مجتبی خامنہ ای کا انتخاب ٹرمپ کے لیے ایک واضح پیغام کیوں ہے؟

امریکی صدر ٹرمپ کی تمام تر دھمکیوں کے باوجود ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ منتخب کر لیا گیا ہے۔ ایرانی قیادت کے اس فیصلے کو واشنگٹن کے لیے ایک واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ٹرمپ نے سخت الفاظ میں دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجتبیٰ کا اپنے والد کا جانشین بنانا امریکا کو ہرگز قبول نہیں ہوگا اور ایران کو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں امریکی مؤقف کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
امریکی صدر نے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ مجتبیٰ خامنہ ای کو بھی اپنے والد کی طرح نشانہ بنا سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی مجلسِ خبرگانِ رہبری کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کرنا دراصل امریکی دباؤ کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ صدر ٹرمپ اس فیصلے پر کس قسم کا ردِعمل دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے مجتبیٰ خامنہ ای کو قبول نہ کرنے کے اعلان کے پیچھے یہ خدشہ کارفرما تھا کہ اگر وہ رہبرِ اعلیٰ بنتے ہیں تو وہ اپنے والد کی سخت گیر امریکہ مخالف پالیسیوں کو مزید شدت کے ساتھ جاری رکھ سکتے ہیں۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک ایسے شخص کے مغرب کے سامنے جھکنے کے امکانات صفر ہیں جس نے اپنے والد، والدہ اور اہلیہ کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں کھو دیا ہو۔ اسی وجہ سے واشنگٹن انہیں ایران کی قیادت میں دیکھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا اعلان سرکاری ٹی وی پر پڑھ کر سنایا گیا جس میں کہا گیا کہ شدید جنگی حالات اور دشمنوں کی براہِ راست دھمکیوں کے باوجود قیادت کے انتخاب کے عمل میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونے دی گئی۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مجلس کے سیکریٹریٹ کے دفاتر پر بمباری کے نتیجے میں عملے اور سکیورٹی ٹیم کے کئی ارکان شہید ہوئے، تاہم اس کے باوجود قیادت کے انتخاب کا عمل جاری رکھا گیا۔رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل کی سمت پہلا میزائل داغا گیا جسے بعض مبصرین نئی قیادت کی طرف سے فوری طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ابتدائی دنوں میں یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں کہ شاید مجتبیٰ خامنہ ای بھی حملوں میں مارے گئے ہیں کیونکہ کئی دنوں تک ان کے بارے میں کوئی واضح اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔ بعد ازاں ایرانی میڈیا نے 3 مارچ کو رپورٹ کیا کہ وہ زندہ ہیں اور اہم قومی فیصلوں میں شریک ہیں، اگرچہ وہ عوامی سطح پر ابھی تک سامنے نہیں آئے تھے۔
ذرائع کے مطابق ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا اختیار رکھنے والی 88 ارکان پر مشتمل مجلسِ خبرگانِ رہبری کے اجلاس کو اس سلسلے میں فیصلہ کن قرار دیا جا رہا تھا اور توقع کی جا رہی تھی کہ نئے سپریم لیڈر کا اعلان آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد کیا جائے گا، تاہم جنگی صورتحال کے باعث اس عمل کو تیز کر دیا گیا۔
مجتبیٰ خامنہ ای 8 ستمبر 1969 کو ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے چھ بچوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ انہوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم علوی اسکول تہران سے حاصل کی۔ ایرانی ذرائع کے مطابق 17 برس کی عمر میں انہوں نے ایران عراق جنگ کے دوران مختصر مدت کے لیے کئی بار فوجی خدمات بھی انجام دیں۔ یہ آٹھ سالہ جنگ ایرانی قیادت کے لیے ایک اہم تجربہ ثابت ہوئی جس کے دوران مغربی ممالک کی جانب سے عراق کی حمایت نے تہران اور مغرب کے درمیان بداعتمادی کو مزید گہرا کر دیا تھا۔ 1999 میں مجتبیٰ خامنہ ای مذہبی تعلیم کے لیے ایران کے مقدس شہر قم منتقل ہوئے جو شیعہ دینی تعلیم کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے تیس برس کی عمر میں مدرسے میں داخلہ لیا اور اس وقت تک مذہبی لباس اختیار نہیں کیا تھا۔ انہیں مذہبی حلقوں میں درمیانے درجے کا عالم دین سمجھا جاتا ہے جو بعض مبصرین کے مطابق ان کے لیے رہبرِ اعلیٰ بننے کی راہ میں ایک ممکنہ رکاوٹ بھی بن سکتا تھا۔
تاہم اس کے باوجود انہیں طویل عرصے سے ایرانی سیاست میں ایک بااثر شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای تک رسائی اکثر مجتبیٰ کے ذریعے ہی ممکن ہوتی تھی اور وہ پسِ پردہ اہم سیاسی فیصلوں پر پوری طرح اثر انداز ہوتے تھے۔ امریکی سفارتی دستاویزات کے انکشافات کرنے والی تنظیم وکی لیکس کی جانب سے جاری کی گئی کیبلز میں انہیں “عبا کے پیچھے موجود طاقت” قرار دیا گیا تھا۔ مبصرین کے مطابق نئے سپریم لیڈر کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کو کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ سب سے بڑا چیلنج اپنی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہوگا کیونکہ موجودہ جنگی صورت حال میں ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں ایران کے سیاسی نظام کو مستحکم رکھنے اور عوام کو یہ یقین دلانے کی ضرورت ہوگی کہ وہ ملک کو موجودہ سیاسی و معاشی بحران سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے سے سارا فائدہ روس کا کیوں؟
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر مجتبیٰ خامنہ ای طویل مدت تک ایران کے رہبرِ اعلیٰ رہتے ہیں تو یہ تاثر بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ ایران کا نظام بتدریج ایک موروثی طرزِ قیادت کی طرف بڑھ رہا ہے، جو ملک کے اندر سیاسی بحث اور عوامی بے چینی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں ایرانی قیادت کا یہ فیصلہ واضح طور پر اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ تہران بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی قیادت کے تعین کا اختیار کسی اور کو دینے کے لیے تیار نہیں۔
