ٹرمپ اور فرعون جیسوں کی طاقت اور عروج عارضی کیوں ہوتا ہے؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ میں ہر دور میں ایک غالب قوت ابھرتی رہی ہے، چاہے اسے فرعون کہا جائے، نمرود یا شداد۔ مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت کا ہر دور عارضی ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ نئے کردار سامنے آتے ہیں اور طاقت کے توازن بدل جاتے ہیں۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں عمار مسعود نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کی باگ ڈور ایک ایسی سوچ کے ہاتھ میں چلی گئی ہے جہاں حق و باطل، سچ اور جھوٹ، اور ظالم و مظلوم کی روایتی تفریق مٹ چکی ہے۔ ان کے مطابق آج کی دنیا میں سچ وہی قرار دیا جاتا ہے جسے طاقتور حلقے درست کہیں، اور حق کا فیصلہ بھی وہی کرتے ہیں جن کے پاس قوت کا مرکز ہے۔

 

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ آج کی دنیا میں فیصلے اصولوں کے بجائے شخصیات کی بنیاد پر ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول یہ فیصلہ بھی طاقتور قوتیں کرتی ہیں کہ کس ملک کو کب موردِ الزام ٹھہرانا ہے، کس قیادت کو عالمی سطح پر مجرم کی طرح پیش کرنا ہے، اور کہاں رجیم چینج کا نعرہ بلند کرنا ہے۔ معاشی پابندیاں، ٹیرف کا نفاذ، سفارتی دباؤ اور عسکری کارروائیاں اسی پالیسی کے اوزار بن چکے ہیں۔

عمار مسعود نے کہا کہ ایران میں بچیوں کے اسکولوں پر حملوں اور معصوم جانوں کے ضیاع جیسے واقعات عالمی ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات مظلوم کو ہی ظالم بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور طاقت کے استعمال کو جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہتے شہریوں پر بمباری کو بہادری اور جبر کو دانشمندی قرار دینا ایک خطرناک رجحان ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جمہوریت، انسانی حقوق اور خود مختاری جیسے تصورات کمزور پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اثر پذیری کم ہوتی جا رہی ہے جبکہ روس، چین اور یورپی یونین جیسے عالمی کرداروں کی خاموشی یا محتاط طرزِ عمل بھی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ان کے مطابق برطانیہ اور میکسیکو سمیت کئی ممالک کھل کر مزاحمت کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتے، جبکہ مسلم دنیا بھی مصلحت کا شکار نظر آتی ہے۔ عمار مسعود نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران، فلسطین اور وینزویلا کے حوالے سے عالمی بیانیہ یکساں نہیں رہا۔ ان کے مطابق بعض ریاستوں کے اقدامات کو دفاع قرار دیا جاتا ہے جبکہ دوسروں کے ردعمل کو جارحیت کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی پالیسیوں کی غیر مشروط حمایت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس سے عالمی توازن مزید متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے بقول امریکا، اسرائیل اور انڈیا کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایک نئے اسٹریٹجک اتحاد کی صورت اختیار کر چکا ہے جس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔

امریکا کا اصل ہدف ایٹمی و میزائل پروگرام ہے یا ایرانی حکومت؟

انہوں نے کہا کہ میڈیا اور اطلاعاتی نظام بھی دباؤ کا شکار ہے۔ خبر کی اہمیت گھٹتی جا رہی ہے، فیک نیوز کے خلاف آواز کمزور پڑ رہی ہے اور صحافیوں کو طاقت کے ایوانوں میں سخت رویوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق عالمی اداروں اور معاہدوں کی توقیر بھی متاثر ہوئی ہے اور سرحدوں، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کمزور ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

 

عمار مسعود نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور کا فرعون آخرکار غرق ہوتا ہے اور ہر جابر کے مقابل ایک منصور جنم لیتا ہے۔ ان کے بقول اگر آج دنیا میں طاقت کا ارتکاز ایک فرد یا چند ریاستوں کے ہاتھ میں محسوس ہو رہا ہے تو یہ بھی ایک عارضی مرحلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالآخر انصاف کا ترازو حرکت میں آتا ہے اور وقت ثابت کرتا ہے کہ طاقت ور فرعون کا ہر دور محدود اور عارضی ہوتا ہے۔

 

Back to top button