عمران کے عاشقوں اور مودی کے مداحوں کا غم ایک جیسا کیوں ہے؟

امریکی صدر ٹرمپ کا دوسرا دور اقتدار بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور عمران خان کے حامیوں کی توقعات کے برعکس ان کے لیے مایوسی اور ناکامی کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے۔ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ صدر ٹرمپ نے محبان مودی اور عاشقان عمران کی امیدوں پر پانی پھیر کر رکھ دیا ہے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کے بارے میں پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ وہ یکا یک بغیر کسی سبب اور کسی لحاظ اور جواز کے بغیر مقدر کی طرح اچانک نمودار ہوتے ہیں۔ یہ لوگ آسمانی بجلی کی طرح چمکتے ہیں، وہ ہیبت ناک بھی ہوتے ہیں اور جابر بھی۔ لیکن انکی عظمت اتنی خیرہ کن ہوتی ہے کہ کوئی ان سے نفرت بھی کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔ انہیں جو قوت فعال رکھتی ہے وہ شدید خود پسندی ہوتی ہے۔ بالکل ویسی خود ستائی جیسی کوئی ماں بچے کو جنم دینے کے بعد محسوس کرتی ہے۔ ٹرمپ بھی کچھ ایسی ہی شخصیت ہیں۔
آپ ایسے افراد بارے کوئی بات وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتے۔ ٹرمپ کے دوسری بار صدر بننے کے بعد پاکستان اور بھارت میں عاشقان عمران اور محبان مودی جشن مناتے نظر آتے تھے۔ لیکن اب ان حلقوں میں صف ِماتم بچھی نظر آتی ہے۔ عاشقان ِ خان کو ٹرمپ کی واپسی سے بہت ذیادہ اُمیدیں وابستہ تھیں۔ اسی طرح بھارت میں مودی کے پیروکاروں نے سماں باندھ رکھا تھا۔ پاکستان میں یہ مژدہ سنایا جارہا تھا کہ ٹرمپ بطور صدر حلف لینے کے بعد سب سے پہلے راولپنڈی ٹیلیفون کریں گے اور کہیں گے میرے دوست عمران کو فوری طور پر رہا کردیا جائے ۔اسی طرح انڈیا یہ خوشخبری دی جارہی تھی کہ مودی کے یار غار ٹرمپ کے دوبارہ امریکی صدر بن جانے سے امریکہ بھارت تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
تاہم بلال غوری کہتے ہیں کہ عملی طور پر دونوں ممالک میں عاشقان عمران اور محبان مودی کی امیدوں کے برعکس ہوا۔ واشنگٹن سے راولپنڈی ٹیلیفون کال تو گئی لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کرنے کیلئے۔ تب سے اب تک امریکی صدر نہ صرف پاکستانی سپہ سالار کی تعریف کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے بلکہ وزیراعظم شہبازشریف کو بھی اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ عاشقان عمران کی طرح محبان مودی بھی غم زدہ و افسردہ ہیں۔ گزشتہ ہفتے تو انہیں ایسا صدمہ پہنچا کہ بیچارے ابھی تک اس کیفیت سے نہیں نکل پائے۔ امریکی صدر نے نہ صرف بھارت پر 25 فیصد ٹیرف اور جرمانے کے نفاذ کا اعلان کیا بلکہ ان 7 بھارتی کمپنیوں پر بھی پابندی عائد کر دی جو ایران سے تیل خرید رہی تھیں۔
محبان مودی ابھی اس ناگہانی صورت حال سے سنبھل نہیں پائے تھے کہ امریکی صدر نے پاکستان کیساتھ تیل کے وسیع ذخائر مشترکہ طور پر دریافت کرنے کیلئے پاکستان کیساتھ تاریخی معاہدے کا بم گرا دیا۔ ایسا کرتے ہوئے ٹرمپ مودی کو یہ طنز کرنا نہیں بھولے کہ شاید ایک دن ایسا آئے جب انڈیا پاکستان سے تیل برآمد خرید رہا ہو۔ یہی نہیں بلکہ سب منتظر تھے کہ امریکہ کی طرف سے پاکستانی مصنوعات پر کتنا ٹیرف لگایا جاتا ہے۔
ب بھارت پر 25 فیصد جبکہ بنگلہ دیش ،سری لنکا اور ویت نام پر 20 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے مگر پاکستانی مصنوعات پر 19فیصد ٹیرف لگایا گیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی حیران اور پریشان کر دینے کی روش بہت پرانی ہے۔ جب یہ صاحب پہلی بار صدر منتخب ہوئے تو ان کی کامیابی بذات خود کسی عجوبے سے کم نہیں تھی مگر انہوں نے بطور صدر حلف لینے سے پہلے پاکستان میں ایک فون کال کرکے سب کوششدر کر دیا۔ یکم دسمبر 2016 کو وزیراعظم نواز شریف کی صدر ٹرمپ سے فون پر بات ہوئی۔ جب ان کی گفتگو کے مندرجات سامنے آئے تو مجھے لگا شاید کسی نقال نے ٹرمپ بنکر نواز شریف کی پھرکی لینے کی کوشش کی ہے کیونکہ ٹرمپ نے نواز شریف کو عظیم ترین انسان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آپ زبردست ساکھ کے حامل ہں اور بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جسکے اثرات ہر شعبے میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ بات یہیں تک رہتی تو ہضم ہو سکتی تھی مگر ٹرمپ نے نواز شریف سے کہا کہ مجھے آپ سے بات کرتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہمارا برسوں کا یارانہ ہے۔
بلال غوری کے مطابق جب وزیر اعظم نوازشریف نے انہیں دورہ پاکستان کی دعوت دی تو ٹرمپ نے نہ صرف جھٹ سے قبول کر لی بلکہ یہ بھی کہا کہ آپ کا ملک شاندار ہے اور پاکستانی ذہین ترین لوگوں میں سے ہیں۔ بائے کہنے سے پہلے ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ آپ 20جنوری کو میری حلف برداری سے پہلے جب چاہیں ٹیلی فون کر سکتے ہیں۔ پھر ٹرمپ نے نواز شریف کو ایک زبردست شخصیت قرار دے دیا۔ بلال غوری کا کہنا ہے کہ اگر عاشقان عمران خان اور محبان مودی یکم دسمبر 2016 کی یہ ٹیلیفون کال سنجیدگی سے لیتے اور سبق حاصل کرتے تو شاید انہیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
ہم نے پاک امریکہ تعلقات کے دوران بہت سے اُتار چڑھائو دیکھے ہیں۔ ہم نے صدر آئزن ہاور کے زمانے میں امریکی سرد مہری کا سامنا کیا مگر پھر جان ایف کینیڈی اور لنڈن بی جانسن کے دور کی گرمجوشی ملاحظہ کی۔ ہم نے امریکی صدر کارٹر کے مونگ پھلی کے دانے جیسی سخاوت کو پائے حقارت سے ٹھکرایا اور پھر صدر ریگن کی پیشکش قبول کی۔ صدر کلنٹن کے دور میں ہم نے نیوکلیئر دھماکوں پر پابندیوں کا سامنا کیا اور پھر جارج بش کی آمد پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کرائے کی ریاست کا درجہ بھی حاصل کیا۔ لہذا ٹرمپ کے عہد میں جاری نوازشات اور مہربانیوں کا سلسلہ کب تک قائم و دائم رہیگا، اس حوالے سے کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، لیکن جب تک یہ پلڑا ہماری طرف جھکا ہوا ہے، ہمیں خزاں رسیدہ موسموں کا ذکر کرکے ان لمحات کو ضائع کرنے کے بجائے موسم بہار سے لطف اندوز ہونا چاہئے۔
