فوج عمران کو سیاست سے مائنس کیوں نہیں کر پا رہی؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ پچھلے دو برس سے عمران خان کو ملکی سیاست سے ’مائنس‘ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، مگر ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ سیاست سے کوئی سیاست دان مائنس نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی قوت کے استعمال سے وقتی نتائج ضرور حاصل ہوتے ہیں، مگر سیاسی حقیقتوں کو ہمیشہ کے لیے بدلا نہیں جا سکتا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں عمران کے لیے ہمدردی رکھنے والے مظہر عباس کہتے ہیں کہ پتا نہیں ہم تاریخ سے سبق کیوں نہیں سیکھتے۔ کتنا آسان ہے کسی کو غدار کہنا، سکیورٹی رسک قرار دینا، قومی سلامتی کے لیے خطرہ کہنا اور اب تو بات اپنے سیاسی مخالف کو ذہنی مریض قرار دینے تک آ گئی ہے۔ یہ سب اصطلاحیں نئی نہیں ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ جو بات پہلے اخبار تک محدود رہتی تھی، وہ اب سوشل میڈیا کی وجہ سے سرِعام پھیل جاتی ہے۔ مظہر عباس بتاتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل مرحوم نے ان کے ساتھ ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ بے نظیر کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ اور سکیورٹی رسک سمجھنا ریاست کی غلطی تھی، میں نے انہیں ایک محب وطن پایا۔ یہ اعتراف اپنی جگہ مگر بے نظیر بھٹو کو کبھی مکمل سیاسی سپیس نہیں ملی۔ ان سے غلطیاں بھی ہوئیں، مگر انہوں نے ہار نہیں مانی۔ لیکن افسوس کہ انہیں بھی ایک فوجی ڈکٹیٹر کے دور میں شہید کر دیا گیا۔
مظہر عباس سوال کرتے ہیں کہ کیا جنرل مشرف کے دور میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو مائنس کرنے کی کوششیں نہیں ہوئی تھیں؟ پہلے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بے نظیر بھٹو کو مائنس کرنے کے لیے نواز شریف کو آگے لایا گیا، پھر خود نواز شریف کو مائنس کرنے کے لیے عمران خان کو لایا گیا، اور آج عمران خان کو مائنس کرنے کے لیے شہباز شریف استعمال ہو رہے ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا 2002 میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو سیاست سے باہر کرنے کی جنرل پرویز مشرف کی پالیسی کامیاب ہوئی؟ جب اسٹیبلشمنٹ کے یہ تجربات ناکام ہو گئے اور بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے فوج کے ہاتھوں ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے سے انکار کرتے ہوئے لندن میں سال 2006 میں میثاقِ جمہوریت کر لیا تو تیسرے آپشن کے طور پر عمران خان کو چنا گیا۔ یاد رہے کہ جنرل مشرف نے 2002 میں عمران خان کو اپنا گھوڑا بنانے کی بجائے گجرات کے چوہدری برادران کو ترجیح دی تھی جس کے بعد مایوسی اور غصے میں عمران نے مشرف کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
مظہر عباس دعویٰ کرتے ہیں کہ عمران خان 2018 کے الیکشن میں جیسے بھی منتخب کرائے گئے، حقیقت یہ ہے کہ آج وہ پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر ہیں، چاہے یہ بات کسی کو اچھی لگے یا بری۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان بطور وزیراعظم گورننس میں مکمل طور پر ناکام تھے اور ان کا سیاسی گراف نیچے جا رہا تھا لیکن تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزارت عظمی سے فارغ ہونے سے حقیقتاً انہیں سیاست میں نئی زندگی مل گئی۔ آج نہ جنرل باجوہ موجود ہیں اور نہ ہی جنرل فیض، لیکن انہوں نے جس سیاستدان کو بنایا تھا اب اسے فوجی اسٹیبلشمنٹ گرا نہیں پا رہی۔
مظہر عباس کے مطابق اگر 2008 سے سیاسی عمل میں رکاوٹیں نہ ڈالی جاتیں تو ممکن تھا کہ 2018 میں مسلم لیگ (ن) ہی حکومت بناتی اور تحریک انصاف ایک جاندار اپوزیشن رہتی۔ اسی طرح اگر 2024 میں تحریک انصاف کو الیکشن جیتنے دیا جاتا تو کوئی قیامت نہ آ جاتی۔ تاریخی طور پر حکومت میں آ کر ہر جماعت کی مقبولیت کم ہوتی ہے کیونکہ بڑے وعدے پورے نہیں ہو پاتے۔ پیپلز پارٹی کو بھی جب پہلی بار 2008 سے 2013 تک پانچ سال کا اقتدار ملا تو وہ پنجاب سے تقریباً ختم ہو گئی۔ لہٰذا مظہر عباس اصرار کرتے ہیں کہ سیاست میں سے کوئی سیاست دان مائنس نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق سیاست سے مائنس ہمیشہ فوجی جرنیل ہوتے ہیں۔ جہاں تک سیاست دانوں کا تعلق ہے تو جو آج مائنس ہوتا ہے وہ کل پلس بھی ہو سکتا ہے۔
مظہر عباس سوال کرتے ہیں کہ کیا الطاف حسین کو مائنس کر کے ایم کیو ایم پاکستان حقیقی معنوں میں موجود ہے اور کیا وہ ایک ریموٹ کنٹرولڈ جماعت نہیں بن چکی؟ عمران خان کے لیے سیاسی ہمدردیاں رکھنے والے سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ سیاست ایک مسلسل عمل ہے جو اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی۔ جمہوری سوچ رکھنے والا کوئی بھی شخص سیاستدانوں کی غلطیوں سے انکار نہیں کرتا، مگر یہ حقیقت ہے کہ سیاست وہی لوگ کرتے ہیں جنہیں آئین اجازت دیتا ہے۔ اس لیے فیصلہ بھی انہیں اور انہیں ووٹ دینے والے عوام کو ہی کرنے دینا چاہیے۔ یاد رکھیں، نہ درباری سیاستدان عوام میں جگہ بنا سکے اور نہ درباری صحافی۔ لہٰذا آپ چاہے پورا نظام بدل دیں، لیکن سیاستدان پھر بھی مائنس نہیں ہوں گے۔
