سرفراز بگٹی کی وزارت اعلی دوبارہ خطرے میں کیوں پڑ گئی؟

 

 

 

گزشتہ کئی برسوں سے بدامنی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار صوبہ بلوچستان ایک بار پھر سیاسی ہلچل کی زد میں ہے، جہاں اب وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی مدتِ اقتدار سے متعلق تنازعے نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں ڈھائی، ڈھائی سالہ حکومتی فارمولے کی بازگشت نے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایک جانب مسلم لیگ (ن) اس فارمولے کی تصدیق کرتی نظر آتی ہے، تو دوسری طرف پیپلز پارٹی اسے یکسر مسترد کرتے ہوئے بگٹی حکومت کی مکمل آئینی مدت کی یقین دہانی کرا رہی ہے۔ لیگی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کو صرف ڈھائی برس کے لیے اس عہدے پر فائز کیا گیا تھا جبکہ بقیہ ڈھائی برس کے لیے وزارتِ اعلیٰ مسلم لیگ (ن) کو سونپنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ تاہم پیپلز پارٹی رہنماؤں کے مطابق ڈھائی سالہ فارمولہ صرف سیاسی شوشہ ہے، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی اپنی 5 سالہ مدت پوری کریں گے اور اتحادی جماعتوں سمیت سب ان کے ساتھ تھیں، ہیں اور ساتھ ہی رہیں گی۔

 

تاہم مبصرین کے مطابق نون لیگ اور پیپلز پارٹی رہنماؤں میں یہ اختلاف صرف ایک عہدے تک محدود نہیں بلکہ مخلوط حکومت کے اندر اعتماد کے فقدان کا عکاس ہے۔ صوبے میں جاری سیاسی قیاس آرائیوں نے نہ صرف حکومتی استحکام کو زیرِ بحث لا کھڑا کیا ہے بلکہ اتحادی جماعتوں کے درمیان ممکنہ اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔دو سال مکمل ہونے کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا واقعی اقتدار کی تقسیم کا کوئی خفیہ معاہدہ موجود ہے یا یہ محض سیاسی دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی ہے۔ایسے میں اصل سوال یہی ہے کہ کیا بلوچستان میں اقتدار کی بساط ایک بار پھر پلٹنے والی ہے، یا یہ تمام تر بحث محض سیاسی منظرنامے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی ایک چال ہے؟ مبصرین کے بقول آنے والے مہینے اس معمہ کو حل کرنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان کی سیاست ہمیشہ سے غیر متوقع موڑ لینے کے لیے جانی جاتی ہے، جہاں سیاسی اتحاد، مفاہمتیں اور اقتدار کے فارمولے اکثر بدلتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے میں وقتاً فوقتاً حکومت کی تبدیلی یا اقتدار کی تقسیم سے متعلق قیاس آرائیاں جنم لیتی رہتی ہیں۔ اس وقت بھی کچھ ایسی ہی صورتحال سامنے آ رہی ہے، جہاں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی حکومت کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ موجودہ صوبائی حکومت تقریباً دو سال مکمل کر چکی ہے اور اسی تناظر میں ایک بار پھر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان حکومت سازی کے وقت ڈھائی، ڈھائی سالہ اقتدار کی تقسیم کا کوئی معاہدہ طے پایا تھا یا نہیں۔ اس مبینہ فارمولے کے مطابق ابتدائی ڈھائی سال کے لیے وزارتِ اعلیٰ پیپلز پارٹی کے پاس رہنی تھی، جبکہ باقی مدت کے لیے یہ منصب مسلم لیگ (ن) کو منتقل ہونا تھا۔

 

اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان ایسا معاہدہ واقعی موجود تھا۔ ان کے مطابق حکومت سازی سے قبل مرکز اور صوبے کی اہم شخصیات نے باہمی مشاورت سے اقتدار کو ڈھائی، ڈھائی سال کے فارمولے کے تحت تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کھیتران کے بقول اگر یہ معاہدہ برقرار رہا تو آئندہ چند ماہ، خصوصاً اگست کے قریب، اس پر عملدرآمد ممکن ہو سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کرے گی۔

بلوچستان کا دورہ: عوام نے سہیل آفریدی کو ٹھینگا کیسے دکھایا

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اس مؤقف کو مکمل طور پر مسترد کرتی دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے بلوچستان میں اقتدار کی تقسیم کے حوالے سے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے مابین کوئی باضابطہ معاہدہ موجود نہیں اور وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کو اتحادی جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت، یعنی پانچ سال، مکمل کرے گی۔ تاہم سیاسی مبصرین کے نزدیک بلوچستان کی سیاست میں وزیر اعلیٰ یا حکومتی تبدیلی کے حوالے سے قیاس آرائیاں کوئی نئی بات نہیں۔ صوبے میں اتحادی حکومتوں کی روایت اور مختلف جماعتوں کے مفادات اکثر ایسے بیانیوں کو جنم دیتے رہتے ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں فوری طور پر کسی بڑے سیاسی بحران کے آثار نمایاں نہیں، کیونکہ اتحادی جماعتیں بظاہر ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے بقول اگر واقعی دونوں بڑی حکومتی اتحادی جماعتوں کے مابین ایسا کوئی معاہدہ موجود ہوتا تو اس کے واضح آثار اب تک سامنے آ چکے ہوتے۔ فی الحال میر سرفراز بگٹی کی حکومت قائم ہے اور اتحادی جماعتیں اس کی حمایت کرتی دکھائی دیتی ہیں، تاہم بلوچستان کی سیاسی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ آنے والے مہینوں میں حالات کسی بھی سمت جا سکتے ہیں۔

Back to top button