نون لیگ 20 ماہ بعد بھی PPP سے پاور شیئرنگ پر تیار کیوں نہیں؟

وفاق میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت قائم ہوئے 20 ماہ گزر جانے کے باوجود دونوں جماعتوں کے درمیان طے شدہ پاور شیئرنگ فارمولہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ پیپلز پارٹی مسلسل نالاں ہے کہ ن لیگ نے معاہدے کی روح کے مطابق اختیارات کی تقسیم، انتظامی شراکت اور فیصلہ سازی میں اسے وہ کردار نہیں دیا جو کہ 2024 میں حکومت سازی کے وقت پاور شیئرنگ فارمولے میں طے پایا تھا۔ چنانچہ 20 ماہ بعد دونوں جماعتوں کے درمیان دوریاں بڑھ رہی ہیں اور پاور شیئرنگ فارمولا محض ایک کاغذ تک محدود دکھائی دیتا ہے۔
مرکزی اور صوبائی سطح پر قائم اتحادی ڈھانچے کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان پاور شیئرنگ کا معاہدہ عملی طور پر تعطل کا شکار ہے۔ پنجاب کی سیاسی فضا گزشتہ کئی ماہ سے سرد مہری کا شکار ہے اور دونوں جماعتوں کے درمیان پاور شیئرنگ کمیٹی کے اجلاس مسلسل 8 ماہ سے منعقد نہیں ہو سکے۔ یہ کمیٹی اصل میں ماہانہ بنیاد پر ملاقاتوں کے لیے قائم کی گئی تھی تاکہ صوبے میں ترقیاتی بجٹ، افسران کی تقرریوں اور انتظامی اختیارات کے معاملات باہمی مشاورت سے طے ہوتے رہیں، مگر اب تک یہ سلسلہ دوبارہ شروع نہیں ہو سکا۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ڈیڈ لاک کی بنیادی وجہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا آمرانہ رویہ ہے جو پاور شیئرنگ پر یقین ہی نہیں رکھتیں۔
پیپلز پارٹی کی قیادت کو یہ گلہ ہے کہ نون لیگ کی طرف سے زبانی یقین دہانیوں کے باوجود پاور شیئرنگ کے معاملے پر عملی طور پر کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری حسن مرتضیٰ کے مطابق ن لیگ کے رہنما ہر ملاقات میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ دونوں جماعتوں کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا وہ قابلِ عمل ہے، لیکن عملی طور پر مسلم لیگ ن کی پنجاب حکومت کی جانب سے کوئی ایسا قدم اٹھتا دکھائی نہیں دیتا جو ان وعدوں کی تکمیل کا ثبوت دے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اس فارمولے پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں، چنانچہ پیپلز پارٹی کے حلقوں میں شدید ناراضی پائی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ الیکشن میں جب کسی بھی جماعت کو وفاق میں واضح اکثریت نہ مل سکی تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان ایک مفاہمتی فارمولا طے پایا تھا جسکے تحت وفاقی سطح پر صدرات اور دیگر اہم آئینی مناصب پیپلز پارٹی کو ملے، جبکہ پنجاب میں انہیں انتظامی اور ترقیاتی معاملات میں شمولیت کی یقین دہانی کرائی گئی۔ یہ طے ہوا تھا کہ ایک مشترکہ کمیٹی ہر ماہ بیٹھ کر متفقہ پالیسی بنائے گی، مگر عملی طور پر یہ سلسلہ ابتدائی ملاقاتوں تک محدود رہا جس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ پنجاب میں سرکاری افسران کی تعیناتیاں طے شدہ فارمولے کے برخلاف یکطرفہ طور پر کی جا رہی ہیں، اور کچھ اضلاع میں تبادلوں سے بھی پارٹی قیادت کو بےخبر رکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کے سلسلے میں بھی پیپلز پارٹی کے نمائندوں کی شمولیت یقینی نہیں بنائی گئی۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کے دوران بھی مریم نواز کی صوبائی حکومت نے پیپلز پارٹی کے منتخب اراکین اسمبلی کو مکمل طور پر نظرانداز کیا اور کسی سطح پر اعتماد میں نہیں لیا۔
کیا حکومت KP میں گورنر راج کے نفاذ سے پیچھے ہٹ گئی؟
اسکے علاوہ 20 ماہ گزرنے کے باوجود پیپلز پارٹی پنجاب کی کابینہ میں شامل نہیں ہو سکی، اور نہ ہی ن لیگ نے کسی ایسے سیاسی انتظام پر آمادگی ظاہر کی ہے جس سے پیپلز پارٹی کو اختیارات یا نمائندگی مل سکے۔ اس صورتحال نے پیپلز پارٹی کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے منتخب اراکین اسمبلی میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے، پارٹی کی اعلی قیادت میں بھی یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ دونوں جماعتوں کا پاور شیئرنگ فارمولہ محض ایک علامتی معاہدہ بن کر رہ گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق دونوں جماعتوں کا ایک دوسرے سے بڑھتا ہوا فاصلہ اس حقیقت کو مزید نمایاں کر رہا ہے کہ یہ اتحاد اندرونی کمزوریوں کا شکار ہے۔ وفاق میں شراکتِ اقتدار کے باوجود صوبائی سطح پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے معاملات متوازی خطوط پر چل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مبصرین اس صورتحال کو مجبوری کا اتحاد قرار دے رہے ہیں، جو بظاہر برقرار ہے مگر عملی طور پر غیر فعال دکھائی دیتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر دونوں جماعتوں کے مابین موجودہ تعطل برقرار رہا تو امکان ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرے اور مستقبل کے سیاسی منظرنامے میں ن لیگ کے ساتھ تعاون ختم کرنے پر مجبور ہو جائے حالانکہ اس سے نون لیگ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
