پاکستان میں ایرانی سفیر امریکی FBI کی موسٹ وانٹڈ لسٹ میں کیوں؟

امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم سمیت تین ایرانی شخصیات کے نام ’انتہائی مطلوب افراد‘ کی لسٹ میں شامل کر دیے ہیں جس کے بعد پاکستان سفارتی الجھن کا شکار ہو گیا۔ ایف بی آئی نے اعلان کیا ہے کہ یہ تینوں افراد 2007 میں ایک امریکی سپیشل ایجنٹ رابرٹ باب کیونسن کے اغوا میں ملوث ہیں اور ان کے ساتھ حساب برابر کیا جائے گا۔

تاہم ایف بی آئی کے اس فیصلے نے پاکستان کی سفارتی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ ایک لمبے عرصے بعد پاکستان اور امریکہ کے سفارتی تعلقات میں بہتری آئی ہے، لیکن اگر ایران ایف بی آئی کی موسٹ وانٹڈ لسٹ میں شامل اپنے سفیر کو واپس نہیں بلاتا تو پھر پاکستان کو مقدم کی بے دخلی کے لیے امریکی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے ایران کے تین اعلیٰ انٹیلی جنس اہلکاروں پر سابق امریکی ایجنٹ باب لیونسن کو غائب کرنے اور پھر اس کی گمشدگی چھپانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کو احمد امیرینیا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ماضی میں ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس و سلامتی کے آپریشنز یونٹ کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے مقدم یورپ میں سرگرم ایرانی ایجنٹوں کے نگران تھے۔

اب ایف بی آئی نے الزام لگایا ہے کہ رضا امیری مقدم نے اس کارروائی کی براہ راست نگرانی کی جس میں امریکی ایجنٹ باب لیونسن کو اغوا کیا گیا، باب لیونسن 8 مارچ 2007 کو ایران کے کِش جزیرے پر پہنچنے کے اگلے ہی روز لاپتا ہو گئے تھے۔ ایف بی آئی کے مطابق، یہ نئی معلومات اس جاری تفتیش کا حصہ ہیں جس میں ان ایرانی اہلکاروں کی شناخت کی جارہی ہے جو اغوا میں ملوث تھے اور جنہوں نے بعد میں شواہد چھپانے کی کوشش کی۔

دیگر دو ایرانی افسران میں تقی دانشور (المعروف سید تقی قائمی) اور غلام حسین محمد نیا شامل ہیں۔ تقی دانشور ایرانی وزارت داخلہ کے سینئر کاؤنٹر انٹیلی جنس افسر ہیں جنہوں نے کیونسن کے اغوا کے وقت ایک اور ایرانی ایجنٹ محمد بصیری (المعروف ثنائی) کی نگرانی کی تھی۔

اسی طرح غلام حسین محمدنیا بھی ایرانی وزارت داخلہ کے سینئر افسر ہیں جنہوں نے 2016 میں البانیا میں ایرانی سفیر کے طور پر خدمات سر انجام دیں، تاہم دسمبر 2018 میں البانوی حکومت نے انہیں ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ملک بدر کر دیا تھا۔ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ محمدنیا نے بعد میں یہ کوشش کی کہ لیونسن کا اغوا صوبہ بلوچستان میں سرگرم ایک مسلح گروہ پر ڈال دیا جائے۔ ایف بی آئی واشنگٹن فیلڈ آفس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سٹیون جینسن کے مطابق، "تینوں ایرانی انٹیلی جنس افسران اُن افراد میں شامل ہیں جنہوں نے باب لیونسن کے اغوا اور ایرانی حکومت کی پردہ پوشی کی کارروائیوں میں کردار ادا کیا۔

ایف بی آئی کے مطابق باب لیونسن نے ممکنہ طور پر اپنی زندگی کے آخری دن قید میں گزارے، لیونسن کی قید میں لی گئی تصاویر اور ایک ویڈیو 2010 اور 2011 میں منظر عام پر آئیں، لیکن اس کے بعد اسکے بارے کوئی اطلاع نہیں آئی۔ مارچ 2025 میں امریکی محکمہ خزانہ نے امیری مقدم اور دیگر افراد پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

ایف بی آئی کے مطابق اس اغوا کی تحقیقات اب بھی جاری ہیں اور مجرموں کو انکے انجام تک پہنچایا جائے گا۔ اگرچہ پاکستانی حکام کا اس اغوا میں کوئی کردار ثابت نہیں ہو سکا، لیکن امیری مقدم کی بطور سفیر تعیناتی کے باعث اب اسلام آباد کو بھی اس کیس سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایاز امیر نے عمران کی تحریک کا اعلان بے تکا اور بے وقت کیوں قرار دیا؟

رضا امیری مقدم نے جولائی 2023 میں پاکستان میں بطور سفیر اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تھا۔ ایرانی سفارتخانے کی ویب سائٹ پر اُن کے حوالے سے زیادہ معلومات موجود نہیں ہیں۔ وہاں دستیاب معلومات کے مطابق رضا امیری مقدم سنہ 1961 میں پیدا ہوئے تھے اور انھوں نے بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں بطور سفیر خدمات انجام دینے کے علاوہ وہ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں  بین الاقوامی پالیسی امور کے بھی ڈپٹی ہیں۔ تاہم ایف بی آئی کا دعویٰ ہے کہ رضا امیری مقدم ماضی میں ایرانی وزارتِ انٹیلی جنس اور سکیورٹی میں آپریشنز یونٹ کی سربراہی کر چکے ہیں۔

Back to top button