عمران خان کےلیےایک جانب کنواں اور دوسری جانب کھائی کیوں؟

قیدی نمبر 804 عمران خان کی جانب سےپیش کردہ مطالبات پر وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر خارجہ خواجہ آصف کی جانب سے ٹھینگا دکھائے جانے کے بعد پی ٹی ائی کی آپشنز ختم ہوتی جا رہی ہیں اور اس کے پاس واحد راستہ 24 نومبر کو احتجاج ہی کا بچا ہے جسکی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں، لہذا یہ کہنا بے جانا ہوگا کہ عمران خان کو کنویں اور کھائی میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ اگر وہ اس صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں تو پھر انہیں 24 نومبر کے احتجاج کی کال واپس لینا ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی، انکے مطابق دونوں سائڈز کے مابین مذاکرات کی کہانیاں تحریک انصاف کی جانب سے پھیلائی گئی تھیں۔ پی ٹی آئی نے حکومتی نمائندوں کے ساتھ جو غیر رسمی رابطے کیے ان میں بھی یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ عمران خان کی شرائط پر کوئی بات نہیں ہوگی، حکومت کا ایک ہی مطمع نظر تھا کہ 24 نومبر کا احتجاج ملتوی کیا جائے۔ تاہم پی ٹی آئی کے رابطہ کاروں کا موقف تھا کہ عمران خان کی رہائی تک احتجاج ملتوی نہیں کیا جائے گا۔
اس صورتحال میں اسلام اباد ہائی کورٹ کےاحاطے میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے واضح الفاظ میں اعلان کردیا کہ پی ٹی آئی کیساتھ نہ تو کسی قسم کےمذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ ہی احتجاج کے نام پر بلیک میل کرنےوالوں کے ساتھ بات چیت کا کوئی امکان ہے۔ اسی رات پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کیساتھ کسی قسم کے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی عمران خان کے ساتھ کوئی انگیجمنٹ نہیں ہے۔ ہم نے کبھی گنڈاپور یا بیرسٹر گوہر کو نہیں کہا کہ بانی کو رہا کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کی ساری جھوٹی کہانیاں تحریک انصاف والے خود پھیلا رہے ہیں تاکہ 24 نومبر کے احتجاج کے لیے اپنے ورکرز کے حوصلے بلند رکھ پائیں۔ لیکن یہ جھوٹ کی دکان چلتی دکھائی نہیں دیتی۔ حکومت کو عمران خان کے ساتھ مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں اور جہاں تک خان کی رہائی کا مطالبہ ہے تو یہ فیصلہ حکومت کے اختیار میں توہے ہی نہیں، یہ فیصلہ عدلیہ نے تب کرنا ہے جب پانی پی ٹی آئی اپنے خلاف درج تمام مقدمات میں بری ہو جائیں یا انکی ضمانتیں ہو جائیں۔
جنرل باجوہ کا بشریٰ بی بی کی اصل تکلیف پتہ کرنے کا مشورہ
ایسے میں بظاہر یہی نظر آ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت 24 نومبر کو عمران خان کی رہائی کا مطالبہ لیے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرے گی۔ خان کی اہلیہ نے بھی تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کو ایک دھمکی آمیز پیغام میں پانچ سے 10 ہزار بندے اسلام آباد لانے کا حکم دیا ہے۔ لیکن ماضی کی طرح تحریک انصاف کی اس احتجاجی کال کی بھی ناکامی کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔ ایک طرف پی ٹی آئی کی قیادت کو 24 نومبر کے احتجاج کے لیے ورکرز کو باہر نکالنے کا چیلنج درپیش ہے تو دوسری جانب حکام کی جانب سے احتجاج سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے بعد ایک مرتبہ پھر وفاقی دارالحکومت کو کنٹینرز کے شہر میں تبدیل کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
اس سے قبل پچھلے تین ماہ کے دوران عمران خان کی جانب سے احتجاج کی تین کالز دی گئی تھیں اور ہر مرتبہ اسلام اباد کا رخ کرنے کو کہا گیا تھا لیکن کوئی بھی کال کامیاب نہیں ہو پائی۔ ہر مرتبہ بندے اکٹھے کر کے اسلام اباد لانے کا ٹاسک وزیراعلی خیبر پختون خواہ علی امین گنڈاپور کو دیا گیا لیکن وہ ہر مرتبہ ناکام رہے۔ اس کے بعد علی امین گنڈاپور پر حکومت کے ساتھ مک مکا کا الزام لگ گیا، لہذا بشری بی بی نے 24 نومبر کی احتجاج کی منصوبہ بندی خود اپنے ذمہ لے لی۔ لیکن اس فیصلے پر پی ٹی آئی کے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلی نالاں ہیں۔
یاد رہے کہ عمران کے چارمطالبات ہیں جن میں ان کےسمیت گرفتار شدہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی رہائی، 26 ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ، اور ’چوری شدہ مینڈیٹ‘ کی واپسی شامل ہیں۔ علی امین گنڈاپور کے مطابق ان مطالبات پر مذاکرات بھی عمران خود ہی کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب حکومت عمران خان کے ساتھ ان مطالبات پر کوئی مذاکرات کرنے کے موڈ میں نہیں۔ اس حوالے سے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا مؤقف ہے کہ ’عمران کو رہا کرنا میرے اختیار میں نہیں، ان پر کئی مقدمات ہیں اور ان کی رہائی کا فیصلہ عدالتیں کریں گے۔‘
خیال رہے پچھلے ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو توشہ خان کیس میں ضمانت دےدی تھی جس کے بعد انہیں رہائی کی امید تھی۔ لیکن اس کےفوری بعد ان کی ایک نئے کیس میں گرفتاری ڈال دی گئی، اسکےعلاوہ بھی عمران کو 9 مئی کے مقدمات کا سامنا ہےجن میں انھیں ضمانت نہیں ملی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آگے کیا ہوگا اس کی پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے لیکن عمران خان کے لیے کوئی فوری ریلیف دکھائی نہیں دیتی۔ بنیادی وجہ یہ ہےکہ اب تک حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہیں ۔
