ہمیشہ جعفر ایکسپریس ہی حملہ آوروں کا نشانہ کیوں بنتی ہے؟

بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے بلوچستان میں دو دہائیوں سے جاری شورش کے دوران سب سے زیادہ حملے جس مسافر ٹرین پر ہوئے ہیں، وہ جعفر ایکسپریس ہے۔ بظاہر اس کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ اس میں زیادہ تر پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہری یا چھٹیوں پر گھر جانے والے سکیورٹی فورسز کے اہلکار سفر کرتے ہیں جو بلوچ عسکریت پسندوں کے نشانے پر رہتے ہیں۔ تاہم یہ پاکستانی تاریخ کی پہلی مسافر ٹرین ہے جسے ہائی جیک کرنے کے بعد مسافروں کا قتل عام کیا گیا۔

یاد رہے کہ بلوچ عسکریت پسندوں کی جانب سے جعفر ایکسپریس پر پہلی مرتبہ حملہ نہیں کیا گیا۔ نومبر 2024 میں کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر کیے جانے والے خودکش دھماکے میں جعفر ایکسپریس کے 26 مسافر جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ جاں بحق ہونے والے زیادہ تر مسافروں میں فوجی اہل کار شامل تھے جو چھٹی پر گھروں کو جا رہے تھے۔ اس سے پہلے سال 2014 میں سبی ریلوے سٹیشن پر کھڑی جعفر ایکسپریس میں ہونے والے بم دھماکے سے 17 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ جعفر ایکسپریس پر حالیہ حملہ درہ بولان میں پنیر ریلوے سٹیشن کے قریب کیا گیا، یہاں چند سال پہلے بھی اسی ٹرین کو راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا تھا جس میں ایک خاتون سمیت پانچ مسافر مارے گئے تھے۔ مختصر یہ کہ جعفر ایکسپریس کا سفر مسافروں کے لیے ایک خطرناک اور جان لیوا مہم جوئی سے کم نہیں ہوتا۔

اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2005 سے 2015 کے دوران ٹرینوں، پٹریوں اور ریلوے تنصیبات پر 173 حملے کیے گے جن میں ذیادہ تر جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنایا گیا۔ اس مسافر ٹرین پر تازہ ترین حملہ درہ بولان میں کیا گیا جو کہ ہمیشہ سے بلوچ باغیوں کی پسندیدہ جگہ رہی ہے۔ یہاں کا موسم، پانی کی دستیابی اور کئی اضلاع تک پھیلے پہاڑی سلسلے اور مشکل راستے بلوچ  شرپسندوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ یہاں سیکیورٹی فورسز کے لیے دہشت گردوں کے خلاف جوابی کارروائی مشکل ہو جاتی ہے۔

دہشت گرد حملوں کے پیش نظر جعفر ایکسپریس سمیت کوئٹہ آنے جانے والی ٹرینوں کو بلوچستان کی حدود خاص کر درہ بولان میں رات کے سفر کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اسکے علاوہ شام کے بعد داخل ہونے والی مسافر ٹرینوں کو جیکب آباد یا سبی ریلوے سٹیشنز پر روک دیا جاتا ہے۔ یہاں سے گزرنے والی ٹرینوں کی سکیورٹی کے لیے خاص اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ٹرین کے اندر ریلوے پولیس کے ساتھ ایف سی اہلکار جبکہ باہر ٹریک اور پہاڑیوں پر لیویز اور ایف سی کی چوکیاں قائم ہیں اور سیکیورٹی اہلکار مسلسل ٹریک پر گشت بھی کرتے ہیں۔ ان تمام تر خطرات کے باوجود جعفر ایکسپریس آج بھی بلوچستان اور دوسرے صوبوں کے درمیان سفر کرنے والوں کے لیے ایک اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔

جعفر ایکسپریس کا نام سابق وزیراعظم میر ظفراللہ خان جمالی کے چچا جعفر خان جمالی کے نام پر رکھا گیا جو محمد علی جناح کے قریبی ساتھی اور تحریک پاکستان کے سرکردہ رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے نام سے بلوچستان کا ضلع جعفر آباد بھی منسوب ہے۔

ظفراللہ جمالی نے اپنے چچا کی سیاسی خدمات کے اعتراف میں یہ نام رکھا۔ بلوچستان کی یہ دوسری ٹرین ہے جسے ایک سیاسی شخصیت کے نام پر رکھا گیا۔ سال 2013 میں وزیراعظم نواز شریف نے بلوچستان کے عوام کو خیر سگالی کا پیغام دینے کے لیے کوئٹہ اور لاہور کے درمیان چلنے والی ٹرین کا نام نواب اکبر خا۔ بگٹی ایکسپریس رکھا تاہم یہ ٹرین بعد میں بند ہو گئی۔

اب جعفر ایکسپریس بلوچستان سے ملک کے دیگر حصوں تک چلنے والی واحد عوامی سروس ہے جو روزانہ کی بنیاد پر چلتی ہے۔ اس ٹرین کا افتتاح 2003 میں تب کے وزیر اعظم میر ظفراللہ خان جمالی نے کیا تھا۔ تب بلوچستان اور پنجاب کے درمیان چلنے والی ٹرینیں غیر معیاری ہوتی تھیں چنانچہ جعفر ایکسپریس کو چینی ساختہ جدید کوچز لگا کر چلایا گیا جو اس دور کی معیاری ٹرین سمجھی جاتی تھی۔ ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس میں 10 بوگیاں شامل ہوتی ہیں جن میں تقریباً 700 مسافروں کی گنجائش ہوتی ہے۔

اس ٹرین میں ایئرکنڈیشنڈ سلیپر، اے سی بزنس، اے سی سٹینڈرڈ اور اکانومی کلاس شامل ہیں جس کا کرایہ 5 ہزار سے لے کر 14 ہزار روپے تک ہوتا ہے۔

جعفر ایکسپریس میں ڈائننگ کار کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ یہ ٹرین روزانہ صبح نو بجے کوئٹہ سے روانہ ہو کر سبی، سکھر، ملتان، لاہور اور راولپنڈی سے گزرتے ہوئے اگلے روز شام ساڑھے چھ بجے پشاور پہنچتی ہے۔ یہ 1600 کلومیٹر سے زائد کا سفر تقریباً 33 گھنٹوں میں طے کرتی ہے۔ اس ٹرین کی زیادہ سے زیادہ رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ اس سے پہلے جعفر ایکسپریس صرف راولپنڈی تک چلتی تھی۔ 2017 میں اس کا روٹ راولپنڈی سے بڑھا کر پشاور تک کر دیا گیا۔

جعفر ایکسپریس کا سفر پاکستان کے سب سے دلچسپ مگر خطرناک اور مشکل ترین ریلوے راستوں میں ہوتا ہے۔ یہ سبی اور کوئٹہ کے درمیان 70 کلومیٹر طویل درہ بولان کے مشکل دشوار گزار پہاڑی راستوں سے گزرتی ہے۔ اس دوران یہ ٹرین سنگلاخ چٹانوں کا سینہ چھیر کر بنائی گئی 17 سرنگوں اور ندی، دریا اور برساتی نالوں پر بنائے گئے 350 پلوں کو عبور کرتی ہے۔ سفر کرنے والوں کو خوبصورت اور دلکش مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دریائے بولان اور سڑک کے ساتھ ساتھ ٹرین سانپ کی طرح بل کھاتے ہوئے نظر آتی ہے۔

سطح سمندر سے صرف ساڑھے 400 فٹ بلند سبی کے میدانوں سے جب ٹرین بولان کی طرف جاتی ہے تو چڑھائی شروع ہو جاتی ہے جو 100 کلومیٹر تک جاری رہتی ہے۔

ٹرین حملے کے بعد بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف بڑے آپریشن کا فیصل

چڑھائی اور واپسی میں ڈھلوانی ٹریک پر ٹرین کے بے قابو ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے اور اسی لیے یہاں ماضی میں حادثات بھی پیش آ چکے ہیں۔ 2015 میں درہ بولان میں آب گم کے مقام پر جعفر ایکسپریس بریک فیل ہونے کے بعد الٹ گئی تھی جس سے 20 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس خطرناک راستے پر ٹرین کی رفتار 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود رکھی جاتی ہے تاکہ حادثے سے بچا جا سکے۔ یہاں کئی مقامات پر ٹرین کے لیے اضافی ٹریکس بھی بچھائے گئے ہیں جنہیں ’جہنم لائن‘ کہا جاتا ہے۔ ٹرین کے بے قابو ہونے کی صورت میں اسے ان ٹریکس پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ ٹرین اس اضافی ٹریک سے گزرنے کے بعد بھی نیچے گر گئی تھی، اسلئے اسے جہنم لائن بھی کہا جاتا ہے۔

تاہم بولان میں ہونے والے حملے اور درجنوں افراد کی اموات نے سفر کے اس ذریعے کو اور بھی ذیادہ خوف کی علامت بنا دیا ہے۔

Back to top button