پاکستانی قوم قاتل طالبان اور بلوچوں کی محبت میں کیوں مبتلا ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار رووف کلاسرا نے پاکستانی قوم کو قاتلوں کی محبت میں گرفتار قوم قرار دیا ہے جو طالبان اور بلوچ دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنے مسلمان بھائیوں کے قتل عام کا بھی کوئی نہ کوئی جواز ضرور تلاش کر لیتی ہے۔

سینیئر صحافی کا کہنا یے کہ بلوچستان لبریشن آرمی کے ہاتھوں درجنوں افراد کو مسافر ٹرین میں ان کے بچوں اور بیویوں کے سامنے قتل کر دیا گیا، لیکن اگر اس بارے سوشل میڈیا کی پوسٹیں پڑھیں تو اندازہ ہوگا کہ اس قوم کو قاتلوں سے کتنا پیار ہے۔ ایک مخصوص طبقے کی جانب سے کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا ہے کہ حملہ آوروں نے رحمدلی دکھاتے ہوئے عورتوں اور بچوں کو جانے دیا۔ یعنی جن سفاک قاتلوں نے بچوں کے والدین اور عورتوں کے سہاگ انکی نظروں کے سامنے گولیوں سے بھون ڈالے وہ رحم دل تھے اور انکے دل بہت اچھے تھے‘ یعنی انہوں نے معصوم بچوں کو صرف یتیم کیا اور عورتوں کو صرف بیوہ کیا۔ انہوں نے کسی ماں کو کچھ نہیں کہا، صرف اسکا بیٹا اسکے سامنے مار ڈالا۔ یعنی بی ایل والے قاتل تو تھے لیکن رحم دل والے۔

رووف کلاسرا سوال کرتے ہیں کہ قاتلوں سے ایسا پیار اور محبت اور کسی قوم میں کہاں ملتا ہوگا؟ اپنے تازہ تجزیے میں ان کا کہنا ہے کہ دنیا کے کسی خطے میں دہشت گردی ہو یا وہاں کوئی گروہ حملہ کرے تو پورا ملک اور معاشرہ اسکے خلاف اکٹھا ہو جاتا ہے۔ وہ انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں‘ اگر مگر کی گنجائش نہیں ہوتی‘ معاشرے کے سب لوگ یک زبان ہوکر‘ تمام سیاسی اختلافات کو ایک سائیڈ پر رکھ کر دشمنوں سے لڑتے ہیں۔ وہ انہیں دہشت گرد سمجھتے ہیں اور ان کے لیے کسی کے دل میں کوئی رعایت یا ہمدردی نہیں پائی جاتی کیونکہ انہوں نے انسانوں کی جان لی ہوتی ہے۔

لیکن وہ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان یں جو بھی عناصر یا گروہ دہشت گردی کرتے ہیں انکے ساتھ عوامی ہمدردی بھی ہوتی یے کیونکہ ہم ان کی دہشت گردی کا کوئی نہ کوئی جواز ڈھونڈ لیتے ہیں۔ جو بھی گروہ ہم پر حملہ آور ہوتا ہے ہم اسکے حملے اور لوگوں کو قتل کرنے کا جواز تلاش کر لیتے ہیں۔ آپ دیکھ لیں کہ ہم نے اسی ہزار پاکستانی شہری مروا دیے ہیں لیکن ہمارے اندر وہی سوچ پل رہی کہ طالبان تو بے چارے گمراہ اور بھٹکے ہوئے لوگ ہیں‘ ہمارے بھائی ہیں‘سیدھے سادھے ہیں‘انہیں پیار دیں‘ انہیں گلے سے لگائیں‘ انہیں قومی دھارے میں لائیں۔ جب وہ روز بندے مارے رہے تھے‘ مسجدوں میں بم دھماکے کررہے تھے اور معصوم لوگ قتل کر رہے تھے، تب بھی اکثر پاکستانیوں کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں۔ جب تک طالبان نے آرمی پبلک سکول پشاور میں 140 بچوں کا بے رحمانہ قتل نہیں کیا‘ اس قوم کی آنکھیں نہیں کھلیں۔

چلیں کھل گئیں آنکھیں، اسکے بعد آپ نے کیا کر لیا؟ جب عوام طالبان سے دور ہٹنے لگتے ہیں تو ہماری فوج انہیں گلے لگا لیتی ہے کہ انہیں کچھ نہ کہو کیو کہ یہ ہمارا قومی اثاثہ ہیں۔ ان سے ہم نے بہت کام لینے ہیں۔ انہوں نے ہمیں افغانستان فتح کر کے دینا ہے۔ کابل پر پشتوں حکمران بٹھانے کے جنون میں ہم نے اپنا ملک تباہ کرا لیا لیکن ہمارا ان سے عشق ختم نہ ہوا۔ ہمیں بتایا گیا کہ جب یہ پشتون حکمران کابل پر بیٹھیں گے تو انڈیا کی خیر نہیں۔ ہمارا مغربی بارڈر محفوظ ہو جائے تو ہم مشرقی بارڈر پر انڈیا کو سنبھال لیں گے۔ دراصل ہمارا دشمن مشرقی بارڈر پر تھا جس سے ہم نے سیز فائز کر رکھا ہے اور برسوں سے اس بارڈر پر گولہ باردو نہیں چلا‘ لیکن اب سب گنیں توپیں مغربی بارڈر پر چلتی ہیں۔ اگر ہم جنرل ضیا کے مجاہدین کو کچھ دیر بھول کر بینظیر بھٹو کے وزیرداخلہ جنرل نصیر اللہ بابر سے شروع کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہمارے پالیسی میکرز کا ذہن مستقبل کو پڑھنے کی کتنی کم صلاحیت رکھتا ہے۔ وقتی فوائد کو سامنے رکھ کر جو پالیساں بنائی گئیں وہ سب سول ملٹری حکمرانوں نے جاری رکھیں۔ جنرل مشرف نے اس کام کو عروج پر پہنچایا جب اس نے 9 ستمبر کے حملوں کے چند برسوں بعد ایک انٹرویو میں فخر سے کہا کہ ہم نے امریکہ سے ڈبل گیم کھیلی۔ ان سے وار آن ٹیررکے نام پر ڈالرز بھی لیتے رہے اور ان کے دشمن طالبان کو اپنے ہاں پناہ بھی دیے رکھی۔ مشرف نے مزید کہا کہ جب تورا بورا پر بمباری کے بعد طالبان فرار یو کر پاکستان کی طرف بھاگے تو ہم نے انہیں بارڈر پر روکنے کی بجائے اپنے ہاں محفوظ پناہ دی تا کہ جب امریکی افغانستان سے چلے جائیں تو طالبان ہمارے کام آئیں گے۔

رووف کلاسرا کہتے ہیں کہ جنرل مشرف کی پیشگوئی پوری ہوئی۔ امریکن افغانستان سے چلے گئے۔ ہمارے پیارے پشتون طالبان کابل کے حکمران بن گئے‘ جو ہمارا دیرینہ خواب تھا۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ تین سالوں سے ان طالبان نے ہمیں ٹف ٹائم دیا ہوا ہے۔ جس انڈیا کے نام پر ہم طالبان کو افغانستان لائے تھے اب اسی انڈیا سے طالبان کے پاکستان سے زیادہ اچھے اور ایسے گہرے تعلقات ہیں کہ پاکستان اب الزام لگاتا ہے کہ انڈیا اور افغانستان نے مل کر بلوچستان میں ٹرین ہائی جیک کرائی اور درجنوں معصوم لوگ مارے گئے۔ یہ تھی ہمارے سول ملٹری حکمرانوں اور پالیسی میکرز کی دور اندیشیاں۔ اب خیبر پختون خوا پھر جل رہا ہے۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ ہمارے سابق جرنیل ہی طالبان کو واپس لائے اور انہیں سوات میں بسایا۔ ابھی تو عمران خان کی حکومت چلی گئی اور صرف 35000 طالبان ہی ہہاں لائے جا سکے۔ عمران کا منصوبہ تو بڑا تھا۔ انہوں نے ابھی 35000 مذید طالبان پاکستان لانے تھے۔ آپ زرا داد تو دیں عمران خان‘ جنرل باجوہ اور جنرل فیض کو جنہوں نے نہ صرف یہ فیصلہ کیا بلکہ اس پر عمل بھی کر دیا۔ اسے فیصلے کے بعد اربوں روپوں کی مالیت سے افغان سرحد پر لگائی گئی باڑ کو خود پاکستانی فوج نے کاٹا اور طالبان کو واپس لے آئے۔جب ہمیں اس حد تک اپنے قاتلوں سے پیار ہے تو پھر آپ انڈیا اور افغانستان کو کیوں الزام دیتے ہیں؟ اگر آپ خود اپنی بہتری نہیں سوچ سکتے تو آپ کے دشمن کیوں آپ کا بھلا سوچیں گے؟

Back to top button