اسٹیبلشمنٹ ‘پراجیکٹ عمران خان لپیٹنے میں ناکام کیوں ہے؟

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی نے کہا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوا کی جانب سے چار سال قبل اپنے شروع کردہ پراجیکٹ عمران خان کو سیاسی طور پر ٹھکانے لگانے کا جو منصوبہ بنایا گیا تھا، وہ تاحال پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا۔ ان کے مطابق اڈیالہ جیل میں قید بانی تحریک انصاف کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کے باعث خان کی مقبولیت کم ہونے کے بجائے برقرار ہے اور وہ سیاسی طور پر زندہ اور متحرک ہے۔

اپنے سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ خان نیازی کہتے ہیں کہ سال 2025ء عالمی اور ملکی سطح پر نئی ہولناک داستانوں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ عالمی منظرنامے پر کئی مواقع پر ایسا محسوس ہوا کہ تیسری عالمی جنگ کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے، جبکہ 2026ء کے آغاز پر بھی خطرات کم ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ وطنِ عزیز کو جن مسائل کا سامنا جنوری 2025ء میں تھا، ان میں مزید اضافہ ہو چکا ہے اور پہلے سے موجود بحران مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ سیاسی بحران سے لے کر دہشت گردی تک ہر طرف ہیجان اور بے یقینی کی کیفیت ہے، جبکہ کسی واضح حل کا سراغ عوام الناس یا میڈیا کے دائرۂ علم میں بھی نہیں۔

عمران خان کے فرسٹ کزن حفیظ اللہ خان نیازی کا کہنا ہے کہ ملکی ہمہ جہتی بحران کی اصل وجہ مسلسل سیاسی عدم استحکام ہے، جو فوج اور بااثر سیاستدانوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ اقتدار اور اختیار کی ہوس نے ملک کو ایک بند گلی میں لا کھڑا کیا ہے، جہاں عوام ایک بحران سے دوسرے بحران میں منتقل ہوتے ہوئے مستقل مشکلات کا شکار ہیں۔

نیازی کہتے ہیں کہ چار سال قبل جب جنرل قمر جاوید باجوا نے اپنے مایہ ناز سیاسی پراجیکٹ عمران خان کو ختم کرنے کا عندیہ دیا تو تب سیاسی افق پر شدید ہلچل پیدا ہوئی۔ تاہم جنرل باجوا اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں ملکی سیاست کا شیرازہ بکھیر گئے اور ملک کو ایسی گہری سیاسی دلدل میں دھکیل دیا جس سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ ان کا کہنا ہے کہ اقتدار اور اپوزیشن، دونوں جانب موجود سیاسی قوتیں اپنے اپنے مفاداتی ایجنڈوں کی اسیر ہو چکی ہیں۔

حفیظ اللہ خان نیازی کے مطابق ذاتی مفادات نے قومی مفادات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، جس کے باعث پورا نظام متزلزل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق خدشہ یہ ہے کہ اگر یہ نظام زمین بوس ہوا تو ریاستی ڈھانچہ بھی شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول گزشتہ مہینوں میں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر جو پذیرائی ملی، اس کے ثمرات سمیٹنے کے بجائے اندرونِ ملک منقسم قوم باہمی تصادم کی راہ پر گامزن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 1970ء کی دہائی کی خون آشام تقسیم بھی آج کی سیاسی عداوتوں کے سامنے ماند پڑتی دکھائی دیتی ہے اور خطرہ ہے کہ یہ نفرتیں کسی بدنما خانہ جنگی کی صورت اختیار نہ کر لیں۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ ایک جانب ریاستی طاقت منظم اور بااختیار ہے، جبکہ دوسری جانب عوامی طاقت بکھری اور بے سمت ہونے کے باوجود انارکی اور انتشار میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ دونوں فریق خود کو حق اور سچ کا علمبردار سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق چونکہ ریاستی طاقت فوج کے پاس ہے، اس لیے قومی مفادات کا تحفظ اس کی اولین ذمہ داری بنتی ہے۔ جنوری 2025ء میں موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی سب سے بڑی ترجیح عمران خان کی مقبولیت ختم کرنا تھی، جو مگر دسمبر 2025ء تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ اس ہدف کو کس طرح حاصل کیا جائے۔

نیازی کے مطابق 2026ء کے آغاز پر نئی ترجیحات کی ایک دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ سہیل آفریدی کے پشاور اور کوہاٹ میں ہونے والے جلسے اور لاہور کا تین روزہ دورہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے، جس سے فوجی قیادت کا حوصلہ بڑھا ہے۔ دوسری جانب عمران خان کی بہنوں کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر دیا جانے والا ٹوکن دھرنا بھی غیر مؤثر ثابت ہوا۔ لگتا یوں یے کہ وقت کے ساتھ یہ احتجاج مدھم پڑتا جائے گا اور عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ یا سوشل میڈیا کا کردار بھی محدود ہو چکا ہے، جو اب فوج کے معمولات کا حصہ بن چکا ہے۔

حفیظ اللہ خان نیازی کے مطابق اس وقت طاقتور فیصلہ سازوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج این ایف سی ایوارڈ میں ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام کے لیے پیپلز پارٹی کا تعاون حاصل کرنا ہے، اگر ایسا نہ ہو سکا تو سال 2026ء میں نئے انتخابات کروا کر اور شہباز حکومت کو دو تہائی اکثریت دلوا کر پیپلزپارٹی کی سندھ سے چھٹی بھی کرائی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چند ہفتے قبل پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کو اس امکان کی بھنک پڑ چکی ہے اور دونوں باہمی تعاون بڑھانے پر غور بھی کر رہے ہیں۔ ایسے میں صدر مملکت آصف علی زرداری کا کردار سب سے اہم ہوگا۔

حفیظ اللہ خان نیازی کے مطابق حکومتی وزرا کی کارکردگی سے اظہار عدم اطمینان کے باعث کابینہ میں قابل اور اہل افراد کی شمولیت پر غور کیا جا رہا ہے، ایک دور رس مگر زیر بحث آپشن یہ بھی ہے کہ انتظامی معاملات مکمل طور پر کسی “اپنے بندے” کے سپرد کر دیے جائیں۔ تاہم ان کے مطابق یہ تمام آپشنز بیک وقت قابلِ عمل نہیں، اور اگر آخری تین میں سے کوئی راستہ اختیار کیا گیا تو عمران خان کے جیل معاملات میں نرمی طویل عرصے تک مؤخر ہو سکتی ہے۔ حفیظ اللہ خان نیازی نے اہلِ اقتدار اور اہلِ اختلاف سے اپیل کی کہ وہ ایک اور راستہ بھی اختیار کریں۔ ان کے مطابق سب کو اپنی غلطیوں کا اعتراف اور ایک دوسرے کو معاف کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ 2026ء کا قومی عزم یہی ہونا چاہیے کہ تمام سیاسی قوتیں اختلافات بھلا کر اکٹھے بیٹھیں، پانچ سال کے لیے قومی حکومت تشکیل دیں، کیونکہ ان کے بقول وطن کی سلامتی کا یہی واحد راستہ ہے، اس کے سوا باقی تمام راستے تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔

Back to top button