سوشل میڈیا ٹرولز دوبارہ شہر بانو نقوی کے پیچھے کیوں پڑ گئے ؟

لاہور کے ایک معروف آئی سپیشلسٹ ڈاکٹر علی زین العابدین کی جانب سے پولیس افسر ایس پی شہربانو نقوی پر کروڑوں روپے ہتھیانے اور دھمکیاں دینے سمیت سنگین الزامات عائد کرنےکے بعد خاتون پولیس آفیسر شدید عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔ ایس پی شہر بانو نقوی کی جانب سے الزامات کی تردید کے باوجود سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث جاری ہے اور اس حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم ایس پی شہربانو نقوی پر الزامات لگانے والا ڈاکٹر بڑی مشکل میں پھنستا دکھائی دیتا ہے کیونکہ پولیس حکام نے ایس پی شہر بانو نقوی پر لگائے گئے الزامات جھوٹے ثابت ہونے کے بعد ڈاکٹر علی زین کے خلاف آنے والی دیگر درخواستوں پر انکوائریاں شروع کر دی ہیں۔ جس کے بعد ڈاکٹر زین کا قانونی چارہ جوئی سے بچنا ناممکن نظر آتا ہے۔
واضح رہے کہ علی زین العابدین نامی ڈاکٹر نے ایس پی شہر بانو نقوی پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے مذکورہ ڈاکٹر پر ایک مریضہ کو لاکھوں روپے زرِ تلافی ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ ادھر ایس پی شہربانو نقوی نے خود پر عائد الزام کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ان کی نو مئی 2025 کو دونوں فریقین سے ملاقات ہوئی تھی تاہم اس ملاقات میں پیسوں کا کوئی لین دین نہیں ہوا تھا جبکہ ڈاکٹر پہلے ہی غلطی تسلیم کر کے مریضہ سے معافی مانگ چکے تھے۔
خیال رہے کہ رواں سال مئی میں مریضہ فرحت عباس نے لاہور پولیس کو دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ہمراہ ڈاکٹر علی زین العابدین کے کلینک معمول کے معائنے کے لیے گئیں۔اس معائنے کے بعد ڈاکٹر نےانھیں سرجری کا مشورہ دیا اور یقین دلایا کہ یہ ہی ان کی آنکھوں کی بیماری کا فوری اور موثر حل ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ڈاکٹر کے اصرار پر انھوں نے یہ طریقہ علاج اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ درخواست کے مطابق اس علاج کے لیے انھوں نے چیک اپ کی فیس کے علاوہ ساڑھے تین لاکھ روپے فیس ادا کی تاہم سرجری کے باوجود وہ اور ان کے شوہر شدید تکلیف میں مبتلا رہے۔
فرحت عباس کا مؤقف ہے کہ ڈاکٹر کی مبینہ نااہلی کے باعث انہیں شدید مالی اور ذہنی نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے مطابق ڈاکٹر نے لیزر سرجری سے قبل یقین دہانی کروائی تھی کہ آپریشن کے بعد انہیں عینک کی ضرورت نہیں رہے گی، تاہم علاج کے فوراً بعد ہی انہیں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ فرحت عباس کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اس تکلیف کے بارے میں ڈاکٹر کو آگاہ کیا تو انہیں مسلسل تسلی دی جاتی رہی۔ بعد ازاں انہوں نے پاکستان اور برطانیہ دونوں میں طبی معائنہ کروایا، جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ ان کی عمر اور موجودہ بیماریوں کے پیشِ نظر لیزر سرجری مناسب نہیں تھی اور اسی وجہ سے مزید طبی پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں۔ان کے مطابق جب وہ دوبارہ ڈاکٹر علی زین کے کلینک گئیں تو ڈاکٹر پہلے ہی فیس کی واپسی کا چیک تیار کر چکے تھے، تاہم فرحت عباس کا مطالبہ تھا کہ اضافی علاج کے اخراجات بھی ادا کیے جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پر ڈاکٹر نے نہ صرف معذرت کی بلکہ تحریری طور پر آئندہ علاج کے تمام اخراجات برداشت کرنے کا وعدہ بھی کیا۔
تاہم 27 دسمبر کو ڈاکٹر علی زین العابدین نے لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے واویلا مچا دیا کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بےبنیاد ہیں اور انھیں ایک ’منظم مہم کے تحت ہراساں کیا جا رہا ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ اپریل میں کی جانے والی لیزر سرجری مکمل طور پر کامیاب تھی اور اس حوالے سے تمام طبی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔ ڈاکٹر علی زین کے مطابق مریضہ اور ان کے اہل خانہ نے سرجری سے قبل تحریری رضامندی دی تھی۔ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنی ’ساکھ بچانے کے لیے‘ مریضہ اور ان کے شوہر کی آپریشن کی فیس کی واپسی کی مد میں قریب چار لاکھ روپے کا چیک دیا تھا۔ ’ساتھ اس صفحے پر یہ بھی لکھ کر دیا کہ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو میں اسے دیکھ لوں گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگلے ہی دن ایک ایس ایچ او نے انھیں ایس پی شہربانو نقوی سے ملاقات کا کہا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ بعد ازاں شہربانو نقوی نے ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ مریضہ کو لاکھوں روپے بطور معاوضہ ادا کریں حالانکہ یہ معاملہ طبی نوعیت کا ہے جس کا فیصلہ ’صرف پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل یا کسی مستند میڈیکل بورڈ کو کرنا چاہیے۔‘انھوں نے بتایا کہ پولیس دباؤ کے نتیجے میں انہوں نے مریضہ کو ایک کروڑ روپے مالیت کے تین چیکس دیے، جن میں سے ایک کیش ہو چکا ہے، جبکہ باقی دو کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق اب تک ان سے مجموعی طور پر 75 لاکھ روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ ڈاکٹر علی زین کا کہنا تھا کہ پولیس کا اس نوعیت کے معاملات میں مداخلت کرنا ’نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اس سے طبی شعبے کے ماہرین کو بلیک میل کرنے کا راستہ بھی کھلتا ہے۔‘’اگر یہ سارے فیصلے پولیس نے ہی کرنے ہیں تو ہیلتھ کمیشن کا کردار ختم کر دینا چاہیے۔‘اس موقع پر ڈاکٹر کے وکیل نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے موکل کو طاقتور حلقوں کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے کہ اگر آپ نے معاملہ حل نہ کیا تو آپ کے خلاف ہیلتھ کمیشن میں 10 کیسز تیار ہیں۔
تاہم دوسری جانب ایس پی سٹی شہربانو نقوی کا ڈاکٹر علی زین کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پولیس نے نہ تو کسی قسم کا دباؤ ڈالا اور نہ ہی ڈاکٹر کو ہراساں کیا۔ ایس پی کے مطابق مریضہ کی درخواست پر ابتدائی انکوائری کی گئی تھی اور ’ڈاکٹر کو صرف یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ مریضہ سے بات چیت کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کریں۔‘ ’جرم کا اعترافی بیان اور چیک اس وقت دیے گئے جب کیس ہمارے پاس آیا ہی نہیں تھا۔ وہ کسی مالی لین دین کا حصہ نہیں تھیں۔ دونوں فریقین نے پہلے سے کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد پر اتفاق کیا تھا۔‘دوسری طرف پولیس حکام کے مطابق تاحال کسی فریق کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور معاملہ انکوائری کے مرحلے میں ہے۔ تاہم ڈاکٹر علی زین کے خلاف موصول ہونے والی دیگر شکایات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور اگر کسی قسم کی غفلت یا بدعملی ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
طارق فضل چوہدری کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت
واضح رہے ایس پی شہربانو حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک تنازع کا شکار ہوئی تھیں جب وہ ایک پوڈکاسٹ میں شریک تھیں اور ایس ایچ او کی کال آنے پر انٹرویو چھوڑ کر چلی گئیں۔ تاہم تقریبا ایک گھنٹے بعد وہ واپس آئیں اور ایک قتل کیس کا ذکر کیا جسے پولیس نے حل کیا تھا۔ اس سارے واقعے کو سوشل میڈیا صارفین نے ایکٹنگ اور سٹنٹ قرار دیا تھا۔
