ایران اسرائیل جنگ سے پاکستانی معیشت خطرے میں کیوں؟

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے اثرات اب صرف خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کی گونج پاکستان کی معیشت میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔ معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے کے لیے بند ہو جاتی ہے تو تیل کی عالمی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور تجارتی سرگرمیوں میں سست روی پاکستان کے لیے ایک بڑے معاشی دھچکے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔چونکہ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے اسی سمندری راستے کے ذریعے حاصل کرتا ہے، اس لیے ترسیل میں کسی بھی تعطل کا براہِ راست اثر ایندھن کی قیمتوں پر پڑے گا۔ نتیجتاً مہنگائی میں تیزی، صنعتی لاگت میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں میں دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ایسی صورتحال نہ صرف ٹرانسپورٹ، بجلی اور پیداواری شعبے کو متاثر کرے گی بلکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی بھی مہنگائی کی نئی لہر کی زد میں آ سکتی ہے، جس سے مہنگائی کی چکی میں پسے پاکستانی عوام کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے فیصلے سے پاکستان میں تیل کی قیمتیں دوگنی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ سٹریٹیجک آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی چوڑائی صرف 33 کلومیٹر ہے، آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ کے خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیا، یورپ، شمالی امریکا اور دیگر دنیا سے جوڑتی ہے، اس سمندری پٹی کے ایک طرف امریکا کے اتحادی عرب ممالک تو دوسری طرف ایران وقع ہے۔دنیا کی یومیہ تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ یعنی تقریباً 20 فیصد تیل یہاں سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے یومیہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے، ان ممالک میں پاکستان، چین، جاپان، جنوبی کوریا ، یورپ، شمالی امریکا اور دنیا کے دیگر ممالک شامل ہیں۔
اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے 20 فیصد تیل اور 30 فیصد گیس کی ترسیل ہوتی ہے، یہاں سے روزانہ تقریباً 90 اور سال بھر میں 33 ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں۔دنیا کی مائع قدرتی گیس کی تجارت کا پانچواں حصہ بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ ایل این جی برآمد کرنے والا ملک قطر بھی اپنی برآمدات کے لیے اسی گزر گاہ پر انحصار کرتا ہے۔ 33 کلو میٹر چوڑی اس سمندری پٹی سے دو شپنگ لینز جاتی ہیں، ہر لین کی چوڑائی تین کلو میٹر ہے جہاں سے بڑے آئل ٹینکرز گزرتے ہیں۔دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین معیشت کی روانی کے لیے خلیج سے اپنی ضرورت کا آدھا تیل منگواتا ہے جبکہ جاپان یہاں سے 95 فیصد اور جنوبی کوریا 71 فیصد تیل اسی راستے سے درآمد کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز سے ہی یہ تینوں ممالک خلیجی ممالک کو گاڑیاں اور الیکٹرانک سامان کی ترسیل بھی کرتے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی معیشت کیلئے اس لیے بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کا کوئی حقیقی متبادل موجود نہیں ہے۔ بڑے پیمانے پرخلیجی ممالک کا تیل تاخیر کے بغیر کسی اور راستے سے منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ آبنائے ہرمز واحد گہرے پانی کا راستہ ہے جو دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ٹینکرز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ معاشی ماہرین کے بقول آبنائے ہرمز کی بندش سے صرف امریکہ یا یوپی ممالک ہی متاثر نہیں ہونگے بلکہ خیلجی ممالک کو بھی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کی معیشتیں تیل کی برآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں، اس لیے آبنائے ہرمز کی بندش سے ان کے معاشی استحکام کو شدید دھچکا لگے گا۔
معاشی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز صرف سمندری گزرگاہ ہی نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگ بھی ہے کیونکہ روزانہ اس کے ذریعے دنیا کے تیل کا 20 فیصد حصہ اور قدرتی مائع گیس یعنی ایل این جی کا 30 فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس لئے آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی معیشت پر وسیع تر اثرات مرتب ہونگے حقیقت میں عالمی معیشت کا کباڑہ نکل جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے بقول آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 85ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔ اگر ایران، امریکہ اور اسرائیل کشیدگی جاری رہی تو قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر جا سکتی ہیں، جس سے پاکستان میں آنے والے دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایران میں زمینی افواج بھیجے بغیر ریجیم چینج ممکن کیوں نہیں؟
مبصرین کے مطابق پاکستان اپنی تقریباً 90 فیصد تیل درآمدات خلیجی ممالک سے کرتا ہے، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر شامل ہیں۔ ان ممالک کی برآمدات کی بڑی مقدار آبنائے ہرمز سے گزر کر عالمی منڈی تک پہنچتی ہے۔ اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو پاکستان کے لیے متبادل ذرائع سے تیل کی فراہمی نہ صرف مہنگی بلکہ محدود بھی ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان میں مہنگائی کے ایک نئے طوفان کو جنم دے سکتا ہے۔ ایندھن مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے، جس کا اثر اشیائے خورونوش سے لے کر صنعتی مصنوعات تک ہر چیز کی قیمت پر پڑے گا۔ صنعتی شعبے کی لاگت بڑھنے سے برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں اور عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقتی صلاحیت مزید کمزور پڑ سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق پاکستان میں تیل مہنگا ہونے سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے پیداواری اخراجات میں اضافہ ہو گا، جس کے نتیجے میں بجلی کے نرخ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اس کا براہِ راست اثر صنعتی پیداوار، چھوٹے کاروبار اور گھریلو صارفین پر پڑے گا۔ معاشی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش پاکستان کے لیے ایک سنجیدہ معاشی خطرہ بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ عالمی تجارتی گزرگاہ بند ہونے سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی میں شدت، صنعتی لاگت میں اضافہ اور تجارتی سست روی جیسے عوامل ملکی معیشت کا کباڑہ نکال سکتے ہیں۔
