بلوچ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے سیاسی ڈائیلاگ کیوں ضروری ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وجاہت مسعود نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے کسی نرمی کے مستحق نہیں، لیکن معصوم سویلینز کو بسوں سے اتار کر گولیاں مارنے والوں کے خلاف کارروائی کامیاب بنانے والوں کے لیے سیاسی کھڑکی بھی کھلی رکھنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچ دہشت گرد کبھی جمہوری عمل کا حصہ نہیں رہے اور انہیں بلوچ عوام کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں پہنچتا، البتہ پاکستان کے دستور کو تسلیم کرنے والی سیاسی قوتوں کے ساتھ بیٹھ کر بات ضرور کرنی چاہیے تاکہ ملکی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ 10 جولائی 2025 ء کی رات ایک اور روح فرسا خبر آئی۔ کوئٹہ سے پنجاب جانے والی دو گاڑیوں کو بلوچستان کے شمالی اضلاع لورا لائی اور ژوب کی سرحد پر مسلح افراد نے روک لیا۔ مسافروں کے شناختی کارڈ ملاحظہ کر کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافروں کو اغوا کر کے فائرنگ سے شہید کر دیا گیا۔ کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی۔ اس کالعدم تنظیم کا 2004 ء سے اللہ نذر بلوچ نامی شخص سربراہ ہے جو دہشت گردی کی ایسی لاتعداد وارداتوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔
سال 2016 میں یہ شخص کھلے عام بھارت سے مالی اور عسکری مدد لینا تسلیم کر چکا ہے۔ اگرچہ یہ بیان کوئی انکشاف نہیں تھا کیونکہ بھارتی صحافی اویناش پلیوال نے 2017 ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں صاف لکھا ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے افغانستان اور ایران کے راستے بلوچستان میں 40 برس سے سرگرم ہیں۔ اس دوران بلوچستان میں ہتھیار اٹھانے والے عناصر کو رقم، ہتھیار اور تربیت سمیت ہر طرح کی مدد فراہم کی گئی ہے۔ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کو ٹھکانوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کے بعد پناہ لے سکیں۔ بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر کو یہ ٹھکانے بلوچستان کی مشرقی سرحد سے متصل افغانستان میں تب بھی میسر تھے جب افغانستان میں روسی افواج موجود تھیں۔ 90 ء کی دہائی میں مجاہدین اور طالبان نے بھارت سے ناتے کبھی منقطع نہیں کیے۔
وجاہت مسعود بتاتے ہیں کہ اکتوبر 2001 ء میں امریکی افواج کی آمد کے بعد بھی بلوچ علیحدگی پسندوں کو افغانستان میں پناہ حاصل رہی۔ ہمارے فیصلہ سازوں نے افغانستان کی تاریخی اور ثقافتی نفسیات سمجھنے میں شدید غلطی کی۔ 1996 ء سے 2001 ء تک پاکستان کی زیر دست طالبان حکومت نے بھی ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر قبول نہیں کیا۔ اگست 2019 میں طالبان نے دوحا معاہدہ روندتے ہوئے کابل پر چڑھائی کی تو ہمارے نام نہاد تزویراتی ماہرین کابل ہوٹل کی لذیذ چائے سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ من مانے طریقے سے ہزاروں تربیت یافتہ دہشت گردوں کو پاکستان واپس لایا گیا۔ آج افغانستان پر قابض طالبان بھارت سمیت پاکستان مخالف علاقائی قوتوں سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ سی پیک منصوبہ ہماری داخلی کمزوری کے گدلے تالاب میں ڈوب چکا اور بھارت مٹھی بھر دہشت گردوں کی مدد سے ہماری حساس وفاقی اکائی بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے۔ کبھی فرقہ ورانہ بنیادوں پر خون بہایا جاتا ہے تو کبھی صوبائی منافرت کو ہوا دی جاتی ہے۔
وجاہت مسعود کے مطابق یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بلوچستان کے سیاسی اور معاشی حقوق کا معاملہ پاکستان کا داخلی سیاسی مکالمہ ہے۔ پاکستان کی جمہوری قوتوں نے ہمیشہ بلوچستان کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی ہے لیکن پاکستان سے علیحدگی کا مطالبہ سرے سے سیاسی یا معاشی حقوق کا معاملہ ہی نہیں۔ یہ جدید قومی ریاست کے بنیادی مفروضات سے انحراف ہے۔ بلوچستان میں مسلح دہشت گردی صوبائی حقوق کا معاملہ نہیں۔ جمہوری اور معاشی حقوق کی جدوجہد ہتھیار اٹھا کر نہیں کی جاتی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے نفسیاتی شہ پانے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ بنگلہ دیش کی تخلیق میں اہم ترین کردار جغرافیائی حقائق کا تھا۔ بلوچستان کا معاملہ الگ ہے۔ اگر دہشت گرد ’ہزار سوئیاں‘ چبھو کر لہو کشید کرنا چاہیں گے تو ریاست کی طاقت انہیں حتمی تجزیے میں کچل کے رکھ دے گی۔ بیرونی قوتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے دہشت گردی کرنے والوں کو کوئی ریاست معاف نہیں کرتی۔ ہمارے لیے حساس معاملہ یہ ہے کہ ریاستی قوت کے لیے ردعمل دیتے ہوئے دہشت گرد اور سیاسی قوتوں میں تمیز کرنا ممکن نہیں رہتا۔
عمران کی احتجاجی تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی ناکامی کا شکار
انکا کہنا ہے کہ بلوچستان کے نام نہاد حریت پسندوں کی بزدلانہ کارروائیوں کا خمیازہ حتمی تجزیے میں بلوچستان کے معصوم، غیر مسلح اور قابل احترام شہریوں کو بھگتنا پڑے گا۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ جیسے گروہ محض پاکستان کے نہیں، بلوچستان کے بھی دشمن ہیں۔ پاکستان کے جمہوریت پسند جہاں ریاست سے یہ توقع کرتے ہیں کہ بلوچستان کو پاکستان کا لاینفک حصہ سمجھتے ہوئے اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک جیسے سیاسی رہنمائوں کے ساتھ اسی طور پر بات چیت کی جائے جیسے چوہدری شجاعت اور مشاہد حسین کے ذریعے کوشش کی گئی تھی یا پیپلز پارٹی حکومت نے حقوق بلوچستان پروگرام شروع کیا تھا۔ بلوچستان میں ہتھیار اٹھانے والے کسی نرمی کے مستحق نہیں لیکن ریاستی کارروائی کی حتمی کامیابی کے لیے سیاسی کھڑکی کھلی رکھنی چاہیے۔ بلوچ دہشت گرد کبھی جمہوری عمل کا حصہ نہیں رہے اور انہیں بلوچ عوام کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں پہنچتا البتہ پاکستان کے دستور کو تسلیم کرنے والی سیاسی قوتوں کے ساتھ میز پر بیٹھ کر بات ضرور کرنی چاہیے تاکہ پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
