پاکستان کو نوبیل امن انعام کا حقدار کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟

 

 

 

سوشل میڈیا پر ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کے لیے بے مثال کردار ادا کرتے ہوئے دنیا کو ممکنہ طور پر تیسری عالمی جنگ سے بچانے پر پاکستان کو نوبیل امن انعام کا حقدار قرار دیا جا رہا ہے۔

 

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایک ایسے وقت میں عالمی سفارت کاری کا غیر معمولی مظاہرہ کیا جب دنیا ایک ممکنہ بڑی جنگ، حتیٰ کہ ایٹمی عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی۔ اس نازک مرحلے پر پاکستان کی قیادت نے نہ صرف کشیدگی کو کم کیا بلکہ دونوں متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

 

یاد رہے کہ بدھ کی علی الصبح شہباز شریف نے اعلان کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی طے پا گئی ہے اور دونوں ممالک کے وفود کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کا خیر مقدم ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ بڑے فوجی حملے کے لیے ڈیڈ لائن دے رکھی تھی، جس کے خاتمے میں چند گھنٹے باقی تھے۔ اسی دوران وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے ہنگامی سفارتی رابطے کیے اور دونوں فریقین کو تحمل اور مذاکرات پر آمادہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ حملوں کو مؤخر کرنے کا فیصلہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا۔ اس کے فوراً بعد ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے بھی تصدیق کی کہ وہ پاکستان کے توسط سے پیش کیے گئے 10 نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے خطے کو جنگ سے بچانے کے لیے “انتھک اور مخلصانہ کردار” ادا کیا ہے۔

 

پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو دنیا بھر میں غیر معمولی پذیرائی مل رہی ہے۔ دنیا کے درجن بھر بڑے ممالک نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے جس سے پاکستان کا وقار بھی بلند ہوا ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق پاکستان نے ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر خود کو منوایا ہے جو پیچیدہ بین الاقوامی تنازعات میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔

 

پاکستان کے اندر اور بیرونِ ملک سوشل میڈیا پر اس پیش رفت کو تاریخی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ معروف کامیڈین شفاعت علی نے کہا کہ پاکستان نے ممکنہ عالمی تباہی کو روک دیا، جبکہ گلوکار فرحان سعید نے اسے ملک کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا۔ دیگر صارفین اور تجزیہ کاروں نے بھی اس پیش رفت کو پاکستان کی بڑی سفارتی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے عالمی سطح پر ملک کے وقار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔

ٹرمپ نے پاکستان کے ذریعے فیس سیونگ کیسے حاصل کی ؟

سوشل میڈیا پر عوام کی بڑی تعداد پاکستان کو نوبیل امن انعام دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہو جاتی ہے تو پاکستان کا کردار جدید سفارتی تاریخ میں ایک سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اگرچہ یہ جنگ بندی فی الحال عارضی اور مشروط ہے، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ اس جنگ بندی نے ایک ممکنہ بڑے تصادم کو روک کر لاکھوں جانوں کو بچا لیا ہے۔ اس عمل میں پاکستان کا کردار نہ صرف کلیدی بلکہ فیصلہ کن رہا جس نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا۔

Back to top button