ٹرمپ اور مودی کی دوستی بحال:کیاپاکستان کوفرق پڑےگا؟

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تعریفوں کے پل باندھنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت کے حوالے سے نرم رویہ عالمی سیاست میں ایک غیر متوقع یوٹرن کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سرد مہری کا شکار امریکہ-بھارت تعلقات میں اچانک سامنے آنے والی گرمجوشی نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ بھاری ٹیرف اور تجارتی پابندیوں کے بعد اس یوٹرن نے نہ صرف تجارتی محاذ پر بھارت کو فائدہ پہنچایا بلکہ خطے میں طاقت کے نئے توازن اور جغرافیائی سیاست میں پاکستان کے کردار پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
چند ماہ قبل بھارت پر بھاری ٹیرف، تجارتی پابندیوں اورکشیدگی کے بعد اب ٹرمپ نے نہ صرف بھارتی مصنوعات پر ٹیرف میں رعایت دے دی ہے بلکہ تعلقات میں غیر معمولی گرمجوشی دکھاتے ہوئے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ’’گریٹ مین‘‘ قرار دے دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق بھارتی حکام کو احمق اور پاگل قرار دینے والے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اچانک بھارت نواز پالیسی اور نرم لہجہ، محض سفارتی اتفاق نہیں بلکہ ایک گہری عالمی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر صدر ٹرمپ نے یہ یوٹرن کیوں لیا؟ کیا اس کے پیچھے مشرقِ وسطیٰ، اسرائیل ایران کشیدگی، نایاب معدنیات، روسی تیل اور چین کے خلاف نئی صف بندی کارفرماہے، یا پھرٹرمپ امریکی داخلی سیاست اور مڈٹرم انتخابات کی مجبوری کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں؟ مبصرین کے مطابق اس یوٹرن کی وجہ کچھ بھی ہو تاہم حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے حق میں یہ اچانک تبدیلی ایک وقتی فیصلہ نہیں بلکہ طویل المدتی عالمی جغرافیائی شطرنج کا حصہ ہے، جس کے اثرات پاکستان اور پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ بھارت اور امریکا کے درمیان حالیہ مہینوں میں تجارتی تعلقات میں سخت کشیدگی کے بعد اچانک نرمی اس وقت سامنے آئی، جب صدر ٹرمپ اور بھارتی وزیرِ اعظم مودی نے سوشل میڈیا کے ذریعے بھاری محصولات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد بھارتی مصنوعات پر عائد 50 فیصد تک بھاری امریکی ٹیرف ختم کر کے صرف 18 فیصد ٹیرف فوری نافذ کر دیا گیا ہے۔ اسی دوران واشنگٹن میں نایاب معدنیات پر ہونے والی کانفرنس میں بھارت کی شرکت اور پاکستان کی غیر موجودگی نے بھی متعدد سوالات پیدا کر دیے، جس سے خطے میں امریکی حکمتِ عملی اور اس کے ممکنہ اثرات پر بحث کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے بھارت کو مراعات دینا اور پاکستان کو اس کانفرنس میں شامل نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ اقدام محض تجارتی نہیں بلکہ جغرافیائی و سٹریٹیجک مقاصد کی تکمیل کے لیے بھی اٹھایا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی بھارت کے حق میں یہ اچانک تبدیلی محض وقتی فیصلہ نہیں بلکہ طویل المدتی عالمی شطرنج کا حصہ ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ پر پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کے بقول صدر ٹرمپ کی یہ بھارت نواز پالیسی داخلی امریکی سیاست، مڈٹرم انتخابات کی مجبوری اور عالمی سطح پر امریکہ کی اپنی اقتصادی و فوجی ترجیحات کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم اس یوٹرن کے پیچھے چاہے جغرافیائی، اقتصادی یا سیاسی محرکات ہوں، حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے حق میں یہ تبدیلی ایک وقتی خوشگوار موڑ نہیں بلکہ عالمی سطح پر طویل المدتی اثرات پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ پاکستانی پالیسی سازوں اور سفارت کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس نئی عالمی حکمت عملی کے ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لیں اور اپنے فیصلے اسی روشنی میں ترتیب دیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق، پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں فوری طور پر متوازن اور محتاط رویہ اختیار کرنا ہو گا تاکہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں پیدا ہونے والی نئی صورتِ حال کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔
مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی بھارت نواز حکمت عملی پاکستان کے لیے سیاسی اور اقتصادی چیلنج پیدا کر سکتی ہے۔ امریکہ کے اس یوٹرن سے پاکستان کی دفاعی اور اقتصادی تعلقات کے اعتبار سے عالمی سٹریٹیجک پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے، پاکستان کو بھارت اور امریکہ کے درمیان بڑھتے تعاون کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اپنی خارجہ پالیسی میں لچکدار اور جامع حکمت عملی اختیار کرنی ہو گی۔‘‘بعض دیگر ماہرین کے مطابق امریکہ بھارت تعلقات میں تبدیلی محض تجارتی فوائد کے لیے نہیں بلکہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ بھی ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے ماضی قریب میں پاکستان اور اس کے فیصلہ سازوں کے بارے میں تعریفی کلمات پر تکیہ کرنے کی بجائے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں شفافیت اور دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے دفاع، توانائی اور تجارتی شعبوں میں اپنے قومی مفادات کے تحفظ کیلیئے جامع حکمت عملی اپنائے۔
ماہرین کے مطابق، صدر ٹرمپ کی بھارت نواز پالیسی کا اثر پاکستان کے اقتصادی منصوبوں، معدنیات کی برآمدات اور خطے میں عسکری توازن پر بھی پڑ سکتا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کو نہ صرف امریکہ بلکہ چین اور روس کے ساتھ تعلقات میں بھی نئے توازن کے لیے اقدامات کرنے پر مجبور کرے گی۔ ماہرین کے بقول صدر ٹرمپ کی بھارت نواز پالیسی ایک وقتی خوشگوار موڑ نہیں بلکہ عالمی سطح پر طویل المدتی اثرات پیدا کرنے والا اقدام ہے، جس پر پاکستان سمیت پورے خطے کو سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔
