حکومت کو اگلی بار ترمیمی پیکج پاس ہو جانے کا یقین کیوں ہے؟

شہباز شریف حکومت کے مجوزہ ترمیمی پیکج پر مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اعتراضات اٹھائے جانے کے بعد اپ وقتی طور پر یہ معاملہ ملتوی تو کردیا گیا ہے لیکن حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ آئینی ترامیم کروانے کےلیے سنجیدہ ہے اور اگلی کوشش وزیراعظم شہباز شریف کی امریکہ سے واپسی پر کی جائے گی جو کامیاب ہو گی۔ حالیہ کوشش کی ناکامی کے باوجود حکومت کا یہ موقف ہے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں کے اتفاق رائے سے اگلے چند ہفتوں میں مجوزہ آئینی ترامیم پاس کروانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
تاہم سینیئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ نون لیگی حکومت عدلیہ بارے آئینی ترامیم منظور کرانے میں اپنی ناکامی پر بہت شرمندگی کا شکار ہے، ان کا کہنا یے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر قانون اعظم تارڑ کو آئینی ترمیم پر مولانا سے مذاکرات کرنے اور منانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی لیکن سیاسی جوڑ توڑ میں ان دونوں کی ناتجربہ کاری کے باعث وہ مولانا سے تعاون کی یقین دہانی مل جانے کے باوجود آخری لمحات میں دھوکہ کھا گئے خصوصا جب دونوں ایوانوں کے اجلاس بھی بلائے جا چکے تھے۔ انصار عباسی کا کہنا ہے کہ ترامیم پاس کروانے کی حکومتی کوشش بنیادی طور پر اس لیے ناکام ہوئی کہ جو کام خاموشی سے کرنے کا تھا وہ وقت سے پہلے ہی میڈیا پر لیک ہو گیا جس کے باعث حکومتی کھیل کا ستیاناس ہوگیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ جس وقت پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادی یہ تاثر دے رہے تھے کہ مولانا کو بھی مجوزہ آئینی ترامیم کے حوالے سے اعتماد میں لے لیا گیا ہے، تب تک مولانا نے مجوزہ آئینی ترمیم کا مسودہ دیکھا بھی نہیں تھا۔ مولانا کی جانب سے یہ بات میڈیا کے نوٹس میں لانے کے بعد شہباز شریف اور اسحٰق ڈار میدان میں اترے۔ وزیراعظم مولانا کی رہائش گاہ جا پہنچے، صدر نے بھی مولانا سے فون پر بات کی جبکہ بلاول جے یو آئی ف کے سربراہ سے ملنے پہنچ گئے، لیکن تب تک معاملہ کافی بگڑ چکا تھا لہذا حکومت کے لیے کوئی باعزت راستہ نہ نکل پایا۔
کیا مولانا اپنی قیمت وصول کر کے حکومت کے ساتھ مل جائیں گے ؟
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں سب کچھ حتمی طور پر طے ہو جانے کے بعد بھی کئی نئی باتیں سامنے آ جاتی ہیں۔ لیکن، اس معاملے میں میں مولانا سے کوئی حتمی ڈیل کیے بغیر ہی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کر لیے گے جنہیں ملتوی کرنے پر حکومت کو کافی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ انصار عباسی کا کہنا ہے کہ ترامیم کے حق میں ووٹ دینے کے لیے پی ٹی آئی کے آزاد اراکین کی مطلوبہ تعداد پوری تھی لیکن مولانا کے بدک جانے سے معاملہ خراب ہوگیا جس سے حکومت بالخصوص نون لیگ کو شدید خفت کا سامنا کرنا پڑا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا کو منانا مشکل ہو گا لیکن یہ کام نا ممکن نہیں ہے۔ مولانا ہمیشہ اپنی قیمت وصول کر کے ڈیل کرتے ہیں اور اب اسی حوالے سے کوشش کی جائے گی۔ اس وقت حکومت کے پاس اپنے ہدف کے حصول کے سوا کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں۔
نون لیگ کے ایک سینیئر رہنما کا کہنا تھا کہ کمٹمینٹ دے کر پھر جانے والے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے دھوکہ کھانے کے باوجود حکومت اس معاملے کو ادھورا چھوڑنے کے متحمل نہیں ہو سکتی۔ انکا کہنا تھا کہ ہمارے پاس آئینی ترامیم 15؍ روز میں منظور کرانے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں۔ ذرائع کا خیال ہے کہ شہباز شریف حکومت کا مستقبل اور سیاسی استحکام ان ترامیم پر منحصر ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کو جسٹس منصور علی شاہ کے چیف جسٹس بن جانے کی کوئی فکر نہیں، لہکن کچھ اور معاملات ہیں جو کہ باعثِ پریشانی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، نون لیگ اور پیپلز پارٹی مولانا کی حمایت کے حصول کیلئے اپنی تمام تر کوششیں کریں گی اور زیادہ امکان یہی ہے کہ مولانا بالاخر تحریک انصاف کی بجائے اپنی سابقہ اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا ساتھ دیں گے۔
