بادشاہ سلامت کا اقتدار خطرے میں کیوں پڑ گیا ہے؟

نواز شریف کے قریبی دوست اور ہم جماعت، معروف کالم نگار عطاء الحق قاسمی نے خبردار کیا ہے کہ بادشاہ سلامت کا اقتدار اب چند گھڑیوں کا مہمان ہے کیونکہ لاکھوں افراد کا غضب ناک ہجوم نفرت سے بھرے چہروں کے ساتھ محل کے دروازے کے باہر جمع ہونا شروع ہو گیا ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے کالم میں انہوں نے ایک فرضی ریاست کی کہانی بیان کی ہے جہاں عوام معاشی مشکلات کی چکی میں پستے چلے جا رہے ہیں لیکن حکمرانوں کو اپنی ناک سے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ عطا قاسمی بتاتے ہیں کہ ایک روز خود کو عقل کل سمجھنے والے ریاست کے بادشاہ نے اپنے مصاحبین سے مشورے لینے کا سوچا۔ اس نے اپنے وزیر باتدبیر کو حکم دیا کہ تدبیر ساتھ لے کر آئے اور مشیر باشمشیر کو کہا کہ شمشیر ساتھ لے کر آئے۔
وزیر اپنی تدبیروں کی گٹھڑی اور مشیر اپنی تلوار کے ساتھ دربار میں حاضر ہوئے تو وزیر نے پہلی تدبیر پیش کرتے ہوئے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ وہ شاہانہ زندگی اختیار کرے، خزانے کو بے دریغ استعمال کرے اور لاقانونیت کو فروغ دے کیونکہ شاہانِ سلف کا یہی دستور رہا ہے۔ جب بادشاہ نے رعایا کے ممکنہ ردعمل پر تشویش ظاہر کی تو وزیر نے جواب دیا کہ اشرافیہ طبقہ اقتدار کو سہارا دیتا رہے گا جبکہ عام لوگوں کو محض ہمدردی کے چند الفاظ سے مطمئن کیا جا سکتا ہے، اور یہی کافی ہوگا کہ وہ خوش رہیں اور بادشاہ کے خلاف سر نہ اٹھائیں۔ وزیر نے مزید ایک تدبیر یہ پیش کی کہ انصاف کے تمام راستے مسدود کر دیے جائیں تاکہ فریادیوں کی صدائیں منصفوں تک نہ پہنچ سکیں اور یوں ان کی آوازیں ان کے سینوں ہی میں دب کر رہ جائیں۔ بادشاہ نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا اور وزیر کو انعام و اکرام سے نوازا۔
عطاالحق قاسمی بتاتے ہیں کہ اس کے بعد مشیر باشمشیر نے اپنی تلوار نکال کر عرض کیا کہ جو لوگ ان تدبیروں کے باوجود سرکشی کریں انہیں بے دریغ قتل کر دیا جائے تاکہ کسی کو بغاوت کرنے کی جرات نہ ہو۔کہانی میں آگے چل کر بتایا گیا ہے کہ بادشاہ نے نہایت چالاکی سے وزیر اور مشیر کے درمیان بداعتمادی پیدا کر دی، ایک کو دوسرے کے خلاف خبردار کیا، جس کے نتیجے میں درباری دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے اور ہر ایک اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے دوسرے سے آگے بڑھنے لگا۔ اس صورت حال نے بادشاہ کو مزید مضبوط کر دیا اور وہ زیادہ یکسوئی کے ساتھ حکمرانی کرنے لگا۔ اس نے تدبیر اور شمشیر دونوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اپنے اقتدار کو طول دیا، شاہی خزانے کو بے دریغ لٹایا، درباریوں کو لوٹ کھسوٹ کی کھلی اجازت دی اور یوں ریاست میں بدعنوانی اور لاقانونیت اپنے عروج پر پہنچ گئی جبکہ مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کی حالت روز بروز خراب ہوتی چلی گئی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں عطا قاسمی کی تحریر موجودہ حالات سے جڑتی محسوس ہوتی ہے، کیونکہ پاکستان میں بھی عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ عام شہری کے لیے روزمرہ زندگی گزارنا دشوار ہو گیا ہے، آٹا، چینی، دالیں اور سبزیاں سب ہی اس کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ اس پر مستزاد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہے جس نے نہ صرف سفر کو مہنگا کیا بلکہ ہر چیز کی لاگت میں اضافہ کر دیا، یوں مہنگائی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا ہے جو تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں مسلسل اضافے نے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے، جبکہ بے روزگاری اور کم آمدنی نے لوگوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ کاروباری سرگرمیوں میں سست روی کے باعث روزگار کے مواقع محدود ہو گئے ہیں اور جو لوگ برسر روزگار ہیں ان کی آمدن مہنگائی کے مقابلے میں انتہائی کم دکھائی دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکسوں کا بڑھتا ہوا بوجھ بھی عام آدمی کے لیے ایک مستقل پریشانی بن چکا ہے، خصوصاً بالواسطہ ٹیکسز نے زندگی کی ہر بنیادی ضرورت کو مہنگا کر دیا ہے۔
پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر کلسٹر بم کا حملہ قرار
عطا الحق قاسمی کی بیان کردہ کہانی تب اپنے انجام کی طرف بڑھتی ہے جب اسکے مخبر بادشاہ کو اطلاع دیتے ہیں کہ عوام بغاوت پر تل گے ہیں اور اس کا اقتدار خطرے میں ہے، لیکن بادشاہ اس خبر کو مسترد کر دیتا ہے۔ اس کے بعد ایک نجومی کو بلایا جاتا ہے جو کھڑکی سے باہر جھانک کر بتاتا ہے کہ بادشاہ کا اقتدار واقعی ختم ہونے والا ہے۔ اس پر بادشاہ غصے سے سوال کرتا ہے کہ وہ ستاروں کی بنیاد پر مستقبل کے بارے میں کیسے بتا سکتا ہے۔ جواب میں نجومی وضاحت کرتا ہے کہ وہ یہ پیش گوئی ستاروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس منظر کی بنیاد پر کر رہا ہے جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، نجومی بادشاہ کو بتاتا ہے کہ اگر وہ کھڑکی سے باہر آنکھیں کھول کر دیکھیں تو لاکھوں افراد کا غصے سے بھرا ہوا ہجوم محل کے دروازے پر جمع ہو رہا ہے۔
عطاالحق قاسمی اس تمثیلی کہانی کے ذریعے دراصل یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جب حکمران عوام کے مسائل سے آنکھیں بند کر لیں، انصاف کے دروازے بند کر دیں اور طاقت کے بل پر نظام چلائیں تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب عوامی ردعمل ایک طوفان کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اور پھر نہ کوئی تدبیر کام آتی ہے اور نہ ہی کوئی شمشیر۔ پھر غصے سے بپھرے ہوئے عوام محل کے دروازے پر اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اقتدار کا کھیل ختم ہو جاتا ہے۔
