صدرپی ٹی آئی پرویزالہٰی سیاسی منظرنامے سے غائب کیوں ہیں؟

تحریک انصاف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، پارٹی میں دھڑے بندی اور گروپنگ اپنے عروج پر ہے تاہم پی ٹی آئی کے نام نہاد صدر چودھری پرویز الٰہی نے پر اسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے نہ تو ان کی جانب سے کوئی بیان سامنے آ رہا ہے اور نہ ہی وہ پارٹی معاملات میں ایکٹو دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پرویز الٰہی رہائی کے بعد سے خاموش کیوں ہیں اور انھوں نے سیاسی گوشہ نشینی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد دھرنے میں ناکامی کے بعد اندرونی انتشار کا شکار ہے۔ مختلف رہنما ایک دوسرے پر الزامات عائد کر تے نظر آتے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخوا کی قیادت خاص طور پر پنجاب کے رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت نے دھرنے میں نہ پہنچ کر پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم اس ساری صورتحال میں پی ٹی آئی کی لیڈر شپ یعنی تین بڑوں میں سے صرف پارٹی کے صدر چوہدری پرویز الٰہی جیل سے باہر ہیں۔ تاہم انھوں نے پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ان کی جانب سے پی ٹی آئی میں جاری چپقلش بارے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔مبصرین کے مطابق چودھری پرویز الٰہی ابھی مزید خاموش ہی رہیں گے کیونکہ چوہدری پرویز الٰہی کی جیل سے رہائی اسی شرط کے تحت عمل میں آئی تھی کہ وہ کسی سیاسی انتشار کا حصہ نہیں بنیں گے اور انھیں باور کروایا گیا تھا کہ جب بھی وہ سیاست میں متحرک ہونگے ان کی اگلی رات جیل میں کٹے گی۔ اس وجہ سے ڈیل کے تحت رہائی کے بعد سے ہی انھوں نے مسلسل خاموشی اور سیاسی گوشہ نشینی اختیار کر رکھی ہے۔
مبصرین کے مطابق 24 نومبر کو جب ملک بھر سے قافلوں کو ڈی چوک پہنچنے کی کال دی گئی تو چوہدری پرویز الٰہی خود تو نظر نہیں آئے البتہ اتوار کی شام کو ایک پریس ریلیز کے ذریعے یہ بتایا گیا کہ گجرات سے ان کی اہلیہ قیصرہ الٰہی کی قیادت میں ایک قافلہ اسلام آباد کو نکلا ہے اور احتجاج کیا ہے۔گجرات سے نکلنے والا یہ احتجاج نہ تو ڈی چوک پہنچا اور نہ اس کی کوئی تصاویر یا ویڈیوز جاری کی گئیں۔
تاہم اس حوالے سے چوہدری پرویز الٰہی کے وکیل عامر سعید راں ل کا کہنا ہے کہ ’چوہدری پرویز الٰہی اب عمر کے اس حصے میں ہیں کہ ان کو آرام کی ضرورت ہے۔ جیل میں ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا اس کے بعد وہ اپنے گھر پر زیادہ دیر آرام ہی کرتے ہیں اور ابھی تک وہ کسی طرح کے سیاسی رول کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جب ان کی صحت مکمل بحال ہو جائے گی تو یقیناً وہ اپنا سیاسی کردار ادا کریں گے۔‘
تاہم سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ چوہدری پرویز الٰہی کی رہائی کا تعلق براہ راست ان کی زباں بندی سے بھی ہے لیکن خود پرویز الٰہی یا مونس الٰہی نے کبھی اس موضوع پر بات نہیں کی نہ ہی اس تاثر کو زائل کرنے کی کبھی کوئی کوشش کی۔
البتہ تحریک انصاف کی جانب سے جب بھی کوئی احتجاج یا تحریک کی کال دی جاتی ہے تو حصہ بقدر جثہ کے حساب سے گجرات میں کچھ نہ کچھ سرگرمیاں کی جاتی ہیں۔
پاکستان میں جمہوری معاملات پر نظر رکھنے والی تنظیم پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کے مطابق ’چوہدری پرویز الٰہی بنیادی طور پر ایسے سیاست دان ہیں جنہوں نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بنا کر رکھی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ان کے اپنے اندازے درست ثابت نہیں ہوئے اور ان کو کافی لمبے عرصے تک جیل میں رہنا پڑا، بالآخر انہوں نے اپنے لیے راہ نکالی اور باہر آ گئے۔‘
’یقیناً جب تک یہ موجودہ سیٹ اپ ایسے ہی چلتا ہے تو چوہدری پرویز الٰہی دیکھو اور برداشت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہی رہیں گے اور صرف وہ ہی نہیں بلکہ تحریک انصاف کی زیادہ تر قیادت شاید جارحیت کی سیاست سے تھوڑا پیچھے ہٹنا چاہ رہی ہے۔ اس کی واضح مثال ہمیں اسلام آباد دھرنے کی کال کے بعد دکھائی دی ہے۔ جہاں بشری بی بی کے علاوہ زیادہ تر سیاسی رہنما اس توانائی کے ساتھ جارح مزاج احتجاج کے حق میں نہیں تھے۔‘
تاہم سیاسی تجزیہ کار وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ چوہدری پرویز الٰہی تحریک انصاف کے صدر ہیں اور ان کی ساری زندگی کی سیاست موجودہ طرز سیاست سے مختلف رہی ہے اور بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اس انتظار میں ہیں کہ حالات کوئی کروٹ بدلیں تو پھر وہ ایک مؤثر طریقے سے دوبارہ اپنی سیاست کا آغاز کریں۔
وجاہت مسعود کے مطابق چودھری پرویز الٰہی جو سمجھ کر تحریک انصاف میں گئے تھے ان کی وہ امیدیں پوری نہیں ہوئیں۔ وجاہت مسعود کا مزید کہنا ہے کہ جب 2022 میں تحریک عدم اعتماد آ رہی تھی اس وقت چوہدری پرویز الٰہی پی ڈی ایم اور تحریک انصاف دونوں سے رابطے میں تھے تاہم اس کے بعد چوہدری پرویز الٰہی نے ایک فیصلہ لیا جس فیصلے کے اثرات آج تک ان کا پیچھا کر رہے ہیں۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ جس طرح سے اس وقت سیاست ہو رہی ہے جس میں بہت زیادہ معاملات حدت اختیار کر چکے ہیں تو ایسی سیاست خود چوہدری پرویز الٰہی کے مزاج کے مطابق نہیں ہے۔‘ اس لئے انھوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
