اپوزیشن کانفرنس کا اعلامیہ سیاسی تضادات سے بھرپور کیوں ہے؟

پی ٹی آئی اور اس کے زیرِ اثر چند چھوٹی سیاسی جماعتوں کی بلائی گئی قومی مشاورتی کانفرنس کے بعد جاری ہونے والا اعلامیہ سیاسی تضادات اور دوہرے معیار کی واضح مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ فروری 2024 کے انتخابات میں دھاندلی کو بنیاد بنا کر نئے انتخابات کا مطالبہ کرنے والے شرکا نے 2018 کے الیکشن میں ہونے والی تاریخی دھاندلی کا ذکر تک مناسب نہ سمجھا، یاد رہے کہ 2018 میں آر ٹی ایس سسٹم کو بٹھا کر نتائج تبدیل کیے گئے تھے اور عمران خان کو وزیراعظم بنوایا گیا تھا۔
قومی مشاورتی کانفرنس کے بعد 8 فروری کو ملک بھر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان تو کر دیا گیا ہے، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق اس اعلان کی عملی کامیابی کا امکان نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی سٹریٹ پاور عملاً ختم ہو چکی ہے اور گزشتہ ایک برس کے دوران عمران خان کی جانب سے دی جانے والی ہر احتجاجی کال بری طرح ناکام رہی ہے۔ ان کے مطابق 8 فروری کو احتجاج اور ہڑتال کی کال دراصل پی ٹی آئی کے ووٹرز اور سپورٹرز کو ایک بار پھر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قومی کانفرنس میں پیش کیے گئے مطالبات اس کہاوت کی عملی تصویر ہیں کہ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔ مبصرین کے مطابق اگر کانفرنس کے اعلامیے کے نکات کا سنجیدگی سے پوسٹ مارٹم کیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ یہ دستاویز کس قدر تضادات سے بھری ہوئی ہے۔ اعلامیے میں چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا کہ ان ترامیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی سلب کر لی گئی ہے۔ تاہم تحریک انصاف کے ناقدین اس مؤقف پر سوال اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شاید کانفرنس کے شرکا کو ویسی ہی ہم خیال عدلیہ درکار ہے جو ماضی میں فیض حمید اور عمران خان کے ساتھ مل کر ہر ریڈ لائن کراس کر چکی تھی۔
ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ اسی ہم خیال ٹولے کے ایک رکن جسٹس مظاہر اکبر نقوی کو بدعنوانی کے الزامات پر برطرف کیا گیا۔ ’مظاہر ٹرکاں والا‘ کے نام سے مشہور اس سابق جج کے خلاف جوڈیشل کونسل میں کرپشن کی نو شکایات زیرِ سماعت تھیں۔ وہ استعفیٰ دے کر پنشن اور دیگر مراعات بچانے کے خواہاں تھے، تاہم انکا یہ خواب پورا نہ ہو سکا اور انہیں برطرف کر دیا گیا۔ اسی گروہ کے ایک اور اہم رکن جسٹس اعجاز الاحسن پر بھی برطرفی کی تلوار لٹک رہی تھی، تاہم انہوں نے بروقت استعفیٰ دے کر اپنی پنشن محفوظ بنا لی۔
ناقدین کے مطابق عمراندار ججز کے اس ٹولے کے سربراہ سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار بھی اپنے کرتوتوں کی وجہ سے عوامی تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ ایسے میں بڑا سوال یہ ہے کہ کیا قومی کانفرنس کے شرکا کو ایسا چیف جسٹس درکار ہے جس کے بیٹے وہ قیمتی کاریں استعمال کرتے رہے جو کہ ٹاپ سٹی سکینڈل کے دوران فیض حمید کے ذریعے حاصل کی گئیں۔ یاد رہے کہ یہ معاملہ ریکارڈ کا حصہ ہے کہ فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی سکینڈل کی تفتیش کے دوران ایک گاڑی سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے برآمد بھی ہوئی۔
اعلامیے میں حال ہی میں مستعفی ہونے والے جسٹس اطہر من اللہ کا ذکر بھی کیا گیا اور انہیں جمہوریت کا چیمپئن قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ جسٹس اطہر من اللہ جنرل مشرف کے آمرانہ دور میں کابینہ کا حصہ رہے اور تب وہ جنرل مشرف کے کھلے حامی تھے۔ اسی طرح جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فیض حمید کی عدلیہ میں مداخلت کے ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے تو آج عدالتی آزادی پر آہ و زاری کرنے والا یہی جج تب خاموش رہا بلکہ جسٹس شوکت صدیقی سے لاتعلقی اختیار کر لی گئی۔ اس صورتِ حال کے سب سے بڑے بینیفشری بھی جسٹس اطہر من اللہ ہی قرار دیے جاتے ہیں، جو شوکت صدیقی کے ہٹنے کے بعد چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ بنے۔
ناقدین سوال کرتے ہیں کہ اگر قومی مشاورتی کانفرنس کے شرکا کے خیال میں 8 فروری 2024 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو کیا الیکشن 2018 دودھ سے دھلے ہوئے تھے، جن کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو عوام پر مسلط کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ قومی کانفرنس کے اعلامیے میں 2018 کی تاریخی دھاندلی کا ذکر نہ کرنا منافقت کی مثال ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کانفرنس کے شرکا نے خود کو سپریم کورٹ اور آئینی عدالت سے بھی بالاتر ثابت کرنے کی کوشش کی۔ عدالتی فیصلوں اور سزاؤں کے باوجود کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے۔ ناقدین سوال کرتے ہیں کہ اگر مجرم یا بے گناہ ہونے کے فیصلے نام نہاد قومی کانفرنسوں میں ہونے ہیں تو پھر ملک بھر کی جیلوں میں قید ہزاروں قیدیوں کو بھی یہ حق دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم بنا کر خود کو بے گناہ قرار دیں اور عدالتیں بند کر دی جائیں۔
سزائیں عمران کی سیاست ختم کر دیں گی یا اسے زندہ کر دیں گی؟
کانفرنس کے اعلامیے میں عمران خان کی فیملی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کا ذکر بھی کیا گیا۔ ناقدین تسلیم کرتے ہیں کہ کسی بھی فیملی کے ساتھ بدسلوکی قابلِ مذمت ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ کانفرنس کے شرکا کو یہ دہائی دینے سے پہلے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں اپوزیشن قیادت اور ان کی خواتین کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا۔
