عمران سے جان چھڑانے کے لیے مائنس ون فارمولا ٹھیک کیوں نہیں؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ بظاہر عمران خان کا سیاسی رویہ کبھی بھی قابل رشک نہیں رہا اور اب بھی نہیں، لیکن مائنس ون فارمولا اس کا علاج نہیں ہے۔ انکا کہنا ہے کہ مائنس ون کی کوششوں سے بس قوم کا وقت ضائع ہوتا ہے، کیونکہ جب بھی الیکشن ہوتے ہیں، جذباتی ووٹرز اپنے لیڈر کے حق میں امڈ آتے ہیں، اور پھر الیکشن چُرانے پڑتے ہیں، ایسے میں ملک سیمنٹ کے جوتے پہن کر وہیں کا وہیں کھڑا رہتا ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی کہتے ہیں بہ ظاہر سیاست میں سب ٹھیک چل رہا ہے، بہ ظاہر حکومت کو کسی بحران کا سامنا نہیں ہے، بہ ظاہر راوی تقریباً چین لکھ رہا ہے۔ لیکن سیاست کے سینے سے کان لگا کر سنا جائے تو ہنڈیا کے کھولنے کی آواز سنائی دے رہی ہے، یعنی کچھ پک رہا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ میں جب بھی کبھی’مائنس ون‘ کی کوشش کی جاتی ہے، سطح پر سکون کی دھند پھیلا دی جاتی ہے اور چین کی بانسری کا ساؤنڈ ٹریک اونچی آواز میں لگا دیا جاتا ہے۔ یہ دھند دراصل سموگ ہے، اس بانسری میں درجنوں چھید ہیں۔ ہم نے عمران خان کی حکومت میں یہ سموگ دیکھ رکھی ہے۔
جب نواز شریف ، شہباز شریف اور مریم نواز جیل میں تھے، آصف زرداری جیل میں تھے، تب بھی سب ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ تب بھی سڑکیں آج کی طرح سنسان تھیں، میڈیا کی مشکیں کس دی گئیں تھیں، ثاقب نثار گینگ واردات پر واردات کر رہا تھا، اور فیض حمید مسکرا رہے تھے، اور اُس بندوبست کو دہائیوں تک چلانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ راوی چین لکھ رہا تھا۔ لیکن پھر جو ہوا وہ سب کے سامنے ہوا۔ وقت کے فرعونوں کا اقتدار دھڑام سے زمین بوس ہو گیا۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ جمہوریت کی جڑیں عوامی زمین میں ہوتی ہیں، جبکہ بندوبست عسکری گملے میں اُگائے جاتے ہیں، لہذا گملے کا ٹوٹ جانا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا کرتا۔ ایسے کئی گملے ہم نے ٹوٹتے دیکھے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ مائنس ون سطح کو بظاہر پُرسکون کر دیتا ہے، مگر اندر ہی اندر اضطراب کڑھتا رہتا ہے۔ مائنس ون فارمولہ ریاست کے شہریوں سے سیاسی نظام میں شراکت داری کا احساس چھین لیتا ہے، پہلے بھی یہ ہوتا رہا ہے آج بھی ہو رہا ہے۔ یہ جو سوچ ہے کہ موجودہ بندوبست ’دائمی‘ ہے، کئی ملکوں کی مثالیں دی جاتی ہیں جو سنگینوں کے سائے میں دہائیوں سے چل رہے ہیں، اور ہم بھی ایسے ہی چلتے رہیں گے، یہ سوچ پاکستان کی تاریخ سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے، یہ قوم کی اجتماعی نفسیات سے نابلد ہونے کا شاخسانہ ہے۔
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ پاکستان کسی گوریلا جنگ کا ثمر تو نہیں ہے۔ جنرل ایوب خان سے جنرل پرویز مشرف تک، اور اس کے بعد بھی ملک کو تیغ و تبر سے چلانے کی کئی کوششیں کی گئیں، لیکن سب ناکام ہوئیں۔ یہ پاکستان کا ڈی این اے ہے۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مائنس ون کی کوششوں سے کچھ نہیں ہوتا، بس قوم کا وقت ضائع ہوتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں کیا کیا جائے؟
حماد غزنوی کہتے ہیں کہ عمران خان کے سیاسی رویے کبھی بھی قابلِ رشک نہیں رہے، اور اب بھی نہیں ہیں۔ ان کے درجنوں سیاسی فیصلے ناقابلِ دفاع ہیں، نو مئی سے آج تک، ان کی ذہنی حالت میں تبدیلی کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، سیاست دانوں کو غالباً آج بھی وہ چور ڈاکو کے لقب سے ہی یاد کرتے ہوں گے۔ لہذا ان چوروں اور ڈاکوؤں کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ عمران کو دوبارہ سیاسی عمل کا حصہ بنانے کی کسی کوشش کریں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ اب کیا کریں؟ بہ ظاہر کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ اس اندھیرے میں اگر کوئی درز کُھل سکتی ہے تو وہ صرف مذاکرات سے کھل سکتی ہے۔
سیاست دانوں کو سمجھنا ہو گا کہ اصل مسئلہ عمران خان نہیں، بلکہ پاکستان کا سیاسی استحکام ہے، یہ وہ کشتی ہے جس میں سب سیاست دان سوار ہیں، حکومت اور اپوزیشن دونوں۔ حکومت کا یہ دعویٰ کسی حد تک درست ہے کہ ہم نے پہلے بھی مذاکرات کی کوشش کی تھی جو عمران خان کے غیر سیاسی رویے نے ناکام بنا دی تھی۔ دوبارہ کوشش کرنے میں کیا حرج ہے؟ بہت ماہ گزر گئے، اب عمران خان کیا سوچ رہے ہیں؟ جیل میں بند سیاست دانوں کے بیانات اپنے حامیوں کو یہ بتانے کیلئے ہوتے ہیں کہ ان کا لیڈر ٹوٹا نہیں، ڈٹا ہوا ہے۔ سنجیدہ مذاکرات ایک یک سر مختلف معاملہ ہے۔ یہ بات چیت صرف اعلیٰ ترین سطح پر ہو سکتی ہے۔
حماد غزنوی کے بقول اپوزیشن کی حالیہ کانفرنس میں محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اس سیاسی گتھی کو سلجھانے میں’نواز شریف اپنا کردار ادا کریں‘۔ اس بارے میں اب دو رائے نہیں پائی جاتیں کہ نواز شریف اس وقت ملک کے سب سے سینئر سیاستدان ہیں۔ مگر کچھ عرصے سے وہ سیاست سے لاتعلق نظر آتے ہیں۔ شاید بے مزا ہو گئے ہیں۔ اپنی عمر بھر کی سیاست کا گوشوارہ نکالتے ہوں گے تو شاید دل گرفتہ ہوتے ہوں۔ تین بار حکومت سے نکالے گئے، جیلیں کاٹیں، جلاوطنیاں بھگتیں، اور بدلے میں سال ہا سال ریاستی اداروں نے ان کی کردار کُشی کی، کبھی عدالتوں میں رسوا کیا گیا، کبھی مودی کا یار قرار دیا گیا۔
اپوزیشن کانفرنس کا اعلامیہ سیاسی تضادات سے بھرپور کیوں ہے؟
ایسے میں ضروری تھا کہ ریاست کے لیول پر میاں صاحب سے معافی مانگی جاتی۔ بہر حال اس وقت حالات یہ ہیں کہ ہمارا مسئلہ سیاست نہیں بلکہ ریاست بھی ہے۔ میاں صاحب وہ واحد آدمی ہیں جن کی بات سب فریق غور سے سُنیں گے، محسن داوڑ سے اختر مینگل تک، اور جماعت اسلامی سے ایم کیو ایم تک۔ ادارے بھی اس تصادم سے نکلنا چاہتے ہیں، ان کے لیے بھی یہ کوئی خوش کُن صورتِ حال نہیں ہے، مگر انہیں رستہ نہیں نظر آ رہا۔ میاں صاحب نے 2013 میں بلوچستان میں ایک نیشنلسٹ کو وزیرِاعلیٰ بنایا تھا، اور عمران خان کو کے پی میں حکومت بنانے دی تھی۔ اسے جمہوری دانش مندی کہتے ہیں۔ میاں صاحب اعلیٰ ظرف انسان ہیں، بے نظیر کی شہادت سے عمران خان کے زخمی ہونے تک، کئی مواقع پر ان کا رویہ مثالی رہا ہے۔میاں صاحب، آپ نے سویلین بالا دستی اور جمہوریت کے استحکام کیلئے کئی گناہ کیے ہیں لہذا ایک گُناہ اور سہی۔
