پاسداران انقلاب کی وجہ سے ایران میں ریجیم چینج ممکن کیوں نہیں؟

 

 

 

اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کی مین سٹریم سیاسی اور عسکری قیادت کو ختم کرنے کی کوششوں کا بنیادی مقصد وہاں ریجیم چینج کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے، تاہم دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک ایران میں پاسداران انقلاب اور اس کی قیادت موجود اور سلامت ہے، وہاں حکومت تبدیل ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

 

پاسداران انقلاب یا ایرانی انقلابی فورس 1979 میں امام خمینی کی زیر قیادت انقلاب کے بعد تشکیل دی گئی تھی جو صرف سپریم لیڈر کو جوابدہ ہوتی ہے۔ اس فورس کی بنیادی ذمہ داری بیلسٹک میزائلوں کی مدد سے ملک کا دفاع کرنا ہے۔ ایران کے سپریم کمانڈر کی حفاظت کی ذمہ دار یہی فورس ہوتی ہے۔ یہ فورس اب دوبارہ توجہ کا مرکز ہے کیونکہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی فضائی حملوں کی مہم کے آغاز کے بعد مشرق وسطیٰ کے چھ ممالک میں اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

 

پاسداران انقلاب اسلامی انقلاب کے نتیجے میں ایک ایسی فورس کے طور پر ابھری جس کا مقصد ملک کی مذہبی قیادت اور اسلامی نظام کا تحفظ کرنا تھا۔ بعد ازاں اس نے ایران کی باقاعدہ مسلح افواج کے متوازی کام کرنا شروع کیا اور 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ طویل اور تباہ کن جنگ کے دوران اسکی عسکری اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں اس نے نہ صرف جنگی تجربہ حاصل کیا بلکہ ریاستی ڈھانچے میں اپنی جڑیں بھی مضبوط کیں۔ اگرچہ ایران عراق جنگ کے بعد بعض حلقوں میں اس فورس کے ممکنہ خاتمے پر بات ہوئی، لیکن سپریم لیڈر خامنہ ای نے اس کے اختیارات اور دائرہ کار میں مزید توسیع کر دی۔ اس فیصلے کے بعد پاسداران انقلاب نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی اور معاشی میدان میں بھی ایک طاقتور ادارے کے طور پر ابھری۔

 

پاسداران انقلاب کی معاشی سرگرمیاں بھی غیر معمولی حد تک وسیع ہیں۔ یہ خاتم الانبیا کے نام سے ایک بڑی تعمیراتی کمپنی چلاتی ہے اور اسکے زیر انتظام ایسی کمپنیاں بھی کام کرتی ہیں جو سڑکوں کی تعمیر، بندرگاہوں کے انتظام، ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کی فراہمی اور یہاں تک کہ لیزر آئی سرجری جیسی طبی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ اس معاشی نیٹ ورک نے اسے ایرانی معیشت میں ایک بااثر قوت بنا دیا ہے۔ اس فورس کا ایک اہم اور متنازع شعبہ قدس فورس ہے، جو بیرونِ ملک خفیہ آپریشنز کی نگرانی کرتی ہے۔ قدس فورس نے خطے میں ایران کے محورِ مزاحمت کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس نے شام کے سابق صدر بشار الاسد کی حکومت، لبنان کی تنظیم حزب اللہ، یمن کے حوثی باغیوں اور دیگر گروہوں کی مدد کی۔2003 میں عراق پر امریکی قیادت میں حملے کے بعد اس نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں مزید وسعت آئی۔

 

امریکی حکام کا الزام ہے کہ پاسداران انقلاب نے عراقی عسکریت پسندوں کو امریکی فوجیوں کے خلاف سڑک کنارے نصب کیے جانے والے بم تیار کرنے اور استعمال کرنے کی تربیت دی۔ اسی طرح اسرائیل اور حماس کی حالیہ جنگ کے بعد اسرائیلی حکام نے بعض افراد کو ایران سے ہدایات لینے کے الزام میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

پاسداران انقلاب کا انٹیلی جنس ونگ بھی خاصا سرگرم سمجھا جاتا ہے۔ اس کی خفیہ سروسز پر دوہری شہریت رکھنے والے افراد اور مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والوں کی گرفتاریوں اور بند کمرے کی سماعتوں میں جاسوسی کے مقدمات چلانے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

 

تجزیہ کار بتاتے ہیں کہ شام میں دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے نے تہران اور پاسداران انقلاب کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا، کیونکہ یہ ایران کا اہم علاقائی اتحادی تھا۔ اسکے بعد اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست میزائل حملوں کا تبادلہ ہوا، جس کی نگرانی پاسداران انقلاب نے کی۔ جون میں اسرائیل نے ایران کے خلاف وسیع فضائی حملوں کی مہم شروع کی، جس کے پہلے ہی دن اعلیٰ جنرل مارے گئے اور بیلسٹک میزائل ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حال ہی میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیانات نے اس بحث کو جنم دیا کہ آیا پاسداران انقلاب مکمل طور پر مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہے یا اسے عملی خود مختاری حاصل ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ حقیقت میں یہ فورس براہ راست سپریم لیڈر کے ماتحت کام کرتی ہے اور ایران کی سٹریٹجک پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی حکمت عملی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اگر اس کی سرزمین یا قیادت کو نشانہ بنایا جائے تو وہ خطے میں براہ راست یا بالواسطہ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاسداران انقلاب اسی حکمت عملی کا عملی چہرہ ہے۔ ایران اسے اپنے دفاع کا حق قرار دیتا ہے، چنانچہ اس وقت اسرائیل اور مشرق وسطی میں امریکی فوجی اڈوں پر جو میزائل حملے کیے جا رہے ہیں ان کے پیچھے پاسداران انقلاب ہے۔

صدر ٹرمپ کو پچھتانا کیوں پڑے گا؟ حامد میر کی وارننگ

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک پاسداران انقلاب اپنی موجودہ طاقت اور اثر و رسوخ کے ساتھ قائم ہے، ایران کی داخلی سیاست اور علاقائی پالیسی پر اسکی گرفت برقرار رہے گی اور امریکہ اور اسرائیل کا ایران میں ریجیم چینج کا خواب پورا نہیں ہوگا۔

 

Back to top button