آفریدی حکومت سرکاری مہاجر کیمپوں کو خالی کروانے سے انکاری کیوں؟

پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق کے ساتھ محاذ آرائی میں حد سے تجاوز کرتے ہوئے ریاستی پالیسیوں کی کھلی مخالفت شروع کر دی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں قائم 43 افغان مہاجر کیمپوں کو غیر فعال قرار دے کر ڈی نوٹیفائی کرنے کے بعد آفریدی سرکار نے جان بوجھ کر مہاجر کیمپوں کو دوبارہ آباد کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے انکار کر کے علم بغاوت بلند کر دیا ہے۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی اپنی بہن عظمیٰ خان سے ملاقات کے دوران افغان مہاجر کیمپوں کی ڈی نوٹیفائی کرنے اور افغانوں کی ملک بدری کی سخت مخالفت کرتے ہوئے ایک بار پھر طالبان سے مذاکرات کا مطالبہ دہرا دیا ہے۔ تاہم 5 دسمبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان کے طالبان سے مذاکرات کے مشورے کو "پاگل پن” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ خوارجی دہشتگردوں سے اب صرف ڈنڈے کی زبان میں ہی بات کی جائے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ریاست طالبان کو انجام تک پہنچانے کا فیصلہ کر چکی ہے اس لئے دہشتگردوں سے بات چیت کا حامی عمرانی ٹولہ طالبان سے مذاکرات اور ہاتھ ہولا رکھنے بارے اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے افغان مہاجرین بارے پالیسی فیصلہ سازی کے بعد خیبرپختونخوا کے علاوہ ملک بھر سے افغان باشندوں کی وطن واپسی جاری ہے تاہم وفاقی حکومت کی سنجیدہ حکمتِ عملی کے مقابلے میں خیبرپختونخوا کی باغیانہ ملک دشمن اقدامات نے ملکی امن و امان کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جہاں ایک طرف افغانوں کو خیبرپختونخوا میں مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے وہیں دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں قائم 43 ڈی نوٹیفائیڈ افغان کیمپوں میں سے صرف دو کیمپوں کو صوبائی حکومت نے مکمل کلیئر کیا ہے جبکہ باقی 41 کیمپ بدستور فعال ہیں۔ حالانکہ وفاقی حکومت کی جانب سے فیز 3 کے آغاز کے بعد مجموعی طور پر 54 افغان مہاجر کیمپوں کو قانونی طور پر غیر فعال قرار دے کر ڈی نوٹیفائی کیا گیا تھا۔ غیر فعال قرار دیئے گئے کیمپوں میں 43 خیبرپختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک پنجاب میں واقع تھے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پنجاب اور بلوچستان نے وفاقی پالیسی پر فوری عملدرآمد کیا اور فوری طور پر مختلف شہروں میں قائم افغان مہاجرین کمیپوں کو خالی کروا لیا گیا۔ تاہم خیبرپختونخوا نے نہ صرف وفاقی حکومت کے فیصلے پر تحفظات کا کھل کر اظہار کیا بلکہ تازہ اطلاعات کے مطابق آفریدی سرکار نے اب تو افغان مہاجرین بارے وفاقی حکومت کی پالیسی کو ماننے سے ہی صاف انکار کر دیا ہے۔ جس نے نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک میں دہشتگردی کے نئے دور کی بنیاد رکھ دی ہے۔
مبصرین کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی واپسی کے لیے شروع کیا گیا انخلا کا جامع پلان، قومی سلامتی، ریاستی وسائل کے تحفظ اور دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے ناگزیر ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈی نوٹیفکیشن کے باوجود افغان مہاجر کیمپوں کا فعال رہنا خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومتی کی کمزوری اور ریاستی پالیسی سے انخراف کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی طالبان دوستی نے صوبے کے محدود وسائل پر بوجھ ڈالنے کے ساتھ ساتھ ملک میں بدامنی کی راہ ہموار کر دی ہے۔
ناقدین کے مطابق خیبر پختونخوا میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی بڑی تعداد کے باعث دہشت گردی کے علاوہ دیگر مسائل بھی سر اٹھانے لگے ہیں۔ غیر قانونی افغان باشندوں کی موجودگی کے باعث صوبے میں وسائل پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔
تحریک انصاف پر پابندی اور KPK میں گورنر راج کا امکان
عالمی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق تقریباً 17 لاکھ غیر دستاویزی افغان اور 13 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین نے پاکستان کے مکانات، صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ افغان مہاجرین کی آمد سے خیبر پختونخوا کے 30 فیصد عوام نے تعلیمی سہولیات جبکہ 58 فیصد عوام نے صحت کی سہولیات میں کمی کی نشاندہی کی۔ مہاجرین کے اضافی بوجھ سے خیبر پختونخوا میں بےروزگاری بڑھنے سے مقامی معیشت دباؤ میں ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں متعدد افغان تاجر ٹیکس ادا کیے بغیر دولت مند ہو گئے ہیں، جس سے پاکستان کی ریونیو وصولی متاثر ہوئی۔ ناقدین کے بقول مجموعی طور پر افغان مہاجرین کی آمد نے پاکستان کی مختصر اور طویل المدتی معاشی ترقی دونوں پر ہی منفی اثر ڈالا ہے، افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر آمد سے خیبر پختونخوا کی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ افغان مہاجرین کے قدرتی وسائل کے حد سے زیادہ استعمال سے سنگین ماحولیاتی مسائل میں اضافہ ہوا۔ مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا کے امن اور عوامی وسائل کے تحفظ کے لیے افغان مہاجرین بارے وفاقی حکومت کی پالیسی پر عمل درآمد نا گزیر ہے۔ اگر اب بھی آفریدی سرکار نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی حکومت کے ریاست دشمن اقدامات کا خمیازہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور دہشتگردی کی صورت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
