عمران اور PTI قیادت میں اختلافات کی خلیج کیوں بڑھ رہی ہے؟

عمران خان کو پاکستانی سیاست سے مائنس کرنے کی کوشش کوئی بیرونی عناصر نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اندرونی عناصر کھلے عام کر رہے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ خود خان صاحب اور اُن کی جماعت کے سنجیدہ فکر عناصر میں خلیج وسیع تر ہو رہی ہے۔ اگر 90 فی صد رہنما مذاکرات، حکمت اور مصلحت کے ساتھ بند گلی سے نکلنا چاہتے ہیں اور بانی پی ٹی آئی خود بند گلی سے نکلنے والے نکڑ پر مورچہ لگا کر کھڑے ہو جاتے ہیں تو اسکا نتیجہ کیا نکلے گا؟ اِس سوال کا جواب ہمیں اپنی سیاسی تاریخ سے با آسانی مل جاتاہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف لکھاری عرفان صدیقی سوال کہتے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی سے گہری وابستگی رکھنے والے پانچ اسیرانِ لاہور کا خط، اندھی گلی میں بھٹکتی جماعت کو جُگنو بھر روشنی دے پائے گا؟ کیا یہ خط تحریکِ انصاف کو تصادم سے ہٹ کر سنجیدہ مذاکرات کی راہ پر ڈال پائے گا؟ بظاہر اِس کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ خط کو منظرِ عام پرآئے ایک ہفتہ ہو گیا۔ اب تک نہ پارٹی نے اس پر باضابطہ ردّعمل دیا اور نہ ہی نہ اسکے سرپرستِ اعلیٰ، عمران خان نے لب کشائی کی ہے۔ یعنی حکمت ودانش سے عاری فیصلوں کا سفر جاری ہے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اپریل 2022 میں تحریکِ عدمِ اعتماد کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے بجائے قاسم سوری کی رُسوائے زمانہ رُولنگ، صدر عارف علوی سے قومی اسمبلی تحلیل کرانا، قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفے داغ کر لانگ مارچوں پر نکل کھڑے ہونا، نومبر 2022 میں جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری روکنے کیلئے اسلام آباد پر چڑھ دوڑنا، 2023 میں پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں تحلیل کر دینا، 9 مئی 2023 کی لشکر کشی کے ذریعے آرمی چیف کے خلاف بغاوت کی سازش کرنا، اور فائنل کال کے نام پر نومبر 2024 میں اسلام آباد پر یلغار کرنا، یہ سب ایسے فیصلے یا اقدامات تھے جو بیک فائر ہوئے پلٹ کر آئے اور پی ٹی آئی کا اپنا سینہ چھلنی کر گئے۔
عرفان صدیقی کہتے ہیں، دوسری طرف وہ نظمِ ریاست، جِسے خان صاحب زچ کرنے کی کوششیں کرتے رہے، مستحکم ہوتا چلاگیا۔ نہ آئی ایم ایف نے خان صاحب کی سُنی نہ سمندر پار پاکستانیوں نے کان دھرا۔ معیشت استوار ہوتی گئی۔ پانچ روزہ جنگ میں بھارت کی فیصلہ کُن شکست نے پاکستان کا چہرہ اُجال دیا۔ پاکستان کا قد کاٹھ کئی گنا بڑھ گیا۔ سفارتی محاذ پر پاکستان کی آواز مذید توانا ہوگئی۔ بھارت میلے کی بھِِیڑ میں کھو جانے والے بچے کی طرح ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہے۔ جس جرنیل کو خان صاحب نے بشری بی بی کی کرپشن کی نشاہی کے جرم میں صرف آٹھ ماہ بعد آئی ایس آئی کی سربراہی سے ہٹا دیا تھا اور جسے آرمی چیف بننے سے روکنے کیلئے انہوں نے اسلام آباد پر چڑھائی کر دی تھی، وہ عظیم فاتح قرار پاکر فیلڈ مارشل بن چکا ہے۔ جس صدر ٹرمپ سے اُمِّیدیں بندھی تھیں کہ وہ حلف اُٹھاتے ہی خان صاحب کی رہائی کا الٹی میٹم دے گا، وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کو اپنے کیے اعزاز قرار دے رہا ہے۔ جس حکومت کو وہ فارم 47 کی تخلیق کہہ رہے تھے، وہ اَب دوتہائی اکثریت حاصل کرچکی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومتی بندوبست، توانا اور قوی ہوچکا ہے جب کہ ناتواں اور کمزور پی ٹی آئی بے سمتی کا شکار ہوکر اندھی، تاریک، بند گلی میں دیواروں سے سرپھوڑ رہی ہے۔ کوٹ لکھ پت جیل سے پانچ اسیروں، شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری، میاں محمودالرشید اور عمر سرفراز چیمہ کا مختصر سا خط، صدائے دَردناک کی طرح سامنے آیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے پی ٹی آئی میں رہتے ہوئے اپنی وفاشعاری پر کوئی آنچ نہ آنے دی۔ یہ بھی خان صاحب کی طرح لگ بھگ دو برس سے جیل میں ہیں۔ ستم یہ ہے کہ پارٹی اُنہیں بھُول چکی ہے۔ اُنہیں پرانے، زنگ آلود، ٹوٹے پھوٹے بے مصرف سامان والی اندھیری کوٹھڑی میں پھینک دیاگیا ہے۔ اُن سے ملاقاتیوں کا کوئی ہجوم نہیں ہوتا۔ کسی عدالت میں درخواست بھی دائر نہیں ہوتی کہ ہمیں اُن سے ملنے دیا جائے۔ کسی کو اس سے بھی کچھ غرض نہیں کہ جیل میں اُن کے احوال کیا ہیں؟ اِس’’ حُسن ِ سلوک‘‘ کا ایک اور نمونہ چوہدری پرویز الٰہی ہیں جنہوں نے آج تک عمران خان سے تعلق نہیں توڑا لیکن پی ٹی آئی نے اُنہیں’ متروکہ املاک‘ بنادیا ہے۔کوئی حال احوال پوچھنے انکے گھر تک بھی نہیں جاتا۔ پی ٹی آئی کی ماتم گُساری، قیدی نمبر 804سے شروع ہو کر اُسی پر ختم ہو جاتی ہے۔ خس کم جہاں پاک۔
عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ اپنے خط میں اسیرانِ لاہور نے کسی تکلیف کا شکوہ کیا، اور نہ کسی سہولت کا تقاضا، بس اپنی جماعت سے دست بستہ اپیل کی کہ وہ سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کی راہ نکالے۔ ضرورت پڑے تو اُسکے بعد فوج سے بھی بات کرے۔ میڈیا میں اِس خط کاچرچا ہوا تو پی ٹی آئی نے خبر دی کہ جماعت کا ایک بڑا اجلاس بلایا جا رہا ہے۔ پھر اس اجلاس کیلئے ایک 6 نکاتی ایجنڈا بھی جاری ہوا جس میں اسیرانِ لاہور کے خط کا کوئی ذکر نہ تھا۔ البتہ پانچویں نکتے میں حکومت سے مذاکرات کے مختلف آپشنز پر غور شامل تھا۔ اجلاس کے بعد ایک بڑی پریس کانفرنس میں صفِ اوّل کے تمام راہنما شریک تھے۔ طویل گفتگو میں سب کچھ کہاگیا لیکن کسی نے اسیرانِ لاہور کے خط کا ذکر کیا نہ مذاکرات کے حوالے سے کوئی واضح اعلان ۔
اگلے دِن، علیمہ خان صاحبہ نے اڈیالہ جیل کے باہر کھڑے پریس رپورٹرز کو بتایا کہ عمران خان نے دَس محرم کے بعد تحریک چلانے کے لئے کہہ دیا ہے جس کے لئے منصوبہ بندی بھی کر لی گئی ہے۔ علیمہ خان نے اسیرانِ لاہور کے خط کا حوالہ دیے بغیر کہا کہ ’’عمران خان جوں ہی تحریک کا اعلان کرتے ہیں، حکومت مذاکرات کا دفتر کھول لیتی ہے۔‘‘
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اسیرانِ لاہور نے وہی کچھ کہا جو پی ٹی آئی کے راہنمائوں، ارکانِ پارلیمنٹ اور کارکنوں کی بھاری اکثریت چاہتی ہے۔ عدمِ اعتماد سے لے کر اَب تک کے جن فیصلوں نے پی ٹی آئی کو برباد کیا ہے وہ پارٹی کی اجتماعی مشاورت سے نہیں ہوئے تھے بلکہ خان صاحب نے خود کیے۔ اب مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ سیاسی سوچ رکھنے والے اسیران معاملات سیاسی طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں جبکہ خان صاحب جذباتی طریقے سے۔ علیمہ خان کہتی ہیں کہ ’’عمران خان کو مائنس کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔‘‘ لیکن سچ یہ ہے کہ ایسا کرنا آسان نہیں، خاص طورپر کسی بیرونی ہاتھ کیلئے۔ توہم اب خود خان صاحب اور اُن کی جماعت کے سنجیدہ فکر عناصر میں مذاکرات کے معاملے پر خلیج وسیع ہو رہی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی خلیج کا نتیجہ کیا نکلے گا یہ ہم سب جانتے ہیں۔
