پاکستانی عدلیہ کی داغدار تاریخ کیوں دہرائی جا رہی ہے؟

 

 

 

معروف تجزیہ کار بلال غوری نے کہا ہے کہ پاکستانی عدالتی تاریخ کے نا انصافی پر مبنی ابتدائی فیصلے آج بھی ملک کے عدالتی اور سیاسی نظام پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں، ان کے مطابق قیامِ پاکستان کے وقت عدلیہ کے حوالے سے کیے گئے چند فیصلے ایسے تھے جنہوں نے آنے والے عشروں کی سمت متعین کر دی اور ملک کو غلط ڈگر پر ڈال دیا۔ ان کے مطابق آج کے حالات میں جب ایک بار پھر خصوصی عدالتوں اور سیاسی مقدمات پر بحث جاری ہے، تو ماضی کے ان فیصلوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں بلال غوری کہتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے موقع پر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پاکستان کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر ایک انگریز جج جسٹس لیونارڈ سٹون کا نام تجویز کیا تھا، جو اسوقت بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے، تاہم محمد علی جناح نے اس سفارش کو مسترد کر دیا۔ جسٹس لیونارڈ سٹون وہی جج تھے جنہوں نے مارچ 1947ء میں محمد علی جناح سے بمبئی بار میں واقع ان کا چیمبر خالی کروایا، حالانکہ قائداعظم وہاں پچاس برس سے وکالت کر رہے تھے۔ بلال غوری کے مطابق یہ ایک اہم تاریخی حقیقت ہے کہ چند ماہ بعد یہی جج پاکستان میں اعلیٰ عدالتی منصب کے لیے سفارشیں کرواتے نظر آئے، جو نو آبادیاتی ذہنیت اور خودداری کے تصادم کی واضح مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ قیامِ پاکستان کے تقریباً دو برس بعد تک ملک میں سپریم کورٹ یا وفاقی سطح کی اعلیٰ عدالت کا کوئی وجود نہیں تھا۔ فروری 1949ء میں گورنر جنرل کے حکم کے تحت پاکستان فیڈرل کورٹ کے قیام کا اعلان کیا گیا، جو عملی طور پر مئی 1949ء میں قائم ہو سکی۔ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس عبدالرشید کو فیڈرل کورٹ کا پہلا چیف جسٹس مقرر کیا گیا جبکہ دیگر ججوں کا تعلق بھی مغربی اور مشرقی پاکستان کی ہائیکورٹس سے تھا۔

 

بلال غوری کے مطابق نوزائیدہ فیڈرل کورٹ نے ابتدا میں لاہور ہائیکورٹ کی عمارت میں کام شروع کیا، تاہم مستقل نشست کے تعین پر جسٹس عبدالرشید نے یہ تجویز دی کہ فیڈرل کورٹ کا مرکز لاہور ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے میں مشرقی پاکستان کی آبادی اور وہاں کے عوام کو درپیش مشکلات کو نظرانداز کیا گیا، جس سے بنگالی عوام کے ساتھ ناانصافی کا آغاز عدالتی سطح سے ہی ہو گیا، اور یہی احساسِ محرومی بعد کے قومی بحرانوں کی بنیاد بنا۔

انہوں نے کہا کہ اسی ابتدائی دور میں عدلیہ کے اندر ایک اور غلط روایت اس وقت پڑی جب فیڈرل کورٹ میں خالی نشست کے لیے ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج کو لے جانے کے بجائے ذاتی مفادات اور طاقت کے تحفظ کو ترجیح دی گئی۔ جسٹس منیر نے لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس شپ چھوڑنے سے انکار کیا، جس کے نتیجے میں جسٹس کارنیلئس کو فیڈرل کورٹ بھیجا گیا۔ بلال غوری کے مطابق یہ وہ مرحلہ تھا جہاں ادارہ جاتی اصولوں کے بجائے شخصی ترجیحات نے عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونا شروع کیا۔

 

انکے مطابق ابتدائی برسوں میں اگرچہ لاہور ہائیکورٹ نے چند ایسے فیصلے دیے جنہیں انسانی حقوق کے تحفظ کی مثال قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم یہ رجحان دیرپا ثابت نہ ہو سکا۔ بعض کیسز میں ماتحت عدلیہ نے آزادیٔ اظہار کے حق میں جرات مندانہ فیصلے کیے، لیکن اعلیٰ سطح پر انہی فیصلوں کو کالعدم قرار دے کر صحافتی اور ادبی آزادی کو محدود کیا گیا۔ سعادت حسن منٹو کے مقدمات اور اخباری تحریروں پر پابندیوں کے واقعات اس تضاد کی واضح مثال ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لاہور ہائیکورٹ سمیت دیگر عدالتیں بھی رفتہ رفتہ حکمرانوں کی خواہشات کے مطابق فیصلے دینے لگیں۔ سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے نت نئے قوانین متعارف کرائے گئے، جن میں پروڈا، پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ اور سیکیورٹی آف پاکستان ایکٹ شامل تھے، مگر عدلیہ کی جانب سے ان قوانین کے خلاف مؤثر مزاحمت سامنے نہ آ سکی۔

 

انہوں نے کہا کہ اسکے برعکس سندھ چیف کورٹ نے بعض تاریخی فیصلے دیے، جن میں وزیراعلیٰ سندھ ایم او کھوڑو کی نااہلی کے خلاف فیصلہ نمایاں ہے، اس فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ پروڈا کے تحت قائم خصوصی عدالت کو آئینی حیثیت حاصل نہیں۔ بلال غوری کے مطابق یہ فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر عدلیہ چاہے تو انتظامیہ کے ناجائز اقدامات کے سامنے بند باندھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس عبدالرشید کے دور میں راولپنڈی سازش کیس کے حوالے سے خصوصی ٹریبونل کی توثیق ایک ایسا فیصلہ ثابت ہوئی جس نے پاکستان میں خصوصی عدالتوں، ٹریبونلز اور کمیشنوں کے قیام کی راہ ہموار کی۔ ان کے مطابق اگر اس مرحلے پر عدلیہ یہ مؤقف اختیار کر لیتی کہ خصوصی ٹریبونلز دراصل عدلیہ پر عدم اعتماد کا اظہار ہیں، تو شاید آج عدالتی نظام کو درپیش بہت سے مسائل جنم ہی نہ لیتے۔

کیا دہشتگردی کے خوف سے خوشیاں ترک کر دینی چاہئیں

بلال غوری کا کہنا ہے کہ آج کے حالات میں جب ایک بار پھر خصوصی عدالتوں، غیر معمولی قوانین اور سیاسی مقدمات پر بحث جاری ہے، تو ماضی کے ان فیصلوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عدالتی عمارت میں جو ٹیڑھا ستون ابتدا میں کھڑا کیا گیا، اس کے اثرات آج بھی نظامِ انصاف میں محسوس کیے جا سکتے ہیں، اور جب تک ان تاریخی غلطیوں کا ادراک نہیں کیا جاتا، عدالتی اصلاحات محض نعرہ ہی رہیں گی۔

Back to top button