بلوچ قوم پرست تنظیموں کی افرادی قوت بڑھتی کیوں جا رہی ہے؟

تمام تر حکومتی اور ریاستی دعوؤں کے باوجود بلوچستان میں ہر گزرتے دن کے ساتھ امن و امان کا مسئلہ گھمبیر تر ہوتا جا رہا ہے اور ریاست دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر قابو پانے میں ناکام نظر اتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں بلوچستان لبریشن آرمی اور دیگر قوم پرست عسکری تنظیموں کی کارروائیوں میں اضافے سے بظاہر لگتا ہے کہ ان کی افرادی قوت اور وسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انکے مطانق ریاستی طاقت سے بلوچستان کے مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں کیونکہ وہاں چلنے والی بلوچ قوم پرست تحریک زور پکڑ چکی ہے جس کی بنیادی وجہ بلوچستان کی محرومیاں ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مسئلے کا حل فوجی قیادت کے پاس بھی نہیں کیونکہ اس کے سیاسی اور اقتصادی عوامل بھی ہیں۔

گزشتہ چند برسوں سے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے علاوہ کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے پہاڑوں سے اتر کر شہری علاقوں میں گشت کرنے اور قومی شاہراہوں پر ناکہ لگانے جیسے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ پچھلے برس اگست میں بلوچ قوم رہنما نواب اکبر خان بگتی کی برسی کے دن بلوچستان لبریشن آرمی نے کوئٹہ کی تمام بڑی شاہراہوں پر قبضہ کر کے ناکے لگا لیے تھے جو دو روز تک برقرار رہے۔ یہ ریاست کی رٹ کو ایک کھلا چیلنج تھا لیکن ریاست اسکا موثر جواب دینے میں کامیاب نہیں ہو پائی۔ نتیجہ یہ ہے کہ اج بلوچستان کے کئی علاقے فوج اور دیگر سکیورٹی ایجنسیز کے لیے نو گو ایریاز بن چکے ہیں۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران بلوچ قوم پرست عسکری تنظیموں کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے اور ان کا دائرہ اثر بڑھتا ہوا نظر اتا ہے۔ کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قومی شاہراہوں پر ناکہ لگانے اور سیکیورٹی فورسز پر حملے کے واقعات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور عسکری اداروں کو مل بیٹھ کر اس معاملے پر غور کرنا چاہیے کیوں کہ بلوچستان میں امن و امان کے مسائل پہلے ہی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ اب مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔

سابق سیکریٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کا کہنا یے کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف دہشت گردی یا فوجی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ اس میں سیاسی اور اقتصادی عوامل شامل ہیں۔ اُن کے مطابق بلوچستان میں جو سیاسی تحریکیں چل رہی ہیں ان میں سیاسی عناصر اور پاکستان مخالف عناصر کو ایک دوسرے سے الگ کرنا ممکن نہیں۔ اُن کے بقول "ان تمام عناصر کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جانا چاہیے۔” اُن کا کہنا تھا کہ "میری رائے میں بلوچستان کا مسئلہ بہت نازک ہے، یہ کسی لوہار کا کام نہیں ہے بلکہ یہ سنار کی پیچیدہ کاریگری جیسا معاملہ ہے جسے بڑی احتیاط سے حل کرنا چاہیے۔” اس کے لیے پاکستان اور بلوچستان کے سینئر سیاست دانوں کو اکٹھا ہو کر ایسی بلوچ قوم پرست تنظیموں سے بات کرنا ہو گی جنہوں نے اپنا سیاسی چہرہ بنا رکھا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کے بقول اگر یہ سمجھا جائے کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف فوج یا صرف سیاست دان ہی حل کر سکتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے تعاون کے بغیر کام کریں تو یہ مسئلہ کبھی حل نہیں ہو گا۔ اُن کے بقول بلوچستان کے حقیقی نمائندوں کو حکومت دی جائے اور وفاق کے فراہم کردہ وسائل کو حقیقی معنوں میں عوام پر خرچ کیا جائے تب ہی دیرپا حل ممکن ہو گا۔

دوسری جانب کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار رشید بلوچ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کی جانب سے کارروائیوں میں اضافے سے بظاہر لگتا ہے کہ ان کی افرادی قوت اور وسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ رشید بلوچ کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران صوبے میں بد امنی کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2024 میں بی ایل اے کی جانب سے بیک وقت 18 سے 20 مقامات پر حملے کیے گئے۔ اس سے قبل مچھ میں بھی حملہ آور دن کی روشنی میں شہر میں داخل ہوئے اور گلی محلوں میں گھومتے پھرتے دکھائی دیے۔ ان کے بقول بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں مسلح تنظیموں کو پہاڑی سلسلے کے باعث کافی سپورٹ ملتی ہے۔

تاہم بلوچستان کے سابق بیورکریٹ شیر خان بازئی کہتے ہیں کہ اس طرح کی کارروائیاں سیکیورٹی نہیں بلکہ اس میں انٹیلی جینس ناکامی کا کچھ عنصر ضرور شامل ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پے در پے بدامنی کے واقعات کی بنیادی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عسکری پسند تنظیموں نے اپنی کارروائیوں کا طریقۂ کار تبدیل کردیا ہے اور ان کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کو انگیج کرنے کی ایک کوشش کی گئی ہے کیوں کہ بیک وقت صوبے کے مختلف علاقوں میں حملے کیے جا رہے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ گو کہ بلوچستان میں قیادت اور سیاسی خلا برقرار ہے جس کا فائدہ علیحدگی پسند تنظیموں کو ہو رہا ہے ۔ عوام جو پہلے ان تنظیموں کو سپیس نہیں دے رہی تھی اب ان کے قریب آنے کی کوشش کررہے ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کی 75 برس کی محرومیاں ہیں۔

Back to top button