مفت بجلی کی سہولت ختم، اب سولر صارفین کو بھی بل دینا ہو گا

وفاقی حکومت نے سولر صارفین کو 240واٹ کا پالیسی جھٹکا دیتے ہوئے زیرو بل کے خواب چکنا چور کر دئیے۔ نیپرا نے سولر صارفین سے یونٹ کے بدلے یونٹ کی سہولت واپس لیتے ہوئے نیٹ میٹرنگ کا نظام ختم کر کے نیٹ بلنگ نافذ کر دی۔ نئی پالیسی کے تحت اب سولر صارفین کو گرڈ سے حاصل کی گئی بجلی پوری قیمت پر خریدنا ہوگی، جبکہ اپنی اضافی پیداوار کم نرخوں پر قومی گرڈ کو فروخت کرنا پڑے گی۔ نیٹ میٹرنگ معاہدوں کی مدت پانچ سال تک محدود کر دی گئی ہے۔ پالیسی تبدیلی کے بعد سولر صارفین کے لیے ماہانہ زیرو بل کا تصور عملاً دفن ہو گیا ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا نے سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز 2026 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئے قوانین کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور یہ تمام نئے سولر صارفین پر لاگو ہوں گے، جبکہ پہلے سے نیٹ میٹرنگ کے تحت رجسٹرڈ صارفین اپنے موجودہ معاہدوں کی مدت پوری ہونے تک پرانے قواعد و ضوابط اور نرخوں کے مطابق بجلی گرڈ کو فراہم کرتے رہیں گے۔ جو عموماً تقریباً 26 سے 27 روپے فی یونٹ کے قریب ہے۔ نئے کم نرخ یعنی نیٹ بلنگ صرف نئے صارفین پر لاگو ہوں گے۔تاہم جیسے ہی ان کے معاہدے ختم ہوں گے، انہیں بھی نئے نیٹ بلنگ نظام کے تحت نیا معاہدہ کرنا ہوگا۔

نئے ریگولیشنز کے تحت یونٹ کے بدلے یونٹ کا اصول مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اب سولر صارفین گرڈ میں فراہم کی گئی بجلی کے بدلے یونٹس کا کریڈٹ حاصل نہیں کر سکیں گے بلکہ انہیں مالی معاوضہ دیا جائے گا۔ نیپرا کے مطابق صارفین سے خریدی جانے والی شمسی بجلی نیشنل ایوریج انرجی پرچیز پرائس کے مطابق ہوگی جو اس وقت تقریباً 11 سے ساڑھے 11 روپے فی یونٹ کے قریب ہے، جبکہ صارفین کو گرڈ سے دی جانے والی بجلی موجودہ رائج ٹیرف کے مطابق فراہم کی جائے گی، جو کئی صارفین کے لیے 50 روپے فی یونٹ سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ریگولیشنز کے مطابق ڈسٹری بیوشن کمپنیوں یعنی ڈسکوز کو صارفین کے لیے دو طرفہ میٹر یا دو علیحدہ میٹر نصب کرنا ہوں گے۔ ایک میٹر کے ذریعے گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی کا حساب رکھا جائے گا جبکہ دوسرے میٹر سے گرڈ سے حاصل کی گئی بجلی کی بلنگ ہوگی۔ بلنگ سائیکل کے اختتام پر نیٹ بلنگ سسٹم کے تحت بل جاری کیا جائے گا۔نیٹ بلنگ نظام کے تحت اگر صارف کی جانب سے قومی گرڈ کو فراہم کی جانے والی بجلی استعمال شدہ بجلی سے زیادہ ہو تو اس اضافی پیداوار کو اگلے بل میں ایڈجسٹ کیا جائے گا یا پھر صارف کو سہ ماہی بنیادوں پر ادائیگی کی جائے گی، تاہم یونٹ کریڈٹ کا نظام مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

 

نئے قوانین کے مطابق سولر نیٹ بلنگ کے لیے معاہدے کی مدت پانچ سال مقرر کی گئی ہے، جو مدت پوری ہونے پر مزید پانچ سال کے لیے قابلِ تجدید ہوگی۔ صارفین کو ایک کلوواٹ سے ایک میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی اجازت ہوگی۔ ریگولیشنز کے تحت ڈسکوز کو اجازت ہوگی کہ وہ ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمر کی 80 فیصد گنجائش تک نیٹ بلنگ کنکشن فراہم کریں۔ درخواست مکمل ہونے کے بعد 15 دن کے اندر انٹرکنکشن فراہم کرنا لازم ہوگا جبکہ نیپرا 7 دن کے اندر درخواست قبول کرنے یا مسترد کرنے کا پابند ہوگا۔نئے قوانین کے تحت ڈسکوز کو غیرقانونی توسیع روکنے کے لیے مانیٹرنگ کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ معاہدے یا ریگولیشنز کی خلاف ورزی کی صورت میں کنکشن منقطع کیا جا سکے گا۔نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئے نیٹ بلنگ ریگولیشنز کا اطلاق بائیوگیس صارفین پر بھی ہوگا، جس سے متبادل توانائی کے دیگر شعبے بھی براہِ راست متاثر ہوں گے۔

پاکستانی عدلیہ کی داغدار تاریخ کیوں دہرائی جا رہی ہے؟

انرجی ماہرین کے مطابق نیٹ میٹرنگ کا یونٹ کے بدلے یونٹ نظام بجلی کے گرڈ اور قومی خزانے پر بڑھتا ہوا مالی بوجھ ڈال رہا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024 میں گرڈ بجلی کی فروخت میں 3.2 ارب یونٹس کی کمی ہوئی جس سے ڈسکوز کو تقریباً 101 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ یہ بوجھ بالآخر دیگر صارفین پر منتقل ہو رہا تھا جس کے باعث ٹیرف میں اوسطاً 0.9 روپے فی یونٹ اضافہ ہوا۔ جس کی وجہ سے اب پرانی سولر پالیسی تبدیل کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ نیٹ بلنگ میں کم معاوضہ سولر توانائی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گا، پے بیک پیریڈ بڑھے گا اور عوام کی سولر ٹیکنالوجی میں دلچسپی کم ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مہنگی بجلی کے باعث سولر کو واحد متبادل سمجھا جا رہا تھا۔ مبصرین کے مطابق نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی طرف منتقلی نے پاکستان میں چھتوں پر نصب سولر سسٹمز کی معاشیات کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ اگرچہ حکومت اور ریگولیٹر اس فیصلے کو گرڈ کے استحکام اور مالی نقصانات میں کمی سے جوڑ رہے ہیں، تاہم اس کے نتیجے میں سولر صارفین کے لیے زیرو بل کا خواب عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔

Back to top button