فیض حمید کا ایک اور کورٹ مارشل ہونے کا امکان کیوں ہے؟

 

فوجی ترجمان کی جانب سے کورٹ مارشل کے بعد لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو 14 برس قید با مشقت کی سزا سنانے کے اعلامیے کا آخری پیرا خاصا معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے، اس اعلامیے سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے لیے مشکلات کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے اور قوی امکان ہے کہ اُنھیں 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کی سازش کے الزام پر ایک اور کورٹ مارشل بھگتنا پڑ جائے۔ سیاسی حلقوں میں یہ افواہ بھی زوروں پر ہے کہ اگر 9 مئی کے حملوں کی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوا تو سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے لیے بھی مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔

آئی ایس پی آر کے جاری کردہ اعلامیے کے آخری حصے میں کہا گیا ہے کہ ’فیض حمید کے خلاف سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر انتشار پیدا کرنے اور سیاسی عدم استحکام پھیلانے سمیت دیگر متنازعہ معاملات علیحدہ طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔‘ اس جملے نے یہ تاثر دیا ہے کہ فیض حمید کو سنائی گئی سزا ان کی کہانی کا اختتام نہیں ہے۔ فوجی ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کا آخری پیرا واضح اشارہ ہے کہ 9 مئی کے حوالے سے ابھی مزید پیش رفت بھی متوقع ہے، اور اس کی زد میں آنے والے ناموں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

فوجی ترجمان کے مطابق فیض حمید کو سزا 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت شروع ہونے والے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی 15 ماہ طویل کارروائی کے بعد سنائی گئی۔ اس کارروائی کی تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی تاہم اسے 2018 کے انتخابات، حکومت مخالف احتجاجی تحریک اور بالخصوص 9 مئی 2023 کو تحریک انصاف کی جانب سے فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ فوج کی جانب سے فیض کےخلاف الزامات کی تفصیل جاری نہیں کیے گئے لیکن ان واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن کا مقصد بظاہر فوج میں بغاوت کی فضا پیدا کرنا تھا۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے 14 برس قید کے فیصلے کو جنرل قمر باجوہ کے دور سے جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کو آج ان فیصلوں کے نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں جو اس دور میں کیے گئے تھے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستانی قوم برسوں فیض حمید اور جنرل باجوہ کے بوئے ہوئے بیجوں کی فصل کاٹے گی۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) حارث نواز کا کہنا ہے کہ فیض حمید کو جو سزا دی گئی وہ بنیادی طور پر ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی سرگرمیوں سے متعلق تھی جن میں سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی شامل ہے۔ ان کے مطابق فوجی ترجمان کے اعلامیے کا آخری پیرا واضح طور پر 9 مئی کے واقعات کی طرف اشارہ کرتا ہے اور امکان ہے کہ اس سلسلے میں جلد ایک نئی کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ بریگیڈیئر (ر) حارث کے مطابق یہ معاملہ صرف فیض حمید تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں تحریک انصاف کے کئی رہنماؤں کے نام بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ باجوہ کے خلاف کارروائی کے امکانات کم ہیں کیونکہ بہت سے معاملات میں ڈی جی آئی ایس آئی اپنی مرضی سے آزادانہ فیصلے کرتے ہیں۔

تاہم دفاعی ماہرین اس فیصلے کو فوجی رینک اینڈ فائل کے لیے سخت پیغام قرار دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ آئین پاکستان کے مطابق کسی بھی فوجی افسر کو ریٹائرمنٹ کے دو سے تین سال بعد تک سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی، جبکہ کورٹ مارشل کی کارروائی میں یہ ثابت ہو گیا کہ فیض حمید نہ صرف سیاسی سرگرمیوں میں شامل تھے بلکہ ایک خاص جماعت کے سیاسی گرو کا کردار بھی کر رہے تھے۔ اسی دوران یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا 9 مئی کے حملوں کے پیچھے فیض کے علاوہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والا کوئی کردار بھی موجود تھا۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ فوجی ترجمان کے اعلامیے کے آخری پیراگراف سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ 9 مئی کے واقعے بارے کارروائی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق فوج اس معاملے کو بار بار اجاگر کرتی ہے اور ملزمان کو سامنے لانے کا اعلان کر چکی ہے، لہٰذا یہ فیصلہ سیاسی ماحول میں مزید ہلچل پیدا کرے گا۔ مظہر کہتے ہیں کہ اگر 9 مئی کو ہونے والے حملوں میں فیض حمید کا کردار ثابت ہو گیا تو انکا اگلا ٹرائل مزید سخت ہو سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی بات کہنا قبل از وقت ہو گا۔

دوسری جانب دفاعی امور کے ماہر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں فیض کو 14 برس قید با مشقت کی سزا سنانے کے فیصلے کے سیاسی اثرات نمایاں ہوں گے کیونکہ 2018 کے بعد سے ہماری سیاست میں دو ہی کردار نمایاں رہے یعنی جنرل قمر باجوہ اور جنرل فیض حمید۔ ان کے بقول عمران خان اور فوجی قیادت کے درمیان 2021 میں ڈی جی آئی ایس آئی کے تبادلے کا تنازع بھی انہی شخصیات کے گرد گھومتا رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فوج کی سیاست میں مداخلت کی طویل تاریخ ہے اور فوجی قیادت خود یہ طے کرتی ہے کہ کون سی سرگرمی مداخلت کے زمرے میں آتی ہے۔ انکے مطابق ایسا دکھائی دیتا ہے کہ جنرل فیض اس طے شدہ دائرہ کار سے باہر نکل گے تھے جس کا نتیجہ کورٹ مارشل کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ انکے خیال میں یہ فیصلہ صرف فوج کے اندر نظم و ضبط کا پیغام نہیں بلکہ سیاست دانوں کے لیے بھی ایک وارننگ ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں فوج کو استعمال نہ کریں۔

مظہر عباس کے مطابق فیض حمید نے کورٹ مارشل کے دوران کیا موقف اختیار کیا، یہ معلومات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ اگر معاملہ سول عدالتوں میں گیا تو اصل دفاعی موقف عوام تک پہنچے گا اور الزامات کی تفصیل بھی کھل کر سامنے آئے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ فیض حمید کے پاس ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کا حق موجود ہے اور اپیل کے دوران وہ تمام پہلو سامنے آئیں گے جن پر ابھی پردہ ہے۔ بریگیڈیئر (ر) حارث نواز کے مطابق فیض کیس کے فیصلے نے فوج کے اندر یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان آرمی ایکٹ کی خلاف ورزی پر بلا امتیاز کارروائی ہو گی، یہ عمل دیگر افسروں کے لیے بھی تنبیہ ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی سرگرمیوں سے دور رہیں۔ اس کے علاوہ سیاست دانوں کو بھی واضح پیغام دیا گیا ہے کہ فوج کو اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔

Back to top button