بلوچستان کی بگڑتی صورتحال کی ذمہ دار ریاست کیوں ہے؟

 

 

 

بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال ریاست کے لیے ایک مستقل درد سر بن چکی ہے لیکن اس مسئلے کی بنیادی وجہ بھی بظاہر ریاست ہی دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کے مسئلے کو ایک سکیورٹی ایشو کے طور پر دیکھتی ہے اور اس کا سیاسی حل تلاش کرنے پر بالکل توجہ نہیں دی جا رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں بلوچستان ہاتھ سے نکلتا دکھائی دیتا ہے۔

 

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسوقت اصل فیصلہ ساز سیاستدان نہیں بلکہ عسکری قیادت ہے جو معاملات کو سیاسی کی بجائے انتظامی طریقے سے سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس پالیسی کا نتیجہ یہ ہے کہ اختلافِ رائے اور مفاہمت جیسے اہم ترین عناصر، جو کسی بھی سیاسی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں، پس منظر میں چلے گے ہیں۔ اس کا سب سے ذیادہ نقصان بلوچستان کو ہو رہا ہے، جہاں مسئلے کی نوعیت جتنی پیچیدہ ہے، اس کے حل کے راستے بظاہر اتنے ہی زیادہ محدود کیے جا رہے ہیں۔

 

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت کی بلوچستان کے حوالے سے موجودہ پالیسی سے ریاستی کنٹرول تو مضبوط ہو سکتا ہے، لیکن پائیدار امن اور سیاسی استحکام لانا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دراصل یہ ریاستی سوچ حالیہ دنوں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بلوچستان پر ہونے والی بحث میں بھی واضح طور پر نظر آئی۔ دونوں ایوانوں میں ہونے والی کارروائی کے دوران دہشت گردی کے خلاف ایک غیر معمولی اتفاقِ رائے کے باوجود یہ بحث گہرے سیاسی تجزیے اور خود احتسابی سے خالی رہی۔ پارلیمانی کارروائی سے یہ تاثر ابھرا کہ بلوچستان جیسے پیچیدہ مسئلے کو بھی ایک محدود سکیورٹی فریم کے اندر رکھ کر دیکھا جا رہا ہے۔

 

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے حالیہ اجلاسوں میں ہونے والی کارروائی میں تقریباً تمام سیاسی جماعتیں دو نکات پر متفق نظر آئیں۔ ایک یہ کہ بلوچ عوام کی شکایات کو دور کیا جانا چاہیے، اور دوسرا یہ کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف مذمتی بیانات سے ممکن نہیں۔ تاہم ان نکات پر اتفاق کے باوجود کوئی جماعت اس بات کی وضاحت نہ کر سکی کہ بلوچ عوام کی شکایات دراصل کیا ہیں اور ان کے حل کے لیے کون سے ٹھوس سیاسی، آئینی یا انتظامی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اسی طرح تشدد کے خاتمے کے لیے طاقت کے استعمال پر زور تو دیا گیا، مگر یہ سوال پسِ پشت ڈال دیا گیا کہ تشدد کو جنم دینے والے سیاسی اور سماجی عوامل سے کیسے نمٹا جائے گا۔

 

پارلیمانی بحث کے دوران بعض اراکینِ پارلیمان نے اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ بلوچستان میں دہائیوں سے سیاسی حقوق، معاشی مواقع اور نوجوانوں کی شمولیت کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہی خلا مختلف مسلح گروہوں اور بیرونی عناصر کے لیے جگہ بناتا رہا ہے۔ بحث کے اختتام پر قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں نے چند متفقہ قراردادیں منظور کیں، جن میں  دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی گئی، سکیورٹی فورسز کی خدمات کو سراہا گیا اور زیرو ٹالرنس پالیسی، بہتر انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اور سرحدی سکیورٹی کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

 

ان قراردادوں سے یہ واضح پیغام سامنے آیا کہ حکومت، پارلیمانی قیادت اور سکیورٹی ادارے ایک ہی بیانیے پر ہم آواز ہیں۔ تاہم ان متفقہ قراردادوں میں سیاسی مفاہمت، مذاکرات یا اعتماد سازی جیسے عناصر مکمل طور پر غائب رہے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ سیاسی حل کا حصول ریاستی پالیسی میں ثانوی حیثیت حاصل ہے۔ اگرچہ مجموعی بیانیہ سکیورٹی پر مبنی رہا، لیکن چند محدود آوازیں سیاسی راستے کے حق میں بھی سنائی دیں۔

 

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں جان محمد بلیدی نے زور دیا کہ بلوچستان کے دیرینہ مسائل طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی مکالمے اور مفاہمت سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ایوان کی مجموعی فضا میں یہ آوازیں دب کر رہ گئیں اور پالیسی کی سمت پر کوئی نمایاں اثر ڈالنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

 

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور خیبر پختون خوا کی قوم پرست جماعتیں، جن میں بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی شامل ہیں، طویل عرصے سے سیاسی حل اور مفاہمت کی وکالت کرتی آ رہی ہیں۔ ماضی میں یہی جماعتیں وفاق اور بلوچستان کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ یہ سیاسی پل کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایک طرف ان جماعتوں کو صوبے میں اس الزام کا سامنا ہے کہ انکی وفاق نواز سیاست کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف ریاستی طاقت کے مراکز کا اعتماد بھی ان سے بتدریج اٹھتا جا رہا ہے۔ اس خلا کا فائدہ سخت گیر سوچ اور مزاحمتی بیانیہ اٹھا رہا ہے۔

قوم پرست جماعتوں کا مؤقف ہے کہ انہیں منظم طریقے سے دیوار سے لگایا گیا، انتخابی عمل میں مداخلت کی گئی اور سیاسی عمل کو محدود کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہ نوجوان طبقہ، جو پہلے سیاسی جدوجہد کا حصہ تھا، اب مسلح تحریکوں کی طرف مائل ہو رہا ہے۔ ان جماعتوں کے مطابق، جب سیاسی راستے بند کر دیے جاتے ہیں تو تشدد خود بخود ایک متبادل کے طور پر ابھرتا ہے۔

 

اس کے باوجود نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی اب بھی سیاسی حل کی امید چھوڑنے کو تیار نہیں۔ حالیہ عرصے میں نیشنل پارٹی کے ایک سینیٹر نے بلوچستان کے لیے قومی مفاہمت کی تجویز دی، جبکہ بی این پی کے رہنما ثناء اللہ بلوچ نے بلوچستان کے لیے ٹروتھ اینڈ ریکنسیلی ایشن کمیشن کے قیام کی بات کی، جس کی ماضی میں صوبائی اسمبلی بھی توثیق کر چکی ہے۔ تاہم موجودہ طاقت کے ڈھانچے میں ایسی تجاویز کو سنجیدگی سے لینے کا کوئی واضح عندیہ نہیں ملتا۔

 

دفاعی اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، عسکری قیادت کی سوچ یہ ہے کہ نرم رویہ ریاستی رِٹ کو کمزور کر سکتا ہے، اسی لیے بلوچستان میں سخت اور کنٹرول پر مبنی حکمتِ عملی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں وقتی طور پر ریاستی کنٹرول ضرور مضبوط ہوا ہے۔ صوبائی حکومت میں شامل جماعتیں اقتدار کا حصہ ہیں، بیوروکریسی اور مالیاتی نظام پر گرفت مضبوط ہوئی ہے اور سکیورٹی اداروں کا کردار مزید وسعت اختیار کر گیا ہے۔

حکومت عمران کا فوج مخالف بیانیہ کاؤنٹر کیوں نہیں کر پائی؟

تاہم اسی عمل کے سب سے بڑے فائدہ اٹھانے والوں میں وہ مسلح عناصر بھی شامل ہیں جو سیاسی خلا سے فائدہ اٹھا کر اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، جب سیاست کو پیچھے دھکیل دیا جائے اور تمام مسائل کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے تو پائیدار امن کا خواب مزید دور ہو جاتا ہے۔ مبصرین کے خیال میں بلوچستان کی صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ محض سکیورٹی پر مبنی پالیسی کسی پیچیدہ سیاسی مسئلے کا دیرپا حل فراہم نہیں کر سکتی۔ اگر ریاست نے بلوچستان کے مسئلے کو ایک سیاسی مسئلہ تسلیم نہ کیا اور شمولیت، مفاہمت اور اعتماد سازی کو مرکزی حیثیت نہ دی تو مضبوط ریاستی کنٹرول کے باوجود امن اور سیاسی استحکام بدستور ایک مشکل اور غیر یقینی ہدف بنے رہیں گے۔

Back to top button