پی ٹی آئی کا 24 نومبر کا احتجاج کامیاب ہونے کا امکان کیوں نہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ قیدی نمبر 804 نے امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے فورا بعد اسلام آباد پر چڑھ دوڑنے کی فائنل کال تو دے دی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی احتجاج کی سٹریٹیجی ناکام ہو چکی ہے اور اگر 24 نومبر کا دھرنا ہوا تو اسکا نتیجہ بھی ماضی سے مختلف نہیں نکلے گا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی سوال کرتے ہیں کہ اگر چنگیز خان اور ہلاکو خان کے درمیان الیکشن ہو تو آپ کسے ووٹ دیں گے؟ چلیے ان سب کو بھی چھوڑیے، یہ بتائیے کہ اگر ایوب خان اور یحییٰ خان میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو آپ کسے چنیں گے؟ ایک شو کیس میں ’’حق‘‘ سجا ہوتا، اور ایک میں ’’باطل‘‘ تو ہم جیسوں کو کتنی سہولت ہو جاتی، مگر افسوس ایسا نہیں ہے۔ دنیا کی ہر جنگ کی دو کہانیاں ہوا کرتی ہیں۔ اور سیاست تو ویسے بھی حق و باطل کی جنگ نہیں ہوا کرتی، سیاست تو سیدھا سیدھا دو برائیوں میں سے کم تر برائی چننے کا عمل ہے۔

حماد غزنوی کے بقول مشاہدہ بتاتا ہے کہ ملکی سیاست پر بات کرتے ہوئے اکثر آوازیں یک دم غراہٹوں میں بدل جاتی ہیں۔ گرد و و پیش پر نظر دوڑائیں تو اڈیالہ جیل کے اسیر نے حکومت کے دھڑن تختے کیلئے ایک اور تاریخ داغ ڈالی ہے، انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ’’مارو یا مر جائو‘‘ کا وقت آن پہنچا ہے ، 24 نومبر ’’حقیقی آزادی‘‘ کا دن ہے۔ اس حتمی تاریخ کی غایت بارے کئی باتیں سنتے ہیں، یعنی فیض حمید کا اقبالی بیان فضا میں گونجنے کو ہے، فوجی عدالتوں کے سائے اڈیالہ تک دراز ہونے والے ہیں، کہیں سے عمران اور فوج کے درمیان رابطوں کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔

لیکن حماد غزنوی کہتے ہیں کہ یہ سب تو پسِ پردہ سرگوشیاں ہیں، پردے پر منظر کچھ یوں ہے کہ عمران کے ’جگری‘ یار ٹرمپ امریکا کا صدارتی انتخاب جیت گئے ہیں اور پی ٹی آئی کے دوست واشنگٹن رُو ہو کر مناجات آغاز کر چکے ہیں، انہیں یقین ہیں کہ نالوں کا جواب آخر آنے کو ہے۔ عمران کی ’فائنل‘ کال کے مخاطب بالخصوص اوور سیز پاکستانی بھی ہیں، یعنی چھبیسویں ترمیم اور عدلیہ سے امداد کی امید ختم ہونے کے بعد عمران اس معاملے کو بیرونی دبائو سے حل کرنے کی سرتوڑ کوشش میں ہیں۔ لیکن مرکزی نقطہ اب بھی وہیں کا وہیں ہے، کیا پی ٹی آئی اپنے دو چار لاکھ حامی سڑکوں پر لا سکتی ہے؟ اور کیا وہ مظاہرین پُر تشدد ہو سکتے ہیں، اور کیا خان صاحب کو حسب توقع کچھ لاشیں میسر آ سکتی ہیں جو بڑے پیمانے پر سیاسی انارکی کا نقطہء آغاز بن سکیں؟

دوسری جانب عوام، بالخصوص پنجاب کے غیور، اب تک اس ’جہاد‘ میں شامل ہونے پر تیار نظر نہیں آتے۔ خان صاحب کی پارٹی خود انتشار کا شکار ہے، قیادت تھکی ہوئی ہے، ڈری اور سہمی ہوئی ہے۔ اندازہ لگائیے کہ پی ٹی آئی کی احتجاجی کمیٹی کے نام تک خفیہ رکھے گئے ہیں، ایسا تو حماس اور حزب اللہ والے بھی نہیں کرتے۔ خان صاحب کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی عرف پنکی پیرنی بھی باقاعدہ سیاست میں قدم رنجہ فرما چکی ہیں اور 24 نومبر کے احتجاج کو کامیاب بنانے کے لیے اپنے اراکین اسمبلی کو بالمشافہ دھمکیاں دیتی سنائی دیتی ہیں۔

حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا بڑا حصہ اس مہم جوئی سے گھبرا رہا ہے اور 24 نومبر کو اسلام اباد میں احتجاج کے حق میں نہیں، بشری بی بی کی جانب سے پارٹی کے ہر ایم پی اے کو پانچ ہزار اور ایم این اے کو 10 ہزار لوگ اسلام اباد لانے کا ٹاسک ملنے کے بعد مقامی قیادت پریشان ہے اور یہ بوجھ اٹھانے سے خائف ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پچھلے تین ماہ کے دوران اسلام آباد میں احتجاج کی جو تین ناکام کالز دی گئی ان میں سے کسی ایک میں بھی شرکا کی کل تعداد 10 ہزار نہیں ہو پائی تھی، لہازا تحریک انصاف کے اراکین کو دیا جانے والا ٹاسک غیر حقیقی قرار دیا جا رہا ہے۔

فوج کے انکار کے بعد PTI کی حکومت سے رعایت لینےکی کوشش

حماد غزنوی کے بقول دوسری طرف حکومت اور اس کے پشتی بان بھی معرکے کیلئے ہر حد تک جانےکیلئے تیار ہیں،ان کے سٹیک بہت بڑے ہیں، کیوں کہ عمران تو صاف لفظوں میں کہہ رہے ہیں کہ حکومت ان کے حوالے کر دی جائے ورنہ وہ یہ حکومت بلکہ یہ پورا سسٹم الٹانے کیلئے ہر جتن کریں گے۔ الیکشن 2024 کے بعد سے اب تک کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اب تک عمران کی جارحانہ سیاسی حکمتِ عملی انہیں رہائی نہیں دلا سکی، ان کی جیل لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ اتنے عرصے میں لچک دار اور انا سے پاک دماغ اپنے اور اپنی جماعت کیلئے کوئی راستہ نکال سکتا تھا، پارٹی کو مجتمع کر سکتا تھا، اور ایک دفعہ پھرایوانِ اقتدار کی طرف پیش قدمی آغاز کر سکتا تھا، جیسا کہ نواز شریف نے کر کے دکھایا تھا۔ مگر بہرحال عمران خان تو عمران خان ہیں جو آخری خبریں آنے تک پوری رفتار سے ٹکر مارنے کیلئے بیل کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ چلتے چلتے یہ بتاتے جائیے کہ آپ نے پھر کیا فیصلہ کیا، آپ کس کے ساتھ ہیں… اب یہ نہ کہہ دیجیے گا کہ ’’میں حق کے ساتھ ہوں۔‘‘

Back to top button