سہیل آفریدی کی وزارت اعلی خطرے میں کیوں پڑ گئی؟

علی امین گنڈاپور کی جگہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ بننے والے سہیل آفریدی کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے، طالبان نواز آفریدی کے خلاف مختلف مقدمات، ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری اور سنگین نوعیت کے الزامات نے نہ صرف ان کی وزارتِ اعلیٰ بلکہ انکی اسمبلی رکنیت کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر ان میں سے کسی ایک بھی کیس میں سزا کے نتیجے میں سہیل آفریدی کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ریاستی اداروں کے خلاف الزامات لگانے کے ایک مقدمے میں اسلام آباد کی مقامی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وزیراعلیٰ کو گرفتار کر کے پیش کیا جائے، جبکہ اس کیس کی اگلی سماعت 10 فروری کو مقرر ہے۔ ادھر پی ٹی آئی لائر ونگ کے مطابق سہیل آفریدی کے خلاف درج مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اور مخالف حکومت انہیں عدالتی معاملات میں الجھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل کا کہنا ہے کہ صوبے میں وزیراعلیٰ کے خلاف کوئی کیس درج نہیں، البتہ اسلام آباد میں مقدمات موجود ہیں۔ شاہ فیصل کے مطابق اس وقت دو مقدمات سہیل آفریدی کے خلاف زیرِ سماعت ہیں۔ ایک کیس اسلام آباد مارچ سے متعلق ہے جبکہ دوسرا حالیہ دنوں میں درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے تاکہ پولیس وزیراعلیٰ کے خلاف درج تمام کیسز کی تفصیلات فراہم کرے، جس پر عدالت نے پولیس کو تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
سہیل آفریدی کے لیے سب سے سنگین معاملہ ریڈیو پاکستان حملہ کیس بنتا جا رہا ہے۔ اس کیس میں سامنے آنے والی ویڈیو کی فرانزک رپورٹ میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی کے مطابق یہ ویڈیو پشاور پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی، جس میں سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی موجودگی واضح ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پولیس نے وزیراعلیٰ کو ایف آئی آر میں نامزد نہ کیا تو وہ عدالت سے رجوع کریں گے۔ اگرچہ پی ٹی آئی لائر ونگ کا دعویٰ ہے کہ ان مقدمات سے سہیل آفریدی کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں ہوگا، تاہم قانونی ماہرین اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔
قانون دان اور ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی کے مطابق ایف آئی آر میں نامزدگی اور عدالتی کارروائی کسی بھی پبلک آفس ہولڈر کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ریڈیو پاکستان کیس میں توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ، تشدد اور حملے جیسی سنگین دفعات شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر الزامات ثابت ہو جائیں اور شواہد مضبوط ہوں تو سزا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ اپنی کرسی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کیس میں عینی شاہدین کے بیانات، ویڈیوز اور فرانزک رپورٹ موجود ہے، اور ماضی میں صرف ویڈیو شواہد کی بنیاد پر بھی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ شبیر حسین گیگیانی کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی مقدمے میں کسی پبلک آفس ہولڈر کو سزا ہوتی ہے تو وہ فوری طور پر نااہل ہو جاتا ہے، اور وزیراعلیٰ کی صورت میں الیکشن کمیشن ان کی اسمبلی رکنیت بھی ختم کر دے گا۔
پشاور کے کورٹ رپورٹر عثمان دانش سہیل آفریدی کے خلاف مقدمات کی عدالتی کارروائی کور کر رہے ہیں، ان کے مطابق ان کیسز کو کسی صورت ہلکا نہیں لیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ریڈیو پاکستان کیس کو زیادہ سنجیدہ نہیں سمجھا جا رہا تھا، تاہم فرانزک رپورٹ آنے کے بعد خود پی ٹی آئی کے وکلا نے بھی اس کیس کو سنجیدگی سے لینا شروع کر دیا ہے۔ عثمان دانش کے مطابق ماضی میں بھی سیاسی نوعیت کے مقدمات سنگین نتائج تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بھی ابتدا میں ایف آئی آر درج ہوئی تھی جو بعد ازاں پھانسی کی سزا پر منتج ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اکثر کیسز میں سزا لوئر کورٹ سے ہی ہو جاتی ہے اور گواہوں و شواہد کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے کئی منتخب نمائندے جلاؤ گھیراؤ، تشدد اور حملوں کے مقدمات میں سزا پا چکے ہیں۔
پاک افغان تجارتی بندش سے KP حکومت کنگال کیوں ہونے لگی؟
قانونی ماہرین کے مطابق سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور این اے ون کے رکن عبداللطیف کو بھی اسی نوعیت کے مقدمات میں سزا ہو چکی ہے۔ عمر ایوب کے حلقے میں دوبارہ انتخابات ہوئے جہاں پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انکا کہنا ہے کہ اگرچہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، اس لیے صوبے میں پولیس کا کردار محدود ہو سکتا ہے، تاہم اسلام آباد اور دیگر شہروں میں درج مقدمات زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ سہیل آفریدی کے خلاف اسلام آباد میں درج دو مقدمات کے علاوہ مزید کیسز بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ سہیل آفریدی کے طاقتور حلقوں سے تعلقات بھی اچھے نہیں، لہٰذا تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حالات یہی رہے تو انکے خلاف درج مقدمات ان کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، جس کا اندازہ خود سہیل آفریدی کو بھی ہو چکا ہے۔
