یوتھیوں کا قومی حکومت کے قیام کا خواب پورا کیوں نہیں ہونے والا؟

چند ماہ سے عمران خان کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے یہ شوشہ چھوڑ رکھا تھا کہ جسٹس منصور علی شاہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنتے ہی الیکشن 2024 کے نتائج کالعدم قرار دے دیں گے اور عمران خان جیل سے باہر آ جائیں گے۔ تاہم جب منصور علی شاہ کی بجائے جسٹس یحیی آفریدی نئے چیف جسٹس بن گئے اور سپریم کورٹ کے اختیارات آئینی بینچ کے پاس چلے گئے تو یوتھیوں نے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا کہ راولپنڈی اور اسلام اباد میں ایک قومی حکومت کے قیام پر غور شروع ہو چکا ہے۔ اسکے ساتھ ہی ساتھ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا بریگیڈ یہ چورن بھی بیچ رہا ہے کہ جنوری میں صدارت کا عہدہ سنبھالتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو رہا کروا دیں گے۔
تاہم راولپنڈی اور اسلام اباد میں موجود باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ 1973 کے ائین میں 26 ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ میں حالیہ ترامیم کے بعد ملک میں کسی بھی سیاسی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں اور موجودہ اتحادی حکومت کو سکون کے ساتھ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے کا موقع دیا جائے گا تاکہ پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام آ سکے۔
سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کا عادل شاہ زیب کا کہنا یے کہ ملک میں رفتہ رفتہ سیاسی استحکام آتا دکھائی دیتا ہے جس سے معاشی استحکام بھی آئے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ بظاہر موجودہ اتحادی حکومت اپنے پانچ برس پورے کرتے دکھائی دیتی یے کیونکہ عمران خان کے جیل جانے کے بعد تحریک انصاف ان کی رہائی کے لیے کوئی موثر تحریک چلانے میں ناکام رہی ہے۔ ایسے میں حکومت کو کوئی بڑا سیاسی چیلنج درپیش نظر نہیں آ رہا۔ عادل شاہ زیب کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کی جانب سے بار بار احتجاج کی کال کے ناکام ہونے کے نتیجے میں اب پارٹی ورکرز بھی مایوس ہو کر گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔ ایسے میں پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا بریگیڈ نے نیا سوشہ چھوڑ دیا ہے کہ ٹرمپ امریکی صدر کا ہوتا سنبھالتے ہی عمران کو رہا کروا دیں گے۔
زیادہ تر مبصرین اس کہانی سے اتفاق نہیں کرتے۔ سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ پہلے امریکہ کے گھمبیر اندرونی مسائل اور معیشت کی بہتری پر توجہ دیں جس وجہ سے انہیں کملا ہیرس کے مقابلے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ خارجہ پالیسی میں بھی اپنی اینٹی وار بیانئے کے تحت ان کی اولین ترجیح یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی شرائط پر جنگ رکوانا ہو گی۔ ساتھ ہی وہ چین کو اپنا اثر رسوخ بڑھانے سے روکنے کی پالیسی پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔
بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے اس تجزیہ کار کہتے ہیں اگر جنوبی ایشیا کی بات کی جائے تو امریکی پالیسی انڈیا سپیسیفک ہے۔ امریکہ چین کو محدود کرتے ہوئے انڈیا کو اپنا سٹریٹجک پارٹنر بنانے کی پالیسی جاری رکھے گا۔ انکے مطابق اگر پاکستان کی بات کی جائے تو افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ کا پاکستان پر انحصار ختم ہو چکا ہے اور دونوں ممالک میں اسی قسم کے دوستانہ تعلقات ہیں، جو ایک سپر پاور آبادی کے لحاظ سے چھٹے بڑے ملک اور ایٹمی طاقت سے رکھنا چاہے گا۔ البتہ اگر ایران کے ساتھ امریکہ کی کشیدگی بڑھتی ہے یا ایران پر براہ راست حملہ ہوتا ہے، تو ایسے میں پاکستان کی سٹریٹیجک اہمیت بڑھ سکتی ہے۔
ایسی صورت حال میں عمران خان کی رہائی ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیحی لسٹ پر ہونے کا صرف خواب ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ عمران کو اپنا دوست سمجھتے ہیں اور وائٹ ہاؤس میں انہیں انتہائی گرم جوشی سے ملے تھے۔ لیکن یہ چورن بیچنے والے بھول جاتے ہیں کہ تب امریکہ افغانستان سے پرامن انخلا چاہتا تھا جو پاکستان کی مدد کے بغیر ناممکن تھا۔ مختصر نتیجہ یہ ہے کہ تب ڈونلڈ ٹرمپ نے عمران خان سے نہیں بلکہ پاکستانی وزیراعظم سے یاری ڈالی تھی چونکہ اسے پاکستان کی ضرورت تھی۔
