اتحادی حکومت اپنی سویلین اتھارٹی کیوں ختم کرنے جا رہی ہے؟

 

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر نے آئین میں ستائیسویں ترمیم کو ایک خطرناک عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب 1973 کا متفقہ آئین برائے نام رہ جائے گا اور رہی سہی سویلین اتھارٹی بھی ختم ہو جائے گی۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ حرکت ایک ایسی سویلین حکومت کر رہی ہے جو کہ خود کو منتخب قرار دیتی ہے۔

 

تحریک انصاف کے لیے ہمدردیاں رکھنے والے کیپٹن ایاز امیر اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ اس ترمیم کا ایک مقصد اعلیٰ عدلیہ یعنی سپریم کورٹ کو غیر سیاسی کرتے ہوئے صحیح راستے پر ڈالنا ہے۔ اس مقصد کیلئے تجویز یہ ہے کہ ایک وفاقی آئینی عدالت بنے جس میں تمام حساس نوعیت کے آئینی معاملات دیکھے جائیں۔ اس سے بھی بڑا مقصد آئین کی شق 243 میں مجوزہ ترمیم ہے۔ جس سے عسکری اداروں کی کمان میں ردوبدل کا عندیہ دیا گیا ہے۔

 

ایاز امیر کہتے ہیں کہ ہماری بات تو کسی نے نہیں ماننی لیکن التجا ہے کہ سپریم کورٹ پہلے ہی 26ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں راہ راست پر آ چکی ہے۔ اس ترمیم کا مقصد جسٹس منصور علی شاہ کا مسئلہ حل کرنا تھا جس میں اسٹیبلشمنٹ کو کامیابی ملی۔ چھبیسویں ترمیم سے ایک آئینی بینچ بھی تشکیل پا گیا اور جس قسم کے بھی آئینی معاملات تھے وہ اُس بینچ کے سامنے آ گئے‘ یعنی بہت ہی خوبصورت انداز سے سپریم کورٹ کی جانب سے درپیش تمام خطرات کا خاتمہ کر دیا گیا۔ آپ ہی پھر فرمائیں کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد مزید کسی ترمیم کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے؟

 

سپریم کورٹ نے کچھ کرنا ہوتا تو 2024 کے انتخابات کے بعد کیا جاتا۔ لیکن عزت مآب چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ہوتے ہوئے ایسا مسئلہ کہاں پیدا ہو سکتا تھا۔ اُن کے جانے کے بعد یہ خطرہ بجا تھا کہ جسٹس منصورعلی شاہ کی جانب سے خطرہ تھا، لیکن چھبیسویں ترمیم سے نہ رہا بانس اور نہ بجی بانسری۔ جسٹس منصور شاہ کا مسئلہ ہی گول ہو گیا اور ایک نئے چیف جسٹس اس سیٹ پر براجمان کر دیے گئے۔ اُن کے منصب سنبھالنے کے بعد انصاف کے تمام تقاضے انتہائی سرعت کیساتھ پورے کیے جار ہے ہیں اور اب کوئی شکایت باقی نہیں رہی۔ چنانچہ استدعا پھر وہی ہے کہ ایسی صورتحال میں جب تمام متوقع خطرات کا راستہ بااحسن خوبی بند کر دیا گیا ہے تو مزید تردد کی کچھ ضرورت نہیں رہتی۔ بہرحال آپ بادشاہ ہیں‘ جو چاہیں کرسکتے ہیں لیکن 27ویں ترمیم بھاری بھرکم تالوں پر مزید تالہ لگانے کے مترادف ہے۔ اس سے ایسا کیا حاصل ہوگا جو پہلے حاصل نہیں ہوسکا؟

 

آئین کے آرٹیکل 243 بارے ایاز امیر کہتے کہ ہماری پوزیشن بھی وہی ہے جو کمال دانشمندی دکھاتے ہوئے پیپلز پارٹی نے اپنا رکھی ہے۔ NFCایوارڈ اور اُس کے بارے میں جو خبریں اُڑرہی تھیں کہ اُس میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں اُن کے بارے میں پیپلز پارٹی نے اپنا مؤقف واضح کیا اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ صوبائی خودمختاری پر کوئی حرف آئے گا تو پیپلز پارٹی اُس کے خلاف ہوگی۔ لیکن اُسی سانس میں پیپلز پارٹی کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ وہ شق 243 کی مجوزہ ترمیم کے حق میں ہے۔ شق 243 کی ترمیم میں یہ درج ہے کہ چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ جنرل ساحر شمشاد کی 27 نومبر 2025 کو ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ختم ہو جائے گا۔اُس کی جگہ آرمی چیف اپنے عہدے کے ساتھ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی کہلائیں گے۔ مزید یہ کہ فوج میں سے اگر کسی شخص کو فیلڈ مارشل کا عہدہ دیا جاتا ہے تو وہ عہدہ معہ تمام مراعات تاحیات رہے گا اور ایسا شخص تاحیات یونیفارم میں ہی رہے گا۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی تعیناتی بطور چیف آف ڈیفنس فورسز 27۔نومبر 2025 سے شروع ہو جائے گی۔

 

کیپٹن ریٹائرڈ ایاز امیر کہتے ہیں کہ آرمی چیف کے عہدے کی پانچ سالہ معیاد تو 26ویں ترمیم میں طے کی جا چکی ہے جس کا مطلب ہے کہ مملکت اسلامیہ کو مجوزہ 2030 تک احساسِ تحفظ حاصل رہے گا۔ تاحیات یونیفارم میں رہنے والا قاعدہ صرف کسی فیلڈ مارشل تک محدود نہیں ہوگا بلکہ کوئی مارشل آف دی ایئرفورس یا ایڈمرل آف دی فلیٹ fleet مقرر ہو تو وہ عہدہ معہ سہولیات تاحیات برقرار رہے گا۔ ایاز امیر کے بقول اس ضمن میں یہی التماس کی جا سکتی ہے کہ موجودہ ایئرچیف کو جلد از جلد مارشل آف دی ایئر فورس مقرر ہونا چاہیے اور بحریہ کے سربراہ کو جلد از جلد ایڈمرل آف دی فلیٹ کا عہدہ ملنا چاہیے۔ اس حوالے سے کی جانے والی مجوزہ ترمیم میں یہ تشریح بھی موجود ہے کہ فیلڈ مارشل‘ مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ قومی ہیرو مانے جائیں گے‘ اور اُنہیں عہدوں سے ہٹایا نہیں جا سکے گا۔ ہماری دانست میں یہ احتیاط بھی کچھ غیر ضروری لگتی ہے کیونکہ قومی ہیرو ہونے کا اعزاز ہو تو کس کمبخت کی مجال ہے کہ اسے ہٹانے کا سوچے بھی۔ بہرحال یہ نازک مسئلے ہیں اور ہم جیسو ں کی رائے کا کوئی وزن نہیں۔

ان بہت ہی خوبصورت ترامیم کے بعد قوم کو یہ جاننے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ موجودہ آئین کو 73ء کا آئین کہنا ایک تکلف ہی رہ گیا ہے۔ اس بے چارے آئین کے ساتھ پہلے ہی بہت ہو چکا ہے لیکن چھبیسویں ترمیم اور پھر اس ترمیم کے بعد اس آئین نے کچھ اور حلیہ ہی اختیار کر لیا ہے۔

 

ایاز امیر کے مطابق ہمارے آئین مرتب کرنے والے بڑے بھولے اور سادہ ثابت ہوئے ہیں۔ آئین میں اُنہوں نے جو فصیلیں کھڑی کی تھیں وہ الفاظ پر مبنی تھیں۔ یعنی غداری پر سزا کے حوالے سے آرٹیکل 6 ڈال کر آئین بنانے والوں نے یہ سمجھا کہ اُنہوں نے بڑا تیر مار لیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اس شق کے ہوتے ہوئے آئین اور آئینی حکمرانی سے کھلواڑ کرنے کا جرنیلی راستہ ہمیشہ کیلئے بند ہوگیا ہے۔ جنرل ضیا الحق نے 5جولائی 1977 کو جب آئین پر چڑھائی کی تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے آرٹیکل 6 پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی ہوگی۔

 

ایک مرتبہ جب ضیا سے آئین کی حرمت بارے کسی نے سوال پوچھا تو اُنہوں بڑی بے شرمی سے فرمایا تھا کہ آئین صرف چند صفحات کا کتابچہ ہے جسے میں جب چاہوں پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک سکتا ہوں۔ اپنی دورِ حکمرانی میں موصوف نے اپنا کہا ہوا سچ ثابت کیا۔

27ویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ ‘سپریم’ کیوں نہیں رہے گی

ایاز امیر یاد دلاتے ہیں کہ جب نصرت بھٹو کیس میں چیف جسٹس انوارالحق نے فیصلہ لکھ دیا تو اُسی رات ایک دعوت میں تب کے اٹارنی جنرل شریف الدین پیرزادہ نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ نے فیصلے میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو آئین میں ترمیم کرنے کا حق تو ضرور دیا ہو گا؟ اس پر چیف جسٹس نے گھبرا کر بتایا کہ میں نے ایسا تو کچھ نہیں کیا۔ شریف الدین پیرزادہ نے جواب میں جسٹس انوار الحق کو بتایا کہ ایک پی سی او آ رہا ہے جس کے تحت ججز کو نیا حلف لینا ہوگا۔ لہذا جسٹس اس دعوت سے سیدھا سپریم کورٹ گئے جو تب پشاور روڈ راولپنڈی پر واقع تھی۔ موصوف نے اپنا دفتر کھلوایا‘ اپنا ٹائپ شدہ فیصلہ منگوایا اور اس میں اضافہ کیا کہ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو الیکشن کے انعقاد کی خاطر آئین میں ترمیم کرنے کا حق دیا جاتا ہے۔ ہماری آئینی تاریخ کچھ ایسی ہی بھیانک ہے لہذا آگے آگے دیکھیے، ہوتا ہے کیا؟

 

 

Back to top button