عمران کی رہائی کی تحریک آغاز سے پہلے ہی خاتمے کیجانب گامزن کیوں؟

عمران خان کی جانب سے اپنی رہائی کے لیے تحریک شروع کرنے کے اعلان کیساتھ ہی پی ٹی آئی شدید اختلافات کا شکار ہو گئی ہے اور مجوزہ تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی خاتمے کی جانب گامزن دکھائی دیتی ہے۔

26 نومبر 2023 کے اسلام آباد دھرنے کی ناکامی کے باوجود عمران خان کا خیال ہے کہ اسلام آباد میں فیصلہ کن احتجاج اور دھرنے کے علاوہ انکی رہائی ممکن نہیں، تاہم پارٹی کی مرکزی قیادت بشمول وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے 5 اگست کے بجائے اگلے 90 دن کا الٹی میٹم دیا ہے۔ جس وجہ سے انھیں پارٹی کے اندر شخر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف نے کم وبیش آٹھ ماہ بعد کسی سیاسی سرگرمی کا انعقاد کیا اور علی امین گنڈاپور کی قیادت میں منتخب ارکان قافلے کی صورت میں جی ٹی روڈ کے راستے پشاور سے لاہور روانہ ہوئے۔ جب یہ قافلہ روانہ ہوا تو یہ تاثر دیا گیا کہ اب اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی، لیکن تحریک انصاف کے اپنے ہی لوگ اب یہ الزام لگا رہے ہیں کہ اس دورے کا مقصد عمران خان کی رہائی کے لیے کسی لائحہ عمل کی تیاری نہیں تھی بلکہ 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرنے والے مرزا آفریدی کے لیے ایم پی ایز کی حمایت حاصل کرنا تھا۔ یاد رہے کہ مرزا آفریدی علی مین گنڈا پور کے دوست ہیں اور خیبر پختون خواہ سے سینیٹ کے الیکشن میں پی ٹی آئی کی ٹکٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

سونے پر سہاگہ یہ کہ علی امین گنڈا پور نے ایک پریس کانفرنس میں مجوزہ تحریک کا دورانیہ 90 روز بتا دیا حالانکہ عمران خان نے پانچ اگست سے تحریک شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ تحریک انصاف کی مرکزی رہنما عالیہ حمزہ نے اس حوالے سے علی امین گنڈاپور کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس صورت حال کے حوالے سے تجزیہ کار ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ صورت حال ایک بار پھر تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر دو گروپس ہیں۔ ایک گروپ مفاہمت جبکہ ایک مزاحمت اور احتجاج کی بات کرتا ہے۔ دو سال سے تحریک انصاف پر مزاحمتی گروپ کا غلبہ ہے۔ اگرچہ مزاحمتی گروپ پاپولر ہے لیکن اا کی حکمت عملی نامکمل ہے۔ یعنی وہ جب بھی دھرنے یا احتجاج کی کال دیتا ہے تو اس کے پاس لائحہ عمل یا مطالبات نہیں ہوتے جس پر حکومت سے بات چیت کی جا سکے۔ اسی طرح وہ کوئی ایسے اقدامات بھی تجویز نہیں کرتے جس سے اعتماد سازی کا ماحول بن سکے۔

ماجد نظامی کے مطابق ’تحریک انصاف کا دوسرا دھڑا مذاکرات یا مفاہمت کی بات کرتا ہے۔ ان کو پتا ہے کہ ان کی جماعت کے پاس اب کوئی پرتشدد احتجاج کی آپشن باقی نہیں بچی، کیونکہ 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کو ایسا کر کے دیکھ چکے ہیں اور پوری جماعت اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔

گذشتہ برس 26 نومبر کے احتجاج کے حوالے سے سوال یہ ہے کہ اگر علی امین گنڈاپور اور بشری بی بی منظر سے غائب نہ ہوتے تو کیا وہ 126 دن کا دھرنا دینے کی پوزیشن میں تھے؟ بظاہر ایسا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ اب تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور پہلے جیسی نہیں رہی۔ اگر ماضی قریب میں تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک کو دیکھا جائے تو اس کی قیادت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور ہی کرتے رہے ہیں۔ کئی دن تک محنت اور انتطامیہ سے بات چیت اور عدالتی احکامات کے بعد جب احتجاجی جلسہ ہوتا تھا اور علی امین گنڈاپور اس میں شرکت کے لیے نکلتے اور جلسے کا وقت ختم ہو جاتا تو انتظامیہ جلسہ ختم کرنے کے لیے دباو ڈالنے لگ جاتی، لیکن علی امین گنڈاپور نہ پہنچ پاتے۔ جس وجہ سے نہ تو کارکنان کو کوئی نیا لائحہ عمل ملتا اور نہ ہی حکومت اور انتظامیہ کے سامنے مطالبات رکھے جاتے۔

اس سلسلے میں آخری کوشش 26 نومبر 2024 کو ہوئی جب کئی روز تک مارچ کرتے ہوئے تھکے ہارے کارکنان تمام رکاوٹیں توڑ کر ڈی چوک پہنچ گئے۔ ایک ایسے وقت میں جب انتظامیہ نے مظاہرین کو ہٹانے کے لیے فیصلہ کن آپریشن شروع کیا تو اس وقت ایک ویڈیو منظرعام پر آئی جب علی امین گنڈاپور عمران خان کی اہلیہ کی گاڑی بدل کر انھیں جلسے سے لے کر غائب ہوگئے اور اگلے دن وہ مانسہرہ میں ملے جہاں انھوں نے پریس کانفرنس کرکے اپنے اچانک نکلنے کی وجوہات بیان کیں۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ وہ احتجاج سے غائب ہوئے بلکہ اس سے قبل اکتوبر 2024 میں بھی وہ ایک ریلی کی قیادت کرتے اور تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے ڈی چوک پہنچے تھے جس کے بعد وہ کے پی ہاوس چلے گئے۔

اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کے پی ہاوس کا گھیراؤ کیا اور تلاشی شروع کر دی تو اس دوران علی امین گنڈاپور غائب ہوگئے۔ تحریک انصاف نے الزام عائد کیا کہ انھیں اغوا کر لیا گیا ہے یا حراست میں لے لیا گیا ہے، تاہم وزیر داخلہ نے کسی بھی وفاقی ادارے میں ان کی حراست کی تردید کی۔ اس واقعہ کے 24 گھنٹے بعد علی امین گنڈاپور ایک ایسے وقت میں کے پی اسمبلی میں پہنچے جب اسمبلی ان کے مبینہ اغوا کے خلاف قراردار منظور کر چکی تھی۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں علی امین گنڈاپور نے ڈرامائی اندازمیں چھپتے چھپاتے اور کسی کی مدد سے 12 اضلاع سے گزر کر کے پی پہنچنے کی داستان سنائی جس کے چرچے کئی روز تک سوشل میڈیا کی زینت بنے رہے، تاہم انھوں نے اپنے اغوا کی بات کو رد کیا اور بتایا کہ وہ چالاکی سے کے پی ہاؤس سے نکلنے اور مارگلہ کے راستے اسلام آباد سے نکلے۔

تحریک انصاف نے گذشتہ ایک سال کے دوران کے پی میں بڑے بڑے سیاسی جلسے کیے لیکن وہ بے سود رہے جس کے بعد ایک مرتبہ لاہور اور تین مرتبہ اسلام آباد میں احتجاج کیا گیا لیکن ہر دفعہ احتجاج ڈرامائی انداز میں ختم ہوا اور اس کی ناکامی کا ذمہ دار علی امین گنڈاپور کو قرار دیا گیا یا وہ مورد الزام ٹھہرائے گئے۔

اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ علی امین گنڈاپور کو اس وقت کئی محاذوں کا سامنا ہے۔ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں اس لیے کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت وہ اپنی پوزیشن کو سامنے رکھتے ہیں، جبکہ پارٹی  ورکرز کو اس وقت صوبے کے امور اور حکومت سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ ان کی واحد منشا عمران خان کی رہائی ہے۔ جو لوگ اس موقف کے حامی ہیں پتا ان کو بھی ہے کہ معاملہ مذاکرات سے حل ہوگا، لیکن وہ مذاکرات سے پہلے حکومت اور ریاست کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں۔

تازہ صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف ان کی اپنی جماعت کے اندر سے ان کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ دوسری طرف انھیں خدشہ ہے کہ جے یو آئی انکی حکومت گرانے میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے ساتھ مل سکتی ہے۔ اسی وجہ سے انھوں نے لاہور میں ان کو بھی چیلنج کر دیا۔ عمران خان کی بہنوں کے حوالے سے بھی گاہے بگاہے ان کو کچھ نہ کچھ سننا پڑتا ہے۔ ایسے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گنڈاپور کو اپنی روایتی حکمت عملی کو تبدیل کرتے ہوئے پہلے پارٹی کے اندر اعتماد سازی کرنا ہوگی اور اس کے بعد ہی کوئی ایسی تحریک چلا سکیں گے جس کا کوئی منطقی انجام ہوگا، بصورت دیگر اس احتجاج کا اختتام تو شروع ہونے سے پہلے ہی ہو چکا ہے اور سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کو ن لیگ کی جانب سے نہیں بلکہ اپنے ہی لوگوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔

Back to top button