شہباز شریف عوام کی بجائے فوج کی نوکری کیوں کر رہے ہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار رئوف کلاسرا نے کہا ہے کہ عوام کی بجائے فوج کی نوکری کرنے والے شہباز شریف جیسے وزیر اعظم کو ایجنسیوں سے اپنا کیریکٹر سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور عوام سے دور ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو موجودہ پارلیمنٹ میں دلچسپی ہو یا نہ ہو، تاہم گزشتہ دو برسوں میں یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف، ان کی کابینہ اور حکمران جماعت کے اراکینِ اسمبلی کو پارلیمنٹ میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔
اپنے سیاسی تجزیے میں رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کا ایک انتہائی بڑا اور ہولناک واقعہ پیش آتا ہے، مگر اس کے اگلے روز ہونے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں وزیراعظم موجود نہیں ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا وزیراعظم کے نزدیک پارلیمنٹ اتنی بھی اہم نہیں کہ وہاں آ کر عوام کے منتخب نمائندوں کو بتایا جائے کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا، اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور کیا کوئی اس ناکامی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
رئوف کلاسرا کے مطابق جس ملک میں اتنا بڑا سانحہ رونما ہو جائے اور اس کے بعد وزیر اعظم نظر نہ آئے تو اس کا واضح مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ خود کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ قومی اسمبلی کے 336 اراکین یا سینیٹ کے تقریباً سو سینیٹرز میں سے کوئی ایک بھی یہ جرأت نہیں کرے گا کہ وہ یہ سوال اٹھا سکے کہ اس موقع پر وزیراعظم کہاں تھے تا کہ قوم کو جواب دیا جا سکے کہ یہ سب کیوں اور کیسے ہوا۔
کلاسرا نے کہا کہ اگرچہ محمود اچکزئی نے اپنی تقریر میں اس معاملے کا ذکر کیا، تاہم انہوں نے بھی پوری کوشش کی کہ ان کی بات سے وزیراعظم کو یہ احساس نہ ہو کہ ان کی کارکردگی پر کوئی سنجیدہ سوال اٹھایا جا رہا ہے یا انہیں ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔ کلاسرا کے مطابق اچکزئی کی جانب سے شہباز شریف اور خواجہ آصف کو بھائی کہہ کر مخاطب کرنا ایک نرم رویہ ہے، مگر اتنے خوفناک معاملے پر بھائی کہہ کر بھی سخت سوال پوچھے جا سکتے تھے، جو ان کی تقریر میں نظر نہیں آئے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جب شہباز شریف نیب کی حراست میں تھے تو ان کی جماعت ہر اجلاس سے قبل شور مچاتی تھی کہ انہیں پروڈکشن آرڈر کے تحت ایوان میں لایا جائے، جس پر اس وقت کے سپیکر اسد قیصر پروڈکشن آرڈر جاری کر دیتے تھے۔ اس دور میں شہباز شریف اجلاس سے قبل ہی ایوان میں موجود ہوتے اور اجلاس کے اختتام تک اپنی مظلومیت کی داستانیں سناتے رہتے تھے۔ ان دنوں ان کی پارلیمنٹ میں حاضری 80 فیصد تک تھی، جبکہ اب یہ حاضری پانچ فیصد سے بھی کم بتائی جا رہی ہے۔ اپنے طویل پارلیمانی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کلاسرا نے کہا کہ وہ 2002 سے پارلیمنٹ کی بیٹ کر رہے ہیں، اس دوران انہوں نے کئی حکومتیں بنتے اور ٹوٹتے دیکھیں، درجنوں وزیراعظم آتے جاتے دیکھے اور متعدد حکمرانوں کے عروج و زوال کے عینی شاہد رہے۔ ان کے مطابق ایک بات تمام وزرائے اعظم میں مشترک رہی ہے کہ وہ صرف تب تک پارلیمنٹ میں آتے ہیں جب تک انہیں وزیر اعظم بننا ہوتا ہے۔ وزیراعظم بننے سے پہلے وہ روزانہ پارلیمنٹ میں موجود ہوتے، گھنٹوں تقاریر کرتے اور قوم کی محبت میں آنسو بہاتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ فوج کے کندھوں پر سوار ہو کر وزیراعظم بن جاتے ہیں، ان کا پارلیمنٹ سے تعلق تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔
رئوف کلاسرا کے مطابق یوسف رضا گیلانی شاید پہلے اور آخری وزیراعظم تھے جنہوں نے اپنے دور میں پارلیمنٹ اور اس کے اراکین کو حقیقی اہمیت دی۔ وہ تقریباً ہر اجلاس میں شریک ہوتے تھے، جس کی وجہ سے وزرا اور اراکینِ اسمبلی بھی ایوان میں موجود رہتے۔ انہوں نے کہا کہ گیلانی صاحب سے اختلافات اپنی جگہ، مگر وہ حکومتی اور اپوزیشن دونوں بنچوں کے اراکین کو یکساں عزت دیتے تھے اور ہر رکن سے اٹھ کر ملتے تھے، جس کا مشاہدہ وہ خود پریس گیلری سے کرتے رہے۔انہوں نے کہا کہ یہی رویہ بعد ازاں یوسف رضا گیلانی کے حق میں اس وقت سامنے آیا جب عمران خان کے دور میں وزیر خزانہ حفیظ شیخ سینیٹ کے انتخابات میں گیلانی سے شکست کھا گئے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ وفاقی حکومت اسلام آباد کی نشست سے اپنا امیدوار کامیاب نہ کرا سکی۔
رئوف کلاسرا کے مطابق گیلانی صاحب کو اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اراکین کے ووٹ بھی ان کی شخصیت اور حسنِ سلوک کی بنیاد پر ملے، حالانکہ وہ 2012 میں نااہلی کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے نکل چکے تھے۔ کلاسرا نے کہا کہ سیاست ایک بے رحم عمل ہے اور اس میں آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کی مثال پوری طرح صادق آتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ نواز شریف نے پارلیمنٹ میں واپسی کے لیے 14 برس کی جدوجہد کی، مگر وزیراعظم بننے کے بعد انہوں نے پارلیمنٹ کا رخ تک نہیں کیا۔ وہ اپنے دور میں تقریباً 400 دن ملک سے باہر رہے، مسلسل آٹھ آٹھ ماہ پارلیمنٹ نہیں آئے اور ایک سال تک سینیٹ میں بھی قدم نہیں رکھا۔ ان کے بقول پارلیمنٹ کو غیر سنجیدہ لینے کی روایت نواز شریف نے شروع کی جسے عمران خان نے اپنے دور میں عروج تک پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے وزیراعظم بننے کے لیے پارلیمنٹ سے ووٹ لیا، مگر اس کے بعد پانچ ماہ تک ایوان میں نظر نہیں آئے۔ انہیں یہ پیغام دیا گیا کہ اراکینِ اسمبلی کو زیادہ اہمیت نہ دی جائے۔ عمران خان کو پارلیمنٹ کے بجائے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید پر زیادہ اعتماد تھا۔ کلاسرا کے مطابق یہ اعتماد ہر وزیراعظم اپنے لگائے گئے جنرلز پر کرتا آیا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کی تو یہ حالت تھی کہ وہ آئی ایس آئی کی جانب سے اپنی نگرانی کے عمل کو سراہا کرتے تھے۔ عمران نے بھی جنرل باجوہ پر ویسے ہی اعتماد کیا تھا جیسے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ضیاء پر اور نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف پر۔
وزیراعظم کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات جلد ہوگی،راناثنااللہ
انکے بقول ہر وزیراعظم یہ سمجھتا رہا کہ اس کے مقرر کردہ جنرلز اس کی نااہلیوں اور کمزور سیاسی حکمت عملی کو تحفظ فراہم کریں گے اور یوں وہ خود کو پارلیمنٹ یا عوام کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے، بلکہ صرف فوج کے سامنے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عمران کہتے رہے کہ آئی ایس آئی کو علم ہے کہ وہ کرپٹ نہیں، جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ خود کو وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی ایک ایجنسی کے سامنے جوابدہ سمجھتے تھے، نہ کہ پارلیمنٹ یا عوام کے سامنے۔
رئوف کلاسرا کے مطابق کسی وزیراعظم کو کسی ایجنسی یا ادارے سے کیریکٹر سرٹیفکیٹ کی ضرورت اسی وقت پیش آتی ہے جب وہ پارلیمنٹ اور عوام سے کٹ چکا ہو، جیسا کہ اس وقت شہباز شریف کی صورتحال ہے۔ دوسری جانب سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے رئوف کلاسرا نے کہا کہ سینیٹ میں انوار الحق کاکڑ کا یہ کہنا کہ عمران خان نے ہزارہ برادری کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہو کر اچھا کیا، ایک تشویشناک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق جب عوام اپنے پیاروں کی لاشیں سڑک پر رکھ کر انصاف مانگیں تو اسے بلیک میلنگ کہنا جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ کلاسرا نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیراعظم عوام سے بلیک میل نہیں ہوگا تو پھر ایک منتخب وزیراعظم اور ایک آمر میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم عوام سے آتا ہے اور انہیں جوابدہ ہوتا ہے، اور جو حکمران یہ سمجھ لے کہ اسے عوام کی پروا نہیں، تو پھر نہ اس کی پھانسی پر قوم کھڑی ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی جلاوطنی یا قید پر۔
