یوتھیوں کے مطالبے کے باوجود PTI اسلام آباد کی جانب مارچ سے انکاری کیوں؟

 

 

 

پی ٹی آئی کی قیادت پر کارکنوں کی جانب سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیلئے دباؤ بڑھنے لگا ہے۔ تاہم ریاست کے اصل فیصلہ سازوں نے طے کر لیا ہے کہ اگر تحریک انصاف کی جانب سے دوبارہ 9 مئی 2023 یا 26 نومبر 2024 جیسے پرتشدد واقعات دہراتے ہوئے اسلام آباد پر لشکر کشی کی کوشش کی گئی تو اس کے ساتھ تحریک لبیک کی طرز پر نمٹا جائے گا اور تحریک انصاف کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ مقتدر حلقوں کی جانب سے اسلام آباد پر دھاوا بولنے کے حوالے سے دوٹوک مؤقف اپنانے کے بعد پی ٹی آئی قیادت وفاقی دارالحکومت کی جانب احتجاج کرنے سے گریزاں ہے۔

ذرائع کے مطابق دھلائی اور ٹھکائی کے خطرے کی وجہ سے کارکنوں کے مطالبات اور پشاور و کوہاٹ جلسے میں ڈی چوک کے نعرے لگنے کے باوجود پی ٹی آئی قیادت لانگ مارچ کا اعلان نہیں کر سکی اور ان نے سارا مدعا علامہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی پر ڈال دیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے احتجاجی تحریک بارے تمام معاملات کا اختیار علامہ ناصر عباس اور محمود اچکزئی کو دے رکھا ہے اس لئے اب وہی عمران خان کی مشاورت سے لانگ مارچ کے بارے میں حتمی فیصلہ یا اعلان کر سکتے ہیں، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو اصل خطرہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے ہے وہ نہیں چاہتے کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے بعد 9مئی یا 26نومبر والے حالات دوبارہ بنیں اور ان پر سیاسی راستے بالکل ہی بند کر دئیے جائیں اسی لئے پی ٹی آئی رہنما دعوے کرنے کے باوجود اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کی تاریخ دینے سے انکاری ہیں۔

 

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے پشاور اور کوہاٹ میں منعقد ہونے والے جلسوں میں تحریک انصاف کے کارکن پارٹی رہنماؤں کی تقاریر کے دوران ڈی چوک، ڈی چوک کے نعرے لگاتے رہے۔ کارکنوں کا مطالبہ تھا کہ اسٹیج سے اعلان کیا جائے کہ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کیا جائے گا اور اس کی تاریخ بھی دی جائے۔ تاہم تقاریر کے دوران کسی بھی پارٹی رہنما نے ڈی چوک میں دھرنے یا احتجاج کی کال یا تاریخ نہیں دی۔ وزیر اعلیٰ نے کوہاٹ جلسے میں صرف اس بارے میں سرسری بات کی، جس پر کارکنوں میں شدید بے چینی پھیل گئی۔ جلسے سے روانگی کے وقت بیشتر کارکنان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے صوبے میں اپنی ہی حکومت کے سائے تلے اس طرح کے احتجاجی پنڈال سجانا دیواروں سے سر ٹکرانے کے مترادف ہے۔ اگر تحریک انصاف کو واقعی وفاقی حکومت سے اپنے مطالبات منوانے ہیں یا بانی پی ٹی آئی کو جیل سے رہائی دلوانی ہے تو پھر اسلام آباد میں دھرنے، احتجاج اور ڈی چوک پہنچنے کی کال دینی ہو گی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے معاملے پر شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ 7 دسمبر کو پشاور اور 14 دسمبر کو کوہاٹ میں منعقدہ جلسوں میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی تقاریر کے دوران کارکنان کی جانب سے بار بار ڈی چوک اور اڈیالہ کے نعرے لگائے گئے، جو اس امر کی علامت ہے کہ کارکنان کی جانب سے اسلام آباد لانگ مارچ کے مطالبے میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ تاہم اس دباؤ کے باوجود پی ٹی آئی ابھی تک باقاعدہ لانگ مارچ کا اعلان نہیں کرسکی۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق عمران خان نے اس معاملے پر علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو خصوصی ٹاسک دے رکھا ہے اور لانگ مارچ سمیت اڈیالہ جیل جانے یا کسی بڑے احتجاجی اقدام کے

اعلان کا اختیار بھی انہی کے پاس ہے۔ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی بات چیت یا مذاکرات کی ذمہ داری بھی ان کو ہی سونپی گئی ہے۔

 

پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کا سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ بنانے کا بنیادی مقصد ریاستی مشینری کو استعمال کرتے ہوئے اسلام آباد پر دوبارہ دباؤ یا چڑھائی کے لیے استعمال کرنا تھا، کیونکہ سابق وزیراعلیٰ گنڈاپور اس پر آمادہ نہیں تھے۔ تاہم اب سہیل آفریدی بھی اس منصوبےسے پیچھے ہٹتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ سویلین و عسکری قیادت یہ واضح کر چکی ہے کہ اسلام آباد پر لشکر کشی ریاست کی نئی ریڈ لائن بن چکی ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

PTI کے کوٹ لکھپت گروپ کی اڈیالہ گروپ کی پالیسیوں کیخلاف بغاوت

حکومتی حلقوں نے اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ انتشار کی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے اور ریاست اب ’’سافٹ سٹیٹ‘‘ کی بجائے ’’ہارڈ سٹیٹ‘‘ پالیسی اپنا چکی ہے۔ ٹی ایل پی پر پابندی کی مثال دیتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف نئی پالیسی کا مظہر ہے بلکہ ان عناصر کے لیے پیغام بھی ہے جو دوبارہ تشدد کرنے یا انتشار پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چونکہ وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا عمران خان کی رہائی کے نام پر اسلام آباد کی طرف پیشقدمی کا منصوبہ رکھتے ہیں، اس لیے ریاستی سطح پر بھی مکمل تیاری موجود ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 جیسے سازشی منصوبے پہلے بھی ناکام ہوئے تھے اور آئندہ بھی ایسے اقدامات کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔ انکے مطابق اس مرتبہ اگر سہیل آفریدی نے اسلام آباد پر لشکر کشی کی کوشش کی تو ریاست آخری حد تک جانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ ذرائع نے کہا کہ اسلام آباد پر کوئی بھی نئی پیشقدمی وفاق کو جوابی کارروائی اور اپنے تیار کردہ منصوبے پر عمل درآمد کا مکمل جواز فراہم کر دے گی۔ جس کے تحت نہ صرف خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کر دیا جائے گا بلکہ پی ٹی آئی پر بھی بحیثیت جماعت پابندی عائد کر دی جائے گی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشت گردی اور امن و امان کے شدید بحران کا شکار ہے، جبکہ صوبائی حکومت کی ترجیحات امن کے قیام کے بجائے سیاسی معاملات دکھائی دیتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ صوبائی حکومت داخلی یا خارجی خطرات پر قابو نہ پا سکے تو آئین وفاق کو مداخلت کا اختیار دیتا ہے، جسکے تحت ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔

Back to top button