پانچ اگست کو PTI کا سیاسی دھڑن تختہ ہونا یقینی کیوں ہے؟

سیاسی دباؤ، عدالتی شکنجے، اور داخلی خلفشار کی وجہ سے پی ٹی آئی کی 5اگست کی احتجاجی تحریک”علامتی مزاحمت” اور ہومیوپیتھیک احتجاج کی شکل اختیار کرتی نظر آتی ہے۔ پارٹی کے اندر شدید اختلافات، قیادت کی دو عملی، اور کارکنوں کی بے یقینی نے احتجاجی تحریک کو ایک ممکنہ سیاسی شرمندگی میں بدلنے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے 5 اگست کو پی ٹی آئی کا سیاسی دھڑن تختہ ہونا یقینی ہو گیا ہے۔
مبصرین کے مطابق حقیقت میں اس وقت پی ٹی آئی قیادت فیصلہ سازی کے فقدان کی وجہ سے شدید الجھن کا شکار ہے یہی وجہ ہے کہ ابھی تک پی ٹی آئی یہ فیصلہ بھی نہیں کر سکی کہ5اگست کو احتجاج کس نوعیت کا ہو گا کیونکہ جہاں بعض پی ٹی آئی رہنما 9 مئی یا26جولائی کی طرح کی احتجاجی حکمت عملی اختیار کرنے پر بضد ہیں وہیں دوسری جانب ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت مزید کسی مس ایڈوینچر کے حق میں نہیں۔ واقفان حال کے بقول پی ٹی آئی قیادت کے مابین اس حوالے سے مشاورتی عمل جاری ہے تاہم کسی دھما کہ خیز فیصلے کا امکان نہیں۔ اگر دکھاوے کے لیے ایسا کوئی اعلان کر بھی دیا گیا تو وہ محض لفاظی کی حد تک ہوگا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی جانب سے چند روز قبل سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا یہ بیان کہ مجھے تحریک کا مومینٹم نظر نہیں آ رہا” درحقیقت پی ٹی آئی کی موجودہ سیاسی کیفیت کا عکاس ہے۔ تجزیہ کار اور سینیئر صحافی مظہر عباس اس کیفیت کو "سیاسی تھکن اور خوفزدگی کا امتزاج” قرار دیتے ہیں: مظہر عباس کے مطابق "9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کے اندر ایک سنجیدہ خوف بیٹھ چکا ہے، جس کا اظہار ارکان پارلیمنٹ کی بے عملی، قیادت کے اضطراب، اور پالیسی کی غیر یقینی صورت میں ہو رہا ہے۔ عمران خان کو جس ہجوم کی سیاست سے طاقت ملتی تھی، وہ ہجوم اب میدان میں آنے سے گریزاں ہے۔”
مبصرین کے مطابق جہاں ایک جانب پی ٹی آئی سیاسی و ریاستی دباؤ کی زد میں ہے وہیں دوسری طرف خیبر پختونخوا میں پارٹی کی تنظیمی چپقلش مزید واضح ہوتی جا رہی ہے۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور احتجاج کی قیادت کا دعویٰ کر رہے ہیں، دوسری طرف صوبائی صدر جنید اکبر اور ان کے حامی خاموش اختلاف میں مصروف ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ "خیبر پختونخوا میں تنظیمی عہدیداران اور صوبائی حکومت کے درمیان تناؤ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ وہ احتجاجی حکمت عملی پر بھی متفق نہیں ہو پا رہے۔ گنڈا پور کا اپنے وفادار ایم پی ایز پر انحصار اور جنید اکبر کی تنظیمی گرفت، دونوں احتجاج کو بانٹ رہی ہیں۔”
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کا اصل میدانِ جنگ پنجاب ہے، لیکن یہاں کی صورتحال بھی انتشار کا شکار ہے۔ مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کے درمیان بداعتمادی عروج پر ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق دونوں کے درمیان حالیہ جھڑپ اس بات کا اشارہ ہے کہ پی ٹی آئی میں اب صوبائی و مرکزی رابطہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ تجزیہ کار افتخار احمد کے مطابق:”پی ٹی آئی میں قیادت کا بحران اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ کسی ایک فیصلے پر بھی ہم آہنگی ممکن نہیں۔ ہر رہنما اپنی الگ پچ پر کھیل رہا ہے۔ اگر مینارِ پاکستان پر جلسے کی اجازت نہ ملی تو عالیہ حمزہ کو پارٹی کے اندر سے ہی مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا، اور مرکز اس ناکامی کی ذمہ داری قبول نہیں کرے گا۔”
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا اور پنجاب کی طرح سندھ میں بھی احتجاجی تحریک بارے کوئی تیاریاں نظر نہیں آ رہیں۔ 5 اگست کو بھی سندھ میں حسبِ روایت حلیم عادل شیخ کی قیادت میں "فوٹو شو” متوقع ہے، جہاں چند درجن کارکنان شاہراہ فیصل پر نعرے بازی کریں گے اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈال دی جائیں گی۔ اسی طرح بلوچستان میں احتجاج کی کوئی منظم صورت دکھائی نہیں دیتی۔ مبصرین اسے "احتجاجی علامتی موجودگی” قرار دے رہے ہیں جس کا مقصد صرف میڈیا میں تاثر قائم رکھنا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی شاید پہلے ہی احتجاجی تحریک کی اس ممکنہ ناکامی کو بھانپ چکی ہے، اسی لیے تحریک کی ذمہ داری محمود اچکزئی کی جماعت ’تحفظ آئین پاکستان‘ کے کاندھوں پر ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جنید اکبر پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ: "تحریک انصاف کا 5 اگست کا احتجاج دراصل تحفظ آئین پاکستان کی قیادت میں ہوگا، اور تمام فیصلے بھی وہی کریں گے۔” تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی کے مطابق:”یہ ایک روایتی ’فیس سیونگ‘ حکمت عملی ہے۔ اگر احتجاج کامیاب ہو گیا تو پی ٹی آئی دعویٰ کرے گی کہ ہم حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے میں کامیاب رہے تاہم اگر احتجاج ناکام ہوا تو سب کچھ اچکزئی کے سر ڈال دیا جائے گا۔”
عمران کی PTI کوئی کمال دکھانے میں کامیاب کیوں نہیں ہو رہی؟
مبصرین کے مطابق حقیقت میں تحریک انصاف اس وقت بدترین سیاسی انتشار، قائدانہ تضاد، تنظیمی بے ربطی، اور ریاستی خوف سے دوچار ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اب ہومیوپیتھک احتجاج کی حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہے۔ ناقدین کے بقول احتجاجی جذبہ، جو کبھی پی ٹی آئی کا سب سے بڑا ہتھیار تھا، اب خوف اور تقسیم کا شکار ہے۔ ایسے میں 5 اگست کا دن صرف ایک اور تاریخ ہو سکتا ہے، جو ناکام کالز اور لفاظی کے ملبے میں دفن ہو جائے گا۔
