نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کے بعد سپریم کورٹ میڈیا سے آؤٹ کیوں؟

سپریم کورٹ آف پاکستان کبھی میڈیا کا مرکز نگاہ ہوتی تھی اور ملکی میڈیا کی زیادہ تر ہیڈلائنز وہیں سے آتی تھیں۔ تاہم جسٹس یحیی آفریدی کے چیف جسٹس آف پاکستان کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ مبصرین کے مطابق 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ عملی طور پر 2 حصوں میں بٹ چکی ہے۔ عام نوعیت کے مقدمات سپریم کورٹ جبکہ آئینی نوعیت کے مقدمات اب آئینی بینچ سماعت کرتا ہے۔
اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو اس وقت موجودہ چیف جسٹس، جسٹس یحییٰ آفریدی اُس طرح سے مرکز نگاہ نہیں جس طرح ان کے پیشرو چیف جسٹسز ہوا کرتے تھے۔ اُن کے پیشرو چیف جسٹس صاحبان کے زمانے تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر وقت سپریم کورٹ کی جانب دیکھتی رہتی تھیں کہ نہ جانے کب کون سا فیصلہ آ جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی کے بطور چیف جسٹس اب تک کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو ان 2 ماہ کے قلیل عرصے میں آئینی بینچ کی تشکیل، سپریم کورٹ و ہائیکورٹ ججز تعیناتی رولز کی منظوری، عدالتی اصلاحات اور جیل اصلاحات پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ موجودہ چیف جسٹس یحیی آفریدی کے دور میں ہی 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت آئینی بینچز کی تشکیل بھی ہوئی جس میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی بطور سربراہ جوڈیشل کمیشن شامل تھے لیکن انہوں نے آئینی بینچ کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ تاہم آئینی بینچز نے اب تک مقننہ کے بنائے ہوئے قوانین ہی کو مقدم رکھا ہے اور آئینی ترامیم پر سوالات اٹھانے سے گریز کیا ہے۔
یہاں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سے جس طرح چیف جسٹس کے انتخاب کے طریقہ کار کو تبدیل کیا گیا اگر پرانا طریقہ کار رائج ہوتا تو جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس نہیں بن سکتے تھے بلکہ ان کی جگہ جسٹس منصور علی شاہ چیف جسٹس بنتے۔اس صورتحال کو بعض حلقے خوش آئند قرار دیتے ہیں اور بعض اسے عدلیہ کی آزادی کے منافی سمجھتے ہیں۔ ان وکلا کے مطابق سینیارٹی اصول سے ہٹ کر چیف جسٹس کی تعیناتی سے سپریم کورٹ کے اختیارات سلب کر لیے گئے ہیں اور ملک آزاد عدلیہ سے محروم ہو چکا ہے۔
مبصرین کے مطابق جسٹس یحیی آفریدی کے بطور چیف جسٹس ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سے سپریم کورٹ بدل چکی ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی کے دور میں سپریم کورٹ میں مقدمات کے فیصلوں میں تیزی آئی۔سپریم کورٹ وقتاً فوقتاً سپریم کورٹ میں مقدمات نمٹائے جانے کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کرتی رہتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ میں مقدمات کے فیصلوں میں تیزی آئی ہے اور زیرالتوا مقدمات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو منصب سنبھالے 2 ماہ سے زیادہ ہوچکے ہیں اور اس عرصے میں عدالتی اصلاحات، جیل اصلاحات پر کام ہوا۔چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے سربراہ بھی ہیں اور گزشتہ ہفتے ہی کمیشن نے ہائیکورٹ، سپریم کورٹ ججز تعیناتی رولز کی بھی منظوری دی ہے۔
مبصرین کے مطابق چیف جسٹس بننے کے بعد جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں 3496 ٹیکس مقدمات زیرالتوا ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور رجسڑار سپریم کورٹ، ایف بی آر حکام اور معاشی ماہرین پر مشتمعل کمیٹی تشکیل دی جو اس معاملے کو حل کرے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے الوداعی ریفرنس ہی میں کہا تھا کہ وہ دور دراز علاقوں کے لوگوں کی نظام انصاف تک رسائی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں اور اسی سلسلے میں گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران چیف جسٹس نے بلوچستان، اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب کے علاقوں کے دورے کر کے وہاں ضلعی عدلیہ کی کارکردگی اور ان کو درپیش مشکلات کا جائزہ لیا۔ تاہم جسٹس یحیی آفریدی کی جانب سے اپنے پیشرو چیف جسٹس صاحبان کے برعکس چھاپوں اور دوروں کی بریکنگ نیوز چلوانے سے گریز کیا اور خود کو عدالتی اصلاحات اور تیز تر انصاف کیلئے کئے جانے والے عملی اقدامات تک ہی محدود رکھا۔
