پاکستان کیلئیے ایک طرف کنواں اور دوسری طرف کھائی کیوں؟

معروف لکھاری وسعت اللہ خان نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے تناظر میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانڈوں کی لڑائی میں گھاس نہ کچلی جائے، یہ ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اس وقت خطے میں بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں اور ان کی کشمکش کے اثرات پاکستان جیسے ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں۔
بی بی سی اردو کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں وسعت اللہ خان نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک پیچیدہ صورتحال سے گزر رہی ہے جہاں پاکستان کو بیک وقت کئی محاذوں پر توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایسے ہے جیسے ایک شخص بیک وقت پانچ گیندیں ہوا میں اچھال کر انہیں گرنے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہو۔ وسعت اللہ خان کے مطابق پاکستان کو ایک طرف اپنے پڑوسی ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے ہیں جبکہ دوسری طرف امریکہ اور خلیجی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات کو نقصان نہیں پہنچانا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ توازن برقرار رکھنا پاکستان کی مجبوری بن چکا ہے کیونکہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات براہِ راست پاکستان پر پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی مسائل کے دباؤ میں ہے۔ ایک طرف افغانستان کے ساتھ کشیدگی موجود ہے جبکہ دوسری جانب خلیج میں جاری تنازع نے توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔
وسعت اللہ خان کے مطابق اگر خطے میں جنگ طول پکڑتی ہے تو پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ تیل کی فراہمی ہو سکتا ہے۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے پورا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت ایک ایسے سپر سٹور کی طرح ہے جہاں ہر گاہک کو مطمئن رکھنا ضروری ہے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں یہ سپر اسٹور ایک ایسے چوراہے پر کھڑا ہے جہاں ٹریفک جام لگا ہوا ہے اور کوئی بھی راستہ چھوڑنے کو تیار نہیں۔
وسعت اللہ خان کے مطابق پاکستان اس لیے بھی محتاط رویہ اختیار کر رہا ہے کیونکہ خلیجی ممالک میں تقریباً 35 سے 40 لاکھ پاکستانی محنت کش کام کر رہے ہیں۔ ان کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ انہی ترسیلات زر پر منحصر ہے جبکہ پاکستان کو ملنے والی مالی امداد، قرضوں کی سہولت اور توانائی کی فراہمی کا بڑا حصہ بھی خلیجی ممالک سے آتا ہے۔
وسعت اللہ خان نے کہا کہ موجودہ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ ہے کیونکہ پاکستان کے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی اہم تعلقات ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کے ترکیہ کے ساتھ قریبی روابط ہیں جبکہ آذربائیجان کے ساتھ بھی حالیہ برسوں میں تعاون بڑھا ہے۔
ان کے مطابق اگر ایران میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں اور پاکستان کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ وسعت اللہ کا کہنا ہے کہ اگر ایران میں سیاسی یا ریاستی نظام کمزور ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کے مغربی علاقوں خصوصاً بلوچستان میں سکیورٹی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر ایران میں انتشار بڑھتا ہے تو لاکھوں ایرانی پناہ گزین پاکستان کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے پاکستان کو مزید معاشی اور انتظامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وسعت اللہ خان کے مطابق پاکستان کو اس وقت عالمی طاقتوں کے درمیان محتاط سفارتی توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے قریبی دوست چین کی جانب بھی دیکھنا پڑتا ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی اہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نازک صورتحال میں پاکستان مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
وسعت اللہ خان نے کہا کہ اگر جنگ کے اثرات بڑھتے ہیں تو پاکستان میں پٹرول اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں پر پڑے گا۔
پٹرول مہنگا کر کے حکومت نے اپنا بوجھ عوام پر کیوں ڈال دیا؟
ان کے مطابق حکومت کو ایک طرف عالمی سطح پر سفارتی دباؤ کا سامنا ہے تو دوسری جانب عوامی توقعات بھی موجود ہیں۔ وسعت اللہ کے مطابق موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے سب سے اہم چیز محتاط اور متوازن سفارت کاری ہے تاکہ وہ کسی بڑے تنازع کا حصہ بننے سے بچ سکے اور اپنی معیشت و سلامتی کو محفوظ رکھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورت حال میں پاکستان کی کوشش یہی ہے کہ وہ کسی بھی فریق کے ساتھ کھلی محاذ آرائی سے گریز کرے اور اپنی قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنائے۔ تاہم پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ وہ امریکہ اور سعودیہ کا اتحادی ہوتے ہوئے کیا اپنے ہمسایہ ملک ایران سے بھی دوستی برقرار رکھ پائے گا یا نہیں؟
