27 ویں آئینی ترمیم کو آئین کا قتل عام کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا ہے کہ 27ویں ترمیم دراصل آئینِ پاکستان کے قتل عام کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق یہ ترمیم ملک کی آئینی تاریخ کا سب سے سیاہ باب ہے، جس نے نہ صرف آئین کی روح کو مجروح کیا بلکہ پارلیمانی جمہوریت کی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔

 

زاہد حسین نے روزنامہ ڈان میں اپنے تازہ تجزیے میں کہا ہے کہ پاکستانی تاریخ فوجی آمریتوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے بارہا آئین کو منسوخ یا معطل کیا۔ جنرل ضیاء الحق کے اس قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ’’آئین تو محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے‘‘، انہوں نے لکھا کہ یہ دراصل طاقت کے غرور اور جمہوری اداروں کی تضحیک کی علامت تھا۔ تاہم ان کے مطابق موجودہ صورتحال ماضی کی آمریتوں سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس بار آئین کو کسی فوجی جنرل نے نہیں بلکہ ایک ایسی پارلیمنٹ نے مسخ کیا ہے جس کا عوامی مینڈیٹ خود متنازعہ ہے۔

 

ان کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم نے اقتدار کے تینوں ستونوں کے درمیان توازن کو ہلا دیا تھا، مگر 27ویں ترمیم نے آئین کو ہی قتل کر دیا ہے۔ زاہد حسین کے مطابق پارلیمنٹ میں اس ترمیم کی منظوری ایک کٹھ پتلی تماشے سے کم نہیں تھی۔ بیشتر اراکین کو قانون کا مسودہ پڑھنے کا موقع تک نہیں دیا گیا اور انہیں محض پارٹی لائن کے مطابق ووٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں اس ترمیم کے حق میں مطلوبہ ووٹ اپوزیشن ارکان کی انجینئرنگ کے ذریعے حاصل کیے گئے۔

 

زاہد حسین نے 27ویں ترمیم کو جمہوریت کے لبادے میں آمریت کا تسلسل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس ترمیم نے فوجی بالادستی کو آئینی تحفظ فراہم کر دیا ہے۔ آرمی چیف کو غیر معمولی اختیارات، پانچ سال کی مدت، ممکنہ توسیع اور قانونی استثنا دیا گیا ہے۔ انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے کر ان کے اقدامات کو قانون سے بالاتر قرار دیا گیا ہے۔ یہ استثنا صدرِ مملکت اور دیگر اعلیٰ حکام تک بھی پھیلا دیا گیا ہے، جو کسی جمہوری ملک میں ناقابلِ تصور بات ہے۔ ان کے بقول یہ سب نہ صرف جمہوری اصولوں بلکہ قانون کی حکمرانی کی کھلی نفی ہے۔

 

زاہد حسین نے پارلیمنٹ میں بحث کے دوران وزراء اور حکومتی ارکان کے رویّے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ یہ امر حیران کن تھا کہ تقاریر کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ تحسین سے کیا گیا، جس نے ملک کو 1973ء کا آئین دیا، مگر اسی سانس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ترمیم جمہوریت کو مضبوط کرے گی۔ ان کے مطابق یہ سیاسی منافقت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے کیونکہ جو لوگ آئین کی روح کو قتل کر چکے ہیں وہی جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ بعض سینئر وزراء اور حکومتی اراکین کو خود اس ترمیم کے مندرجات کا علم نہیں تھا۔ ترمیمی بل کو انتہائی خفیہ انداز میں اور تیزی سے منظور کرایا گیا، جو ہمارے جمہوری نظام کی اصلیت کو ظاہر کرتا ہے۔

 

زاہد حسین نے پیپلز پارٹی کے کردار پر شدید تنقید کی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی، جو اتحادی حکومت کا حصہ ہے مگر اقتدار سے باہر رہنے کی حکمتِ عملی پر عمل کر رہی ہے، اس ترمیم کی منظوری میں شریک رہی۔ انہوں نے لکھا کہ جس جماعت نے 1973ء کا آئین دیا، آج وہی اس کے نقصان میں کردار ادا کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ارکان ایوان میں آئین کی تقدیس پر تقاریر کرتے رہے لیکن ان کے عمل نے ان کے بیانات کو جھوٹا ثابت کر دیا۔

 

انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کے اس مؤقف کو بے بنیاد قرار دیا کہ آئینی عدالت کا قیام چارٹر آف ڈیموکریسی کا حصہ تھا۔ زاہد حسین کے مطابق بلاول کا یہ استدلال سیاق و سباق سے ہٹ کر ہے کیونکہ چارٹر آف ڈیموکریسی کا مقصد سول بالادستی اور آئین کی حفاظت تھا، جبکہ 27ویں ترمیم ان دونوں اصولوں کی صریح نفی کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ترمیم نے ملک کو آمریت کی جانب دھکیل دیا ہے اور تاریخ موجودہ قیادت کو ماضی کی قیادت سے بالکل مختلف انداز میں یاد رکھے گی۔

جسٹس امین کا چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت بننے کا امکان

زاہد حسین کے مطابق 27ویں ترمیم کے بعد عدلیہ کی بچی کھچی خودمختاری بھی ختم ہو گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ آئین کے تحفظ کے لیے کیا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ ترمیم وفاق کی وحدت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس نے آئینی اداروں کے درمیان اعتماد کو کمزور کر دیا ہے۔

 

اپنے تجزیے کے اختتام پر زاہد حسین نے لکھا کہ یہ شاید پاکستان کی آئینی تاریخ کا سب سے تاریک لمحہ ہے جب ایک منتخب ایوان نے خود اپنے ہاتھوں سے جمہوریت کے جسم سے آئین کی روح نکال دی۔

 

Back to top button