شام میں القاعدہ سے جڑے جنگجو گروپ کی جیت تشویشناک کیوں؟

شام میں صدر بشار الاسد کی 24 سالہ حکومت کا خاتمہ تو ہو گیا ہے لیکن دنیا کے لیے تشویش ناک بات یہ ہے کہ فتحیاب ہونے والے جنگجو گروپ ہیئت التحریر الشام کا تعلق القاعدہ سے ہے جسکا ایک پُرتشدد ماضی ہے۔ سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مزاحمت کے دوران اس گروہ نے خود کو شام کی ایک قومی قوت کے طور پر ظاہر کیا ہے اور اسکے حالہ پیغامات میں سفارتی اور مفاہمتی سوچ جھلکتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود شامی عوام مطمئن نہیں اور انھیں تشویش ہے کہ حکومت گِرانے کے بعد ہیت التحریر الشام کے جنگجو پتہ نہیں کیا کریں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان ڈرامائی تبدیلیوں سے شام میں طاقت کا خلا پیدا ہو گیا ہے جس کے نتیجتے میں مزید افراتفری اور بد امنی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل تک شام کے حکمران بشار الاسد کا تختہ اُلٹنا ناقابل تصور تھا۔ اس وقت باغیوں نے شمال مغربی شام میں ادلب کے گڑھ سے اپنی جارحانہ مہم شروع کی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ شام کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ بشار الاسد اپنے والد حافظ الاسد کی موت کے بعد 2000 میں اقتدار میں آئے تھے۔ ان کے والد نے 29 سال تک ملک پر حکمرانی کی تھی اور اپنے بیٹے کی طرح ملک پر آہنی کنٹرول رکھتے تھے۔ یوں باپ اور بیٹے نے تقریبا 53 سال تک شام پر حکومت کی۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بشار الاسد کو وراثت میں ہی ایک ایسا ملک ملا جہاں حکومت کا کنٹرول سخت رہتا تھا اور ایسا سیاسی نظام تھا جس کے بارے میں ناقدین مخالفین کو دبانے کا الزام لگاتے تھے۔ کسی قسم کی اپوزیشن کو برداشت نہیں کیا جاتا تھا۔ حافظ الاسد کی موت کے بعد یہ امید تھی کہ ان کے بیٹے بشار کے برسر اقتدار آنے سے جبر کا نظام ختم ہوگا اور حالات بہتر ہو جائیں گے۔ مگر یہ توقعات دیر تک قائم نہ رہ سکیں۔ بشارالاسد کو ایک ایسے آدمی کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے اپنی حکومت کے خلاف 2011 میں مظاہرے کرنے والوں کو تشدد سے منتشر کیا۔ اس صورتحال نے خانہ جنگی کو جنم دیا جس میں پانچ لاکھ لوگ ہلاک ہوئے اور 60 لاکھ بے گھر یوئے۔
یاد رہے کہ صدر بشارالاسد روس اور ایران کی مدد سے باغیوں کو کچل کر اپنے دور اقتدار کو وسعت دینے میں کامیاب رہے تھے۔ روس نے اپنی فضائی طاقت استعمال کی جبکہ ایران نے شام میں اپنے فوجی معاون بھیجے۔ لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ نے شام میں تربیت یافتہ جنگجو تعینات کیے۔ مگر اس بار بشارالاسد اپنا اقتدار بچانے میں ناکام رہے۔ دراصل شام کے اتحادی ممالک اپنے معاملات میں الجھے ہوئے لہٰذا انھوں نے بشار اسد کو تنہا چھوڑ دیا اور انکی مدد کے بغیر شامی دستے باغیوں کو روکنے میں ناکام رہے جنکی قیادت اسلامی گروہ ہیئت التحریر الشام نے کی ہے۔
پہلے باغیوں نے حلب پر قبضہ کیا جو ملک کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔ انھیں بہت کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پھر حما اور کچھ دن بعد حمص جیسے اہم شہر بھی باغیوں کے ہاتھوں میں چلے گئے۔
دمشق تنہا رہ گیا تھا۔ یہ صرف کچھ گھنٹوں کی بات تھی۔ یوں باغی دارالحکومت میں داخل ہوئے جو اسد کی طاقت کا گڑھ تھا۔بلاشبہ یہ اسد خاندان کے 50 سالہ دور کا خاتمہ ہے۔ اس تبدیلی خطے میں طاقت کے توازن کو بدل دے گی۔
بشار الاسد کے 24 سالہ دور اقتدار کا تختہ الٹنے والے ابو محمد الجولانی کون ہیں؟
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے سے خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ اسد کی قیادت میں شام ایرانیوں اور حزب اللہ کے بیچ رابطوں کا حصہ تھا۔ حزب اللہ کو ہتھیار اور گولہ بارود کی ترسیل میں اس کا اہم کردار تھا۔ ایک سال سے اسرائیل کے خلاف جنگ میں حزب اللہ بھی کمزور ہوئی ہے اور اس کا مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے۔ یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو بارہا فضائی کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان تمام گروہوں کے علاوہ عراق میں ملیشیا اور غزہ میں حماس، ان سب کی مدد سے خطے میں ایران کا ‘مزاحمت کا محود’ تشکیل پاتا تھا۔ مگر اب اس نیٹ ورک کو سنگین نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے نئی صورت حال کا خیر مقدم کیا گیا ہے کیونکہ وہ ایران کو اپنے لیے ایک خطرہ سمجھتا ہے۔ کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ترکی کی مرضی کے بغیر یہ سب ممکن نہیں تھا۔ ترکی شام میں باغیوں کی حمایت کرتا ہے مگر اس نے ہیئت التحریر الشام کی پشت پناہی کے الزام کی تردید کی ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے کچھ عرصے سے ترک صدر طیب اردوغان بشار اسد پر زور دے رہے تھے کہ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا سفارتی حل تلاش کیا جائے تاکہ شامی پناہ گزین واپس لوٹ سکیں۔ ترکی میں ان کی تعداد تین لاکھ تک ہے جو مقامی سطح پر ایک حساس مسئلہ بن چکا ہے۔
مگر اسد نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
