پیپلز پارٹی مجوزہ 28 ویں آئینی ترمیم کی مخالف کیوں ہے؟

 

وزیراعظم شہباز شریف کی اتحادی حکومت کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم پاس کروانے کے بعد اب اسلام اباد میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ اس ملک کے اصل فیصلہ ساز اب 28 ویں ترمیم کے ذریعے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں صوبوں کا مالیاتی حصہ کم کرنے اور وفاق کا حصہ بڑھانے کے علاوہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت ایسی کسی ترمیم کی حمایت نہیں کرے گی بلکہ ڈٹ کر مخالفت کرے گی۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اور گورنر سندھ نے حالیہ دنوں میں نئے صوبے کے قیام کے لئے جو شور ڈالنا شروع کیا ہے وہ اسی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کے تحت وفاق کو مضبوط اور صوبوں کو کمزور کیا جانا ہے۔ چنانچہ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ ایسی تمام سازشیں ناکام بنا دی جائیں گی۔ یاد رہے کہ 13 نومبر کو صدرِ آصف زرداری کی جانب سے 27 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر دستخط کر کے اسے آئینِ پاکستان کا حصہ بنانے کے فوری بعد ہی 28 ویں آئینی ترمیم کی باتیں شروع ہو گئی تھیں۔ فیصلہ سازوں کے قریب سمجھے جانے والے رکن قومی اسمبلی فیصل واوڈا 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل ہی مٹھائی کا ٹوکرا لے کر پارلیمنٹ پہنچ گئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کی مٹھائی کھائیں اور 28 ویں آئینی ترمیم کی تیاری کریں۔

اسی طرح وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے بھی 17 نومبر کو کہا تھا کہ 28 ویں ترمیم پر بات چیت چل رہی ہے اور اگر اتفاقِ رائے پیدا ہو گیا تو یہ بھی جلد منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کر دی جائے گی۔ انکا کہنا تھا کہ 28ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ مسودے میں قومی مالیاتی کمیشن اور صوبوں و مرکز کے درمیان مالی وسائل کی تقسیم کے نئے فارمولے کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے۔

ادھر ایم کیو ایم نے کراچی اور حیدرآباد کو ملا کر ایک صوبہ بنانے کی مہم شروع کر دی ہے۔ یہ تجویز وقتاً فوقتاً بحث کا موضوع بنتی رہتی ہے۔ حالیہ دنوں میں جب سے حکومتی اتحاد میں شامل ایم کیو ایم نے اس پر بات چیت شروع کی ہے تو ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی میں ایک ٹکراؤ نظر آتا ہے۔ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی نے 26 ویں اور 27 ویں ائینی ترامیم کے موقع پر بھی قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں رد و بدل کر کے صوبوں کا مالیاتی حصہ کم کرنے اور وفاق کا حصہ بڑھانے کی مخالفت کی تھی۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی کے صدر اور تجزیہ نگار احمد بلال محبوب کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ ایک دم سے سامنے نہیں آیا۔ ان کے مطابق ایسے وقت میں کہ جب نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے ملک میں کوئی تحریک نہ  چل رہی تو پارلیمنٹ میں اس بارت بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بارے کہیں نہ کہیں کوئی بات ضرور ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے باقاعدہ تجاویز پر مشتمل ایک مسودہ تیار ہے اور اس حوالے سے صحافیوں کو بریفنگ بھی دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقتور حلقوں میں نئے صوبے اور صدارتی نظام متعارف کرائے جانے پر بات چیت ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔

احمد بلال محبوب کے مطابق بلدیاتی نظام کی مضبوطی کا وعدہ وزیراعظم نے ایم کیو ایم سے کر رکھا ہے جس کے لیے ترامیم کا مسودہ تیاری کے مراحل میں ہے۔ اسی طرح این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلیوں کی بات بھی ہو رہی ہے لیکن اس کے لیے 18ویں آئینی ترمیم کو ختم کرنا پڑے گا جس کی پیپلز پارٹی ڈٹ کر مخالفت کر رہی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ جس طرح 26 ویں ترمیم کے کچھ معاملات 27 ویں ترمیم میں طے ہوئے، اسی طرح 27 ویں ترمیم کے باقی معاملات اب 28 ویں آئینی ترمیم میں طے ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ دے۔

روزنامہ جنگ سے وابستہ سینیئر صحافی طاہر خلیل کہتے ہیں کہ نئے صوبوں کے قیام پر بات چیت تو ہو رہی ہے لیکن اس پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم پر کبھی راضی نہیں ہوگی۔ اگر پنجاب کو شمالی، وسطی اور جنوبی پنجاب میں تقسیم کرنے کی بات ہو تو بھی اتفاقِ رائے مشکل دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخواہ میں ہزارہ صوبے کی بات بھی پرانی ہے۔طاہر خلیل نے کہا کہ 28 ویں ترمیم کا اصل ہدف بلدیاتی نظام ہے، اور یہ بات زیر غور ہے کہ نئی ترمیم کے ذریعے یہ لازمی قرار دے دیا جائے کہ بلدیاتی حکومتوں کی مدت ختم ہوتے ہی 90 روز کے اندر انتخابات کروائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات ہو چکے ہیں لیکن پنجاب اور اسلام آباد میں ابھی تک نہیں ہوئے، جو ہونے چاہییں۔ انکے مطابق نئی ترمیم میں یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ صوبے وفاقی فنڈز کے لیے اپنا حصہ ادا کریں، جس کے لیے این ایف سی کے قواعد تبدیل کرنا ضروری ہیں ۔ ان کے مطابق درست راستہ یہ ہے کہ تمام معاملات پہلے مشترکہ مفادات کونسل میں رکھے جائیں، پھر پارلیمان میں کھلی بحث ہو، اور اس کے بعد عوام کے سامنے مجوزہ ترامیم پیش کی جائیں۔
اسکے علاوہ ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ مثلاً اگر پنجاب کی 11 ڈویژن ہیں تو اسکے 11 صوبے بن جائیں گے لیکن اتنے بڑے فیصلوں کے لیے اتفاقِ رائے بھی بڑے پیمانے پر کروانے کی ضرورت ہے۔

Back to top button