پاک فوج 1971 والی غلطیوں سے سبق سیکھنے پر کیوں تیار نہیں؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج نے ماضی کی ان غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا جنکے نتیجے میں 1971 میں متحدہ پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ انکا کہنا ہے کہ سانحہ مشرقی پاکستان کی وجوہات جاننے کے لیے تشکیل دیے گئے حمود الرحمٰن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ سیاست میں فوج کی مداخلت سے جو برائیاں جنم لیتی ہیں، وہ فوج کو زنگ لگا دیتی ہیں، لہٰذا حکمران طبقے کو یہ رپورٹ ضرور پڑھنی چاہیے کیونکہ 1971 میں پاکستان پر اعلانیہ مارشل لاء نافذ تھا لیکن آج  پاکستان پر غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے۔

حامد میر سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی تحریر میں کہتے ہیں کہ انتہائی ٹھوس تاریخی شہادتوں سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان کی تحریک چلانے والی آل انڈیا مسلم لیگ 30 دسمبر 1906ء کو ڈھاکا میں قائم ہوئی تھی۔ تحریک پاکستان میں بنگالیوں نے بہت اہم کردار ادا کیا اور 23 مارچ 1940ء کی قرار داد لاہور بھی ایک بنگالی لیڈر اے کے فضل الحق نے پیش کی تھی۔

قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد ہی قائداعظم کی وفات ہو گئی۔ اردو کو قومی زبان قرار دینے پر قائد اعظم کی زندگی میں ہی مشرقی پاکستان میں بے چینی پیدا ہوئی لیکن مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں نفرتوں کا آغاز 1958ء میں مارشل لا نافذ ہونے کے بعد ہوا۔

جنرل ایوب خان نے 1956ء کا آئین معطل کر دیا۔ جب انہوں نے 1962ء میں صدارتی آئین نافذ کرنے کا منصوبہ بنایا تو ان کے بنگالی وزیر قانون جسٹس ریٹائرڈ محمد ابراہیم نے جنرل ایوب خان کو روکنے کی کوشش کی۔ ان کی کتاب ’’ڈائریز آف جسٹس محمد ابراہیم‘‘ میں جنرل ایوب خان کے ساتھ ان کی سرکاری خط و کتابت شامل ہے، جس میں وزیر قانون نے صدر پاکستان کو وارننگ دی تھی کہ صدارتی آئین پاکستان توڑ دے گا۔ پاکستان کے فوجی صدر نے اپنے بنگالی وزیر قانون کی وارننگ نظر انداز کر دی۔ اس صدارتی آئین کے خلاف مشرقی پاکستان کے گورنر جنرل اعظم خان نے بھی استعفیٰ دے دیا۔

ایوب خان اپنی ضد پر قائم رہے اور انہوں نے ایک پنجابی جج، جسٹس ریٹائرڈ محمد منیر کو اپنا وزیر قانون بنا لیا۔ نئے وزیر قانون کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ کسی طرح بنگالیوں سے جان چھڑائیں۔ جسٹس محمد منیر نے اپنی کتاب ’’فرام جناح تو ضیاء‘‘ میں لکھا ہے کہ 1962ء میں وزیر قانون بنانے کے بعد جنرل ایوب خان نے مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک بنگالی وزیر رمیض الدین کے پاس مجھے بھیجا اور میں نے انہیں کہا کہ آپ ہم سے علیحدگی اختیار کرلیں یا کنفڈریشن بنا لیں۔

 رمیض الدین نے جواب میں کہا کہ ہم اکثریت میں ہیں، آپ اقلیت ہیں، اگر آپ علیحدہ ہونا چاہتے ہیں تو ہو جائیں لیکن اصل پاکستان تو ہم ہیں۔ جس کی شہادت سے پتا چلتا ہے کہ جنرل ایوب خان بنگالیوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تھے کیونکہ وہ صدارتی نظام کے خلاف تھے۔ یہی وہ سال تھا، جب تحریک پاکستان کے رہنما حسین شہید سہروردی کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تو ڈھاکا میں پاکستان کے خلاف نعرے لگ گئے۔

اسی زمانے میں شیخ مجیب الرحمٰن کے موقف میں بہت سختی پیدا ہو گئی اور کچھ مصنفین کے مطابق انہوں نے بھارت کے ساتھ خفیہ رابطے شروع کر دیے۔ اس دوران محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف 1965ء کے صدارتی الیکشن میں حصہ لیا تو مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمٰن سمیت مغربی پاکستان سے ولی خان، غوث بخش بزنجو، عطاء اللہ مینگل اور سردار خیر بخش مری سے لے کر مولانا مودودی تک سب نے فاطمہ جناح کی حمایت کی لیکن ایوب خان نے فاطمہ جناح کو انڈین ایجنٹ قرار دے دیا۔ دھونس اور دھاندلی سے انہیں ہرا دیا۔ فاطمہ جناح ڈھاکا سے جیت گئیں لیکن مغربی پاکستان سے ہار گئیں۔

 فاطمہ جناح کی شکست نے بنگالیوں کو پاکستان سے مایوس کر دیا۔ اس مایوسی کا نتیجہ 1966ء میں شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات کی صورت میں سامنے آیا۔ پہلا نکتہ یہ تھا کہ حکومت کا کردار وفاقی اور پارلیمانی ہونا چاہیے۔ یعنی اصل لڑائی صدارتی نظام کے خلاف تھی۔ پھر 1968ء میں شیخ مجیب کو اگرتلہ سازش کیس میں ملوث کر دیا گیا۔

وہ ایوب خان، جو جسٹس منیر کی مدد سے پاکستان توڑنا چاہتا تھا، اس نے مجیب پر پاکستان کے خلاف سازش کا الزام لگا دیا۔ الزام عدالت میں ثابت نہ ہو سکا اور شیخ مجیب کی مقبولیت مزید بڑھ گئی۔ 1969ء میں معروف صحافی الطاف حسن قریشی نے شیخ مجیب الرحمٰن کا انٹرویو کیا۔ یہ انٹرویو قریشی صاحب کی کتاب ’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ میں موجود ہے۔

 قریشی صاحب نے مجیب سے پوچھا کہ موجودہ بحران کا حل کیا ہے؟ مجیب نے جواب میں کہا کہ 1956ء کا آئین بحال کر دیں۔ قریشی صاحب نے کہا کہ چھ نکات تو کچھ اور ہی کہتے ہیں، مجیب نے جواب دیا کہ چھ نکات قرآن اور بائبل نہیں، ان پر نظر ثانی ہو سکتی ہے۔ پھر انہوں نے الطاف حسن قریشی کو وہی کہا، جو رمیض الدین نے جسٹس منیر سے کہا تھا، ’’ہماری آبادی 56 فیصد ہے، مغربی پاکستان علیحدگی کا تصور کر سکتا ہے، ہم نہیں کر سکتے۔ وہ حصہ اگر الگ ہونا چاہتا ہے تو ہو جائے۔‘‘

اس واقعے کے ایک سال بعد سات دسمبر 1970ء کو پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات منعقد ہوئے۔ عام تاثر یہی ہے کہ 1970ء کے انتخابات بڑے فیئر اینڈ فری تھے۔ اس تاثر کی نفی جنرل یحییٰ خان کے اپنے ہی دو قریبی ساتھیوں نے کر دی۔ پاکستان ایئرفورس کے ایک افسر ارشد سمیع خان نے جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ بطور اے ڈی سی کام کیا۔

 انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ 1970ء کے انتخابات میں میجر جنرل غلام عمر نے کچھ سیاست دانوں میں خفیہ طور پر رقوم تقسیم کی تھیں۔ الیکشن کی رات، جب رزلٹ آنے شروع ہوئے تو صدر یحییٰ خان نے کہا کہ جنرل عمر سے بات کراؤ۔ ارشد سمیع نے صدر کی جنرل عمر سے بات کرائی تو صدر صاحب نے غصے میں ان سے پوچھا، ’’وہ جو تم نے خان عبدالقیوم خان، صبور خان اور بھاشانی کو پیسے دیے تھے ان کا کیا ہوا؟‘‘

جنرل عمر کوئی جواب نہ دے سکے تو صدر نے کہا کہ قومی اسمبلی کے انتخابات میں جو ہونا تھا وہ ہو گیا، اب مجھے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج بالکل مختلف چاہییں۔ لیکن جنرل عمر صدر کے خوابوں کو حقیقت بنانے میں ناکام رہے۔

آئی ایس پی آر کے سابق سربراہ اور صدر یحییٰ خان کے پریس سیکریٹری بریگیڈیئر اے آر صدیقی نے اپنی کتاب ’’جنرل محمد یحییٰ خان‘‘ میں لکھا ہے کہ جنرل عمر نے مشرقی پاکستان میں کرنل ایس ڈی احمد کے ذریعے خان قیوم کی کنونشن مسلم لیگ، جماعت اسلامی، صبور خان، فضل القادر چوہدری، نورالامین، خواجہ خیرالدین، مولوی فرید احمد اور کچھ دیگر میں بھاری رقوم تقسیم کیں۔ اس دھاندلی کے باوجود شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے قومی اسمبلی اور مشرقی پاکستان کی صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر لی۔ لیکن اکثریتی جماعت کو اقتدار منتقل کرنے سے گریز کیا گیا جس کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہو گیا۔

وزیر آئی ٹی کا ملک میں انٹرنیٹ کی مطلوبہ رفتار دستیاب نہ ہونے کا اعترف

حامد میر کہتے ہیں کہ 1971ء میں مشرقی پاکستان کھو دیا گیا اور آج کشمیر کھو دیا گیا ہے۔ لہٰذا 16 دسمبر سے سبق نہ سیکھا گیا تو خدانخواستہ پاکستان مزید نقصان اٹھا سکتا ہے کیونکہ آج تک یہاں نہ تو ملک توڑنے والے جنرل یحییٰ یا جنرل نیازی کا احتساب ہو سکا ہے اور نہ ہی دو مرتبہ آئین شکنی کرنے والے جنرل مشرف کو سزا دی جا سکی۔

Back to top button