روپے کی گرتی قدر پاکستانی معیشت کے لیے بری خبر کیوں؟

 

 

 

امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی قدر نے پہلی مرتبہ خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں، کیونکہ اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ روپیہ غیر فطری دباؤ کے نتیجے میں گرتے ہوئے 250 روپے فی ڈالر تک جا سکتا ہے۔ معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر روپے کی قدر میں یہ کمی مارکیٹ فورسز کے بجائے قیاس آرائیوں، انتظامی کمزوریوں اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوئی تو اس کے پاکستانی معیشت پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی سے جہاں ایک جانب مہنگائی، درآمدی بل اور قرضوں کا دباؤ بڑھتا ہے، وہیں دوسری جانب کاروباری بے یقینی میں اضافہ، سرمایہ کاری کی رفتار میں کمی اور عوام کی قوتِ خرید میں نمایاں گراوٹ دیکھنے میں آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روپے کی قدر میں حالیہ اتار چڑھاؤ نے مارکیٹ میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے ڈالر کے 250 روپے سے نیچے آنے کے امکانات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ روپے کی قدر میں بہتری کے کئی عوامل موجود ہیں۔ ان کے مطابق دفاعی برآمدات میں اضافہ، عالمی منڈی میں جے ایف 17 طیاروں کی بڑھتی ہوئی طلب اور سٹاک مارکیٹ کی بحالی ایسے عناصر ہیں جو روپے کو سہارا دے سکتے ہیں۔

ملک بوستان کا کہنا ہے کہ روپے کی حقیقی قدر پہلے کے مقابلے میں بہتر ہو چکی ہے اور اگر معاشی استحکام برقرار رہا تو اس میں مضبوطی کا امکان بھی موجود ہے۔

 

تاہم اس کے باوجود مارکیٹ میں یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ آیا روپے کی قدر میں تیزی سے کمی یا غیر فطری بہتری واقعی معیشت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے یا نہیں۔معاشی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ روپے کی قدر میں غیر فطری حرکت، خواہ وہ تیزی سے کمی ہو یا اچانک مضبوطی، پاکستانی معیشت میں عدم توازن پیدا کر سکتی ہے۔ معاشی ماہر راجہ کامران نے خبردار کیا ہے کہ کرنسی کی قدر کا تعین برآمدات، درآمدات، مہنگائی اور زرِ مبادلہ کے ذخائر جیسے بنیادی معاشی عوامل سے جڑا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ملک اپنی برآمدات بڑھانا چاہتا ہے تو وہ عموماً کرنسی کی قدر کم رکھتا ہے تاکہ عالمی منڈی میں اس کی مصنوعات نسبتاً سستی ہوں، جبکہ درآمدات پر انحصار رکھنے والی معیشتیں مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے کرنسی کو مستحکم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔

 

راجہ کامران کے مطابق اگر روپے کی قدر 250 روپے فی ڈالر تک آ جاتی ہے تو اس کے ملکی معیشت پر ہمہ جہتی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کے بقول روپے کی قدر میں کمی سے درآمدات مہنگی ہو جائیں گی، جس سے ایندھن، خوراک اور صنعتی خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، اور اس کا براہِ راست اثر مہنگائی اور عوامی زندگی پر پڑے گا۔ دوسری جانب اگر روپے کو مصنوعی طور پر مضبوط کیا گیا تو اس سے درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر ڈالر کے بدلے برآمد کنندگان کو کم روپے ملیں گے تو ان کی مسابقت کم ہو جائے گی، جس سے برآمدات کی حوصلہ شکنی ہوگی اور مقامی صنعت متاثر ہو سکتی ہے۔ انکے مطابق بعض صورتوں میں روپے کی قدر میں بہتری سے مہنگائی میں کمی یا ڈیفلیشن بھی ہو سکتی ہے، مگر اس کا فائدہ زیادہ تر درآمد کنندگان کو ہوگا جبکہ مقامی مینوفیکچرنگ دباؤ میں آ جائے گی۔

 

معاشی امور کے ماہر شہباز رانا نے ڈالر کے ریٹ میں ممکنہ اضافے کی خبروں کو قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں ڈالر کی موجودہ قیمت تقریباً 280 روپے ہے جو کہ اصل میں کم ہے کیونکہ اس سے غیر فطری طور پر کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈالر کی اصل مارکیٹ بیسڈ قیمت موجودہ قیمت سے پانچ فیصد زیادہ ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کیے گئے ایک ورکنگ گروپ نے بھی یہی سفارش کی ہے کہ ڈالر کی قیمت کو مکمل طور پر مارکیٹ فورسز کے مطابق طے کیا جائے، نہ کہ کسی مصنوعی سطح پر رکھا جائے۔

 

شہباز رانا کے مطابق ورکنگ گروپ نے اپنی سفارشات وزیر اعظم کو پیش کر دی ہیں اور ڈالر کو اس کی حقیقی مارکیٹ ویلیو کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت ڈالر کو 250 روپے تک لانے یا اس سے نیچے لیجانے کی کوئی تجویز نہ تو زیرِ غور ہے اور نہ ہی حکومتی سطح پر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی توجہ اس وقت کرنسی کو مارکیٹ بیسڈ اور مستحکم رکھنے پر مرکوز ہے، کیونکہ ماضی میں کرنسی کو دبانے کے منفی نتائج سامنے آ چکے ہیں۔

پاکستانی روپے کی ویلیوافغان کرنسی سےبھی نیچے کیوں گرگئی؟

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں نمایاں اور پائیدار کمی کے لیے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مضبوط اور مستقل اضافہ ناگزیر ہے، جو اس وقت موجود نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ ذخائر زیادہ تر آئی ایم ایف پروگرام، قرضوں کے رول اوور اور دوست ممالک کی مالی معاونت کے مرہونِ منت ہیں، نہ کہ برآمدات یا غیر ملکی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی مستحکم آمدن کے نتیجے میں۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں بہترین ممکنہ منظر نامہ یہی ہے کہ روپیہ اپنی موجودہ سطح پر مستحکم رہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی سطح پر کوئی جیو پولیٹیکل بحران پیدا ہوتا ہے، تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے یا درآمدی دباؤ بڑھتا ہے تو روپے پر ایک بار پھر دباؤ آ سکتا ہے اور اس کی قدر میں مزید کمی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ماہرین متفق ہیں کہ روپے کی قدر میں غیر فطری کمی یا مصنوعی بہتری، دونوں ہی صورتوں میں پاکستانی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے پالیسی سازوں کے لیے اصل چیلنج کرنسی کو وقتی نعروں یا قیاس آرائیوں کے بجائے مارکیٹ فورسز کے مطابق مستحکم رکھنا ہے، تاکہ معیشت کو ایک نئے بحران سے بچایا جا سکے۔

Back to top button