شاہ رخ خان دوبارہ ہندو انتہا پسند جماعتوں کے نشانے پر کیوں؟

 

 

 

بھارتی فلم انڈسٹری کے سپر سٹار اور آئی پی ایل کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے مالک شاہ رخ خان ایک مرتبہ پھر انڈیا کی انتہا پسند سیاسی جماعتوں کے نشانے پر آ گئے ہیں۔ اس بار تنازع کی وجہ ان کی کرکٹ ٹیم میں بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو شامل کرنا بنا ہے، جس پر ہندو انتہا پسند جماعت شیو سینا اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں اور شاہ رخ خان پر ’غداری‘ جیسے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔

 

شیو سینا کے ترجمان آنند دوبے نے ایک سخت بیان میں کہا ہے کہ بنگلہ دیشی اور پاکستانی کھلاڑیوں کو انڈین پریمیئر لیگ میں انڈین سرزمین پر کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق یہ کھلاڑی انڈیا کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں لہٰذا کسی بھی بھارتی ٹیم میں ان کی شمولیت ناقابل قبول ہے۔ آنند دوبے نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر شاہ رخ خان نے دباؤ کے باوجود مستفیض الرحمان کو ٹیم سے نہ نکالا تو یہ سمجھا جائے گا کہ انہیں ’قوم کے جذبات‘ کی کوئی پرواہ نہیں۔

 

واضح رہے کہ آئی پی ایل کی حالیہ نیلامی میں بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو 9 کروڑ 20 لاکھ بھارتی روپے میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے خریدا تھا۔ مستفیض اس سے قبل بھی آئی پی ایل میں چنائی سپر کنگز، دہلی کیپٹلز اور سن رائزز حیدر آباد کی نمائندگی کر چکے ہیں اور لیگ کے تجربہ کار غیر ملکی کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی شمولیت کو مذہب اور قومیت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ تنازع صرف شیو سینا تک محدود نہیں رہا بلکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما سنگیت سوم نے بھی شاہ رخ خان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے کھلاڑی کو اپنی ٹیم میں شامل کر رہے ہیں جس کا ملک انڈیا کے خلاف کام کر رہا ہے۔ اے این آئی سے گفتگو میں سنگیت سوم نے یہاں تک کہہ دیا کہ شاہ رخ خان جو کچھ بھی ہیں، انڈیا کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے ایسے لوگوں کو غدار قرار دیا جو قومی مفادات کے خلاف فیصلے کرتے ہیں۔ لیکن ان کے اس بیان پر سیاسی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

 

کانگریس پارٹی نے سنگیت سوم کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی فنکار یا کھیل کے سرمایہ کار کو اس طرح غدار کہنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ سماج میں نفرت کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ کانگریس رہنما منیش ٹیگور نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ شاہ رخ خان کو غدار کہنا دراصل انڈیا پر حملہ ہے اور نفرت کو قوم پرستی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اس تنازع کو مزید ہوا ہندو مذہبی رہنما دیوکنندن ٹھاکر کے بیان سے ملی، جنہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف مظالم کے باوجود شاہ رخ خان جیسے لوگ وہاں کے کھلاڑیوں پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک دھمکی دی کہ مستفیض الرحمان کو ایئرپورٹ سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جسے مبصرین کھلی نفرت انگیزی اور قانون کی عملداری کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ اس معاملے کا پس منظر دیکھا جائے تو بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ حالیہ مہینوں میں بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک ہندو شہری کی ہلاکت کے بعد انڈیا میں ہندو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے شدید احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں، خصوصاً ہندو برادری، کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہی حالات کو بنیاد بنا کر اب کھیل جیسے غیر سیاسی میدان کو بھی سیاسی اور مذہبی تنازعات کی نذر کیا جا رہا ہے۔

 

دوسری جانب مسلمان تنظیموں اور سول سوسائٹی نے شاہ رخ خان کا دفاع کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم جماعت کے صدر مولانا شہاب الدین رضوی بریلوی نے کہا ہے کہ بھارتی مسلمان بھی بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر ہونے والے حملوں پر تشویش رکھتے ہیں، لیکن کسی ایک کرکٹر کو ان حالات کا ذمہ دار ٹھہرانا سراسر ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق شاہ رخ خان کو غدار کہنا دراصل بھارتی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر شدید بحث جاری ہے۔ کئی صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی شمولیت واقعی قابل اعتراض ہے تو پھر آئی پی ایل کی انتظامیہ اور حکومت کو نشانہ کیوں نہیں بنایا جاتا، اور تمام تر نفرت کا رخ صرف شاہ رخ خان کی طرف کیوں موڑا جا رہا ہے۔ ناقدین اسے انڈیا میں بڑھتے ہوئے دوغلے معیار اور مسلمانوں کے خلاف انتخابی سیاست کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔

عمران کے انقلابی کامریڈز کی اسلام آباد میں عیاشیاں جاری

ہاد ریے کہ مستفیض الرحمان کا شمار بنگلہ دیش کے کامیاب فاسٹ بولرز میں ہوتا ہے۔ وہ اب تک 15 ٹیسٹ، 116 ون ڈے اور 126 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیل چکے ہیں اور آئی پی ایل میں ان کی کارکردگی ہمیشہ قابلِ توجہ رہی ہے۔ آئی پی ایل کے نئے سیزن کا آغاز 26 مارچ سے ہو رہا ہے اور ایسے میں اس تنازع نے لیگ کے آغاز سے پہلے ہی ایک سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب شاہ رخ خان کو ان کی شناخت، مذہب یا فیصلوں کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہو، لیکن حالیہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ انڈیا میں انتہا پسند سیاست کس طرح کھیل، فن اور ثقافت کو بھی اپنے ایجنڈے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ تنازع صرف ایک کھلاڑی یا ایک ٹیم تک محدود نہیں بلکہ یہ انڈیا کے سماجی اور سیاسی ماحول میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی عکاسی کرتا ہے۔

Back to top button