونے والے اب تک کے تمام وزرائے اعظم کو جلد یا بدیر انتہائی سخت سیاسی مخالفت کا سامنا رہا ہے۔ بقول سہیل وڑائچ، عمران جن حالات سے گزر رہے ہیں ان سے پہلے ان کے پیش رو بھی اس طرح کے حالات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

سب وزرائے اعظم میں ایک قدر مشترک رہی ہے کہ سخت حالات آنے کے بعد انہوں نے عوامی جلسوں میں اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کی کوشش کی تاکہ عوامی ہمدردیاں سمیٹی جا سکیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق عمران خان جو اس وقت کر رہے ہیں وہ اس ملک کی سیاست میں نیا نہیں ہے، پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان بھی اسی طرح کی صورت حال میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران راولپنڈی میں قتل کر دیے گئے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک کے پہلے عام انتخابات کے بعد بننے والے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی 1970 کی دہائی میں جب شدید قسم کی اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑا تو وہ بھی وزیراعظم ہاؤس چھوڑ کر عوام میں چلے گئے تھے۔ انہوں نے اپنی سیاسی پوزیشن اپنی تقاریر کے ذریعے عوام کے سامنے رکھنے کی کوشش کی۔ بھٹو نے راجہ بازار راولپنڈی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلامی سربراہی کانفرنس کروانے اور اسلامی بم بنانے کا اعلان کرنے کی وجہ سے امریکہ ان کا دشمن ہو چکا ہے۔

انہوں نے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا ایک خط لہراتے ہوئے کہا کہ مجھے کھلی دھمکی دی گئی ہے کہ تمہیں نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ بھٹو کے اقتدار کا خاتمہ امریکی سازش کے نتیجے میں ہوا جب جنرل ضیاالحق نے مارشل لا نافذ کردیا اور بعد ازاں بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ لیکن ایک طیارہ حادثے میں جنرل ضیاء الحق کی عبرتناک موت کو بھی امریکی سازش ہی قرار دیا جاتا ہے۔ اسکے بعد جب ملک کا سیاسی نظام دوبارہ نظم میں آنا شروع ہوا تو بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں۔ 1980 کی دہائی کے آخر میں بے نظیر بھٹو کے خلاف آئی جے آئی کے اتحاد نے جب جڑیں پکڑنا شروع کیں تو وہ بھی سڑکوں پر آگئیں۔ یہ صرف بے نظیر بھٹو نہیں تھیں بعد ازاں نواز شریف بھی اس صورت حال سے گزرے۔

سہیل وڑائچ کے بقول ’اہم بات یہ ہے کہ 1999 میں جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو اقتدار سے ہٹا دیا اور انہوں نے 2002 میں ایک نئی سیاسی جماعت کے ذریعے حکومت شروع کی تو 2007 میں ان کے خلاف بھی ایک بڑا سیاسی محاذ کھڑا ہوگیا۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پرویز مشرف نے جلسے کیے اور مکے بھی لہرائے۔ انہوں نے ایک مکہ 12 مئی 2007 کو اسلام آباد کے اس جلسے میں لہرایا جب کراچی میں درجنوں افراد ایک احتجاج کے دوران مارے جاچکے تھے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’نواز شریف کے خلاف جب پانامہ کا کیس بنا اور انہیں اس بات کا یقین ہوگیا کہ اب مخاف قوتیں ان کو اقتدار سے الگ کرنا چاہتی ہیں تو انہوں نے عین اسی وقت جلسے جلوس شروع کر دیے۔ عوامی پیکجز کا بھی اعلان کیا اور اپنے خلاف سازشیں کرنے والوں کو بغیر نام لیے تنبیہہ بھی کی۔ یہی اس وقت عمران خان بھی کر رہے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس وقت دباؤ میں ہیں اور اپنے دل کی بات وہ جلسے جلوسوں کے ذریعے متعلقہ حلقوں تک پہنچا رہے ہیں تاہم کپتان کو سیاسی شہید کا ترجمہ اس لئے نہیں مل سکتا کیونکہ ایک تو عوام ان سے سخت تنگ ہیں دوسرا انکی جماعت میں بھی توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہوگیا ہے جسے اندرونی بغاوت قرار دے دیا جا رہا ہے لہذا کسی بیرونی سازش کا الزام لگا کر کپتان کے لئے سیاسی شہید بننا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

Why is not possible for Imran to get the status of political martyr?

Back to top button