ایران پر حملے کے بعد پاکستان سب سے مشکل پوزیشن میں کیوں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی جیت نے نہ صرف عالمی سطح پر اس کی دھاک بٹھا دی بلکہ اس کے وقار میں بھی اضافہ کیا تھا، لیکن ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد پاکستان سب سے زیادہ مشکل پوزیشن میں آ گیا ہے۔
اپنے سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا نے کہا کہ گزشتہ برس مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق آج کے دور میں اقوام کی عزت و وقار کا انحصار زیادہ تر معیشت پر ہوتا ہے اور اگرچہ پاکستان کی معیشت مشکلات کا شکار ہے، تاہم اس جنگ میں کامیابی کے بعد دنیا نے پاکستان کو نئی نظر سے دیکھنا شروع کیا۔ کلاسرا کے مطابق اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت کو وائٹ ہاؤس مدعو کیا، جب کہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے خواہاں دکھائی دیے۔
انہوں نے کہا کہ ان ممالک کو محسوس ہوا کہ پاک فوج ہی ان کی سلامتی کی ضامن بن سکتی ہے۔ اسی پس منظر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان نے مشترکہ دفاعی معاہدہ طے کیا، جبکہ اس کے ردعمل میں متحدہ عرب امارات نے بھارت کے ساتھ ملتے جلتے دفاعی معاہدے سائن کیے۔ تاہم صورت حال تب یکسر بدل گئی جب ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کا آغاز ہوا۔ کلاسرا کے مطابق اگر اس بحران میں کوئی ملک سب سے زیادہ مشکل میں ہے تو وہ پاکستان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت پر شدید دباؤ ہوگا کہ وہ اس نازک مرحلے پر کیا ریاستی پالیسی اختیار کرے، خصوصاً اگر کشیدگی ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہِ راست تصادم کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے اب چھ ممالک میں میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں جہاں پر امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔ اگرچہ ایرانی مؤقف یہ ہے کہ نشانہ صرف امریکی اڈے ہیں، تاہم دبئی اور سعودی عرب میں سویلین اہداف پر حملوں کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔
دوسری جانب ایران میں بھی اسرائیلی اور امریکی حملوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہری جاں بحق ہوئے، جن میں ایک سکول پر حملے میں ڈیڑھ سو بچوں کی ہلاکت کا واقعہ خاص طور پر دل دہلا دینے والا قرار دیا جا رہا ہے۔
کلاسرا کے مطابق خطے میں جنگ کے دائرہ کار کے پھیلنے کے ساتھ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کس فریق کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ ان کے خیال میں پاکستان کے لیے مکمل غیر جانبدار رہنے کے امکانات تیزی سے کم ہو رہے ہیں، اور اگر ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑتی ہے تو پاکستان کو جلد یا بدیر واضح مؤقف اپنانا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان سعودی عرب پر حملوں کے معاملے پر خاموش یا غیر جانبدار رہتا ہے تو ریاض کو یہ رویہ ناگوار گزر سکتا ہے، کیونکہ سعودی قیادت اس موقع پر پاکستان کی کھلی حمایت کی توقع رکھتی ہے۔ دوسری صورت میں اگر پاکستان سعودی عرب کا ساتھ دیتا ہے تو جنگ کے شعلے پاکستان تک بھی پہنچ سکتے ہیں اور داخلی سلامتی کے مسائل جنم لے سکتے ہیں، خصوصاً جب ایران پر اسرائیلی حملے پاکستان کی سرحد سے زیادہ دور نہیں ہو رہے۔ کلاسرا نے اس صورت حال میں بھارتی سفارتی سرگرمیوں کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سفارتی سطح پر فوری ردعمل دیتے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے رابطہ کیا، حملوں کی مذمت کی اور عربی زبان میں پیغام جاری کیا، جس سے یہ تاثر دیا گیا کہ انڈیا ایران کی بجائے سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ بیان میں ایران کا نام نہیں لیا گیا، تاہم سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ حملوں کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔
دوسری جانب پاکستان کی جانب سے محتاط طرزِ عمل اختیار کیا گیا ہے اور کھل کر مذمتی بیان دینے سے گریز کیا گیا ہے تاکہ ایران کے ساتھ تعلقات مزید خراب نہ ہوں۔ کلاسرا کے مطابق پاکستان کو علم ہے کہ ایک جذباتی یا غیر محتاط بیان اسے براہِ راست جنگی صورتحال میں دھکیل سکتا ہے، جس کا ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔ رؤف کلاسرا نے ایران کی انٹیلی جنس ناکامی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس اسرائیلی حملوں کی پیشگی اطلاع حاصل نہ کر سکی اور اعلیٰ مذہبی اور عسکری قیادت کو بچانے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ ایران خود تسلیم کر رہا ہے کہ اس کے اداروں میں موساد کے ایجنٹس موجود تھے، جس نے دشمن کو ایرانی قیادت کی لوکیشن بارے اہم ترین خفیہ معلومات فراہم کیں۔
انہوں نے سکندر اعظم اور ایرانی شہنشاہ دارا سوم کی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی بڑی فوجی مہم سے قبل انٹیلی جنس معلومات فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ سکندر نے ایران پر حملے سے قبل انسانی انٹیلی جنس کے ذریعے سلطنت کے کمزور پہلوؤں، اختلافات اور فیصلہ ساز شخصیات کی تفصیلات جمع کیں اور جیتنے کے لیے انہی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔ رؤف کلاسرا کے مطابق انسانی انٹیلی جنس تاریخی جنگوں میں ہمیشہ سے طاقتور ترین ہتھیار رہی ہے۔ انہوں نے ہلاکو خان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس نے دہشت کو بطور ہتھیار استعمال کیا، جبکہ سکندر نے معلومات اور حکمت عملی کو ترجیح دی۔ ان کے بقول آج کے حالات میں اسرائیل کو بھی ایران پر انٹیلی جنس میدان میں برتری حاصل رہی، جو جنگی محاذ سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی۔
ایران نےاسرائیل کی جوابی تباہی کاکیامنصوبہ بنایاہے؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایران نے تاریخ کے اس سبق سے کیا سیکھا، اور کیوں آج بھی اس کی داخلی کمزوریاں اس کے دشمنوں کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں جاری بحران نہ صرف عسکری طاقت بلکہ انٹیلی جنس، سفارت کاری اور داخلی استحکام کی آزمائش بھی ہے لہذا پاکستان کو اس نازک مرحلے پر نہایت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوں گے۔
