تحریک انصاف مذاکراتی عمل ناکام بنانے پر کیوں تلی ہوئی ہے ؟

190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں عمران خان اور بشری بی بی کو لمبی قید کی سزائیں ملنے کے بعد سے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اور حکومت کے مابین تعطل کا شکار ہو جانے والا مذاکراتی عمل شروع ہو بھی جائے تو یہ کامیاب نہیں ہو پائے گا چونکہ عمران خان کو ریلیف ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین حکومت کو تحریری طور پر وہ شرائط پیش نہیں کر رہے جن کے لیے مذاکرات شروع کیے گئے تھے۔ چنانچہ مذاکراتی عمل بھی آگے نہیں بڑھ پا رہا۔
تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ویسے بھی پارٹی کے اندر مذاکرات کے عمل پر تقسیم اتنی گہری ہو گئی ہے کہ اگر انہیں دوبارہ شروع کیا گیا تو پارٹی میں موجود گروپنگ بے نقاب ہو جائے گی۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات کا مستقبل اس رپورٹ سے جڑ گیا ہے جو حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی آج سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کرینگے، پارٹی چیئرمین گوہر علی خان مذاکرات میں تعطل فوری ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ عمر ایوب خان حکومتی ٹیم کو پیشگی سرنڈر کروائے بغیر مذاکرات بحال کرنے کے خلاف ہیں۔ دوسری جانب حکومتی کمیٹی کے سربراہ عرفان صدیقی نے بھی پی ٹی آئی کو جوابی جھنڈی دکھاتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اگر پی ٹی آئی والے مذاکرات نہیں کرنا چاہتے تو حکومت بھی ان کے منت ترلے نہیں کرے گی چونکہ یہ سارا عمل تحریک انصاف ہی کی خواہش پر شروع کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی کوششوں سے ایک مرتبہ پھر حکومت اور تحریک انصاف کے مابین مذاکراتی عمل بحال ہونے کا امکان پیدا ہوا ہے۔ سپیکر نے اس سلسلے میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ عرفان صدیقی سے مذاکراتی عمل پر پیش رفت رپورٹ مانگی ہے جو حکومتی ٹیم کے ترجمان سینیٹر پروفیسر عرفان صدیققی باضابطہ جواب کی شکل میں 28 جنوری کو جمع کروائیں گے۔ قابل اعتماد پارلیمانی ذرائع نے بتایا ہے کہ عمران خان کو 14 برس قید کی سزا سنائی جانے کے بعد تحریک انصاف میں مذاکرت پر تقسیم مزید گہری ہوگئی ہے۔
بتایا گیا یے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے سپیکر پر واضح کر دیا ہے کہ عدالتی کمیشن کی تشکیل کا اعلان ہوئے بغیر حزب اختلاف کا وفد مذاکرات میں واپس نہیں آئے گا۔ دوسری طرف پارٹی چیئرمین گوہر خان مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔ دونوں نے اپنے اپنے موقف سے سپیکر ایاز صادق کو آگاہ کردیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نےمذاکرات سے فرار کو جمہوریت کے لئے نقصان دہ قرار دیا ہے اور سینیٹر عرفان صدیقی کو ہدایت کی ہے کہ وہ باوقار طور پر مذاکراتی عمل کو برقرار رکھیں۔ تاہم عرفان صدیقی نے بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر حزب اختلاف 28 جنوری کو مذاکرات کے چوتھے دور میں شریک نہ ہوئی تو سپیکر کی جانب سے مذاکراتی کمیٹیوں کو تحلیل کردیا جائے گا۔
پی ٹی آئی مذاکرات کےلیے آتی تو ان کےلیے راستے کھل سکتے تھے : عرفان صدیقی
دوسری جانب مفاہمتی عمل پر یقین رکھنے والے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف کی ٹیم مذاکراتی عمل میں شریک ہو جاتی ہے تو قوی امکان موجود ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کے مطالبات کو یکسر مسترد نہیں کرے گی اور کوئی درمیانی راستہ تجویز کرے گی۔ یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے 9؍ مئی اور 26؍ نومبر کو احتجاج کے دوران ہونے والے واقعات کی جامع تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا تھا، اسکے علاوہ پارٹی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے کہا تھا کہ 9 مئی 2023 یا 24 سے 27 نومبر 2024 کو ہونے والے کسی بھی واقعے میں گرفتار سیاسی قیدیوں کی ضمانت یا سزا معطلی کے احکامات نہ روکے جائیں۔ دوسری جانب حکومتی ٹیم کا اصرار ہے کہ عدالت میں زیر سماعت کیسز بارے جوڈیشل کمیشن نہیں بنایا جا سکتا، تاہم پارلیمانی کمیٹی کے قیام پر غور کیا جا سکتا ہے۔
