اچکزئی کی تقرری کے باوجود عمران کی رہائی کا امکان کیوں نہیں؟

 

 

 

معروف صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی جیسے جہاندیدہ، صلح جو اور کٹر جمہوریت پسند سیاست دان  کو حکومت کی جانب سے لیڈر آف دی اپوزیشن مقرر کرنا الیکشن 2024 کے بعد پہلا بڑا جمہوری اور پاپولر فیصلہ ہے، جو فوجی قیادت کے مشورے اور رضامندی کے بغیر ممکن نہیں تھا، انکے مطابق اگر یہ فیصلہ اکیلے مسلم لیگ (ن) کرتی تو ہائبرڈ نظام میں زلزلہ آ جاتا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس تقرری سے یہ امید باندھنا کہ عمران خان جیل سے باہر آ جائیں گے، سراسر خام خیالی ہو گی۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اگر محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ واقعی ہائبرڈ سسٹم چلانے والوں کی منظوری سے ہوا ہے تو یہ ایک نہایت اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا ان کی سوچ میں کوئی بڑی تبدیلی آ چکی ہے؟ تاہم بادی النظر میں ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ فوج کی سوچ میں کوئی انقلابی تبدیلی آئی ہو، البتہ محمود اچکزئی جیسے مفاہمت پسند سیاست دان کو اپوزیشن لیڈر بنانا سیاسی کشیدگی کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ضرور ہے۔

 

لیکن سہیل وڑائچ خبردار کرتے ہیں کہ اس فیصلے سے یہ توقع رکھنا کہ کل کو عمران رہا ہو جائیں گے اور سیاسی حالات یکسر نارمل ہو جائیں گے، ایک بڑی خوش فہمی ہو گی۔ وہ اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ محمود خان اچکزئی بظاہر اپنی چادر کے بل کھولنے پر آمادہ نہیں تھے، مگر ان کے چہرے کا اطمینان اور لہجے کا اعتماد یہ بتا رہا تھا کہ انہیں کم از کم دو ہفتے پہلے ہی اپوزیشن لیڈر بننے کا علم ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پر اچکزئی کی تنقید سیاسی تھی، ذاتی نہیں۔ نواز شریف سے ان کے تعلقات دو دہائیوں پر محیط ہیں، اور اگرچہ وہ ان روابط کی تفصیل اپنی چادر میں لپیٹے رہے، مگر صحافتی حلقوں میں یہ حقیقت سب پر عیاں ہو چکی تھی کہ ان کے نواز شریف سے بالواسطہ روابط موجود ہیں۔

 

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ محمود اچکزئی نے 1970 کی دہائی میں کم عمری میں سیاست کا آغاز کیا۔ ان کے تقریباً پچاس سالہ سیاسی کیریئر کے ساتھ اگر ان کے والد، خان شہید عبدالصمد اچکزئی کے تجربات کو بھی شامل کر لیا جائے تو گویا 75 سالہ محمود خان اچکزئی کے پاس 125 برس کی سیاسی دانش موجود ہے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان کی طرح وہ بھی جمہوریت، آئین اور پارلیمانی بالادستی پر مذہب کی حد تک یقین رکھتے ہیں۔ وہ قوم پرست ضرور ہیں مگر نہ کبھی ہتھیار اٹھائے اور نہ ہی تشدد کی حمایت کی۔ ان کی سیاست دلیل، تاریخ، عالمی تناظر اور پشتون ضرب الامثال سے مزین مکالمے پر مبنی ہے، جو انہیں دیگر سیاست دانوں سے ممتاز بناتی ہے۔

 

بلوچستان کے تناظر میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ محمود خان اچکزئی کو ایک صلح کل اور مفاہمتی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی اور گورنر جعفر مندوخیل ان کے سیاسی مخالف ہیں، تاہم صوبائی روایات کے مطابق ان کے ساتھ سماجی اور ذاتی تعلقات خوشگوار ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ چند ماہ قبل کوئٹہ میں عبدالصمد اچکزئی کی برسی کے موقع پر محمود اچکزئی کے جلسے کو اجازت دینا آسان نہیں تھا، مگر حکومت نے رسک لے کر اجازت دی اور جلسہ پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا، جس پر حکومت، فوج اور اچکزئی تینوں مطمئن نظر آئے۔

 

سہیل وڑائچ ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں کہ محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے سے حکومت کو کیا فائدہ اور کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ ان کے مطابق پہلا بڑا فائدہ یہ ہے کہ اب سڑکیں گرم ہونے کے بجائے پارلیمنٹ فعال ہو گی۔ ان کے مطابق اپوزیشن کی عدم موجودگی میں حکومت بھی سیاسی وزن کھو دیتی ہے، کیونکہ پارلیمان ہی وہ آئینی ادارہ ہے جو فوج اور سول حکومت کے درمیان توازن قائم رکھتا ہے۔ مضبوط اپوزیشن کے بغیر طاقت کو نہ کہنے کی سکت کمزور پڑ جاتی ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے لیے سب سے بڑا فائدہ حکومت اور پارلیمان کی قانونی حیثیت کا بحال ہونا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن جماعتوں کی فعال موجودگی سے جمہوری نظام کو سہارا ملے گا۔

 

انکے مطابق عمر ایوب خان بطور اپوزیشن لیڈر انتہا پسندی پر مجبور تھے، کیونکہ عمران خان اور ان کے حامیوں کی یہی خواہش تھی، جبکہ محمود خان اچکزئی راستے نکالنے والے سیاست دان ہیں، راستے بند کرنے والے نہیں۔ اسی لیے نون لیگ اور فوج انہیں عمر ایوب کے مقابلے میں بہتر انتخاب سمجھتی ہیں۔

تاہم سہیل وڑائچ کے مطابق نون لیگ کے لیے ایک خطرہ بھی موجود ہے، اور وہ یہ کہ اگر اچکزئی سے روابط بڑھے، جمہوریت سے وابستگی میں اضافہ ہوا اور پارلیمان واقعی طاقتور ہو گئی تو طاقت کے مراکز میں بیٹھے کچھ لوگوں کے ماتھوں پر بل پڑ سکتے ہیں اور ہائبرڈ نظام میں دراڑیں پڑنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ فوج نے اپنی سابقہ روش سے ہٹ کر محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا راستہ کیوں دیا؟ ان کے مطابق یہ قدم سیاسی کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش ہے، کیونکہ معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ تاہم وہ خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس کے باوجود سڑکوں کی سیاست، گالی گلوچ اور محاذ آرائی جاری رہی تو اس تجربے کے مخالف عناصر غالب آ جائیں گے اور امید کی یہ کھڑکی ایک بار پھر طویل عرصے کے لیے بند ہو سکتی ہے۔

 

تحریک انصاف کے حوالے سے سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اس فیصلے میں خطرات بھی ہیں اور مواقع بھی۔ تحریک انصاف اپنی سٹریٹ پاور دکھا چکی ہے اور اب دوبارہ ریاست سے ٹکر لینے کی سکت نہیں رکھتی۔ اگرچہ وہ براہ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں، تاہم محمود خان اچکزئی کے ذریعے بالواسطہ بات چیت ممکن ہو سکتی ہے۔ لیکن اصل خطرہ یہ ہے کہ عمران خان نہ کسی کو مکمل اختیار دیتے ہیں اور نہ ہی مکمل اعتماد، اگر یہی رویہ برقرار رہا تو یہ کوشش بھی ناکام ہو سکتی ہے۔

 

سہیل وڑائچ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت اور اپوزیشن نے مولانا فضل الرحمن کو اعتماد میں لیا یا یہ فیصلہ بالا بالا ہو گیا کیونکہ الیکشن 202 کے بعد سے مولانا ایک متحرک اپوزیشن رہنما کا کردار ادا کر رہے ہیں؟ آئینی ترامیم کے وقت تو تحریک انصاف انہیں اپنا رہبر تسلیم کرتے ہوئے اور عمران خان کی ماضی کی بد زبانیوں پر ازار شرمندگی کرتے ہوئے ان کے دروازے پر ہی بیٹھی رہتی تھی۔ لیکن افسوس کہ ماضی کی طرح ایک بار پھر اپوزیشن لیڈر کا اہم ترین آئینی عہدہ مولانا کے حصے میں نہیں آ سکا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی مہارت سے نیا راستہ نکال کر حکومت اور اپوزیشن کو چیلنج کریں گے یا خاموشی سے بیٹھ جائیں گے۔

کیا اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنوا کر عمران نے سیاسی بلنڈر کیا ہے؟

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ محمود اچکزئی کی تقرری بارے رسمی طور پر صدر آصف زرداری یا بلاول بھٹو کو اعتماد میں لیا گیا ہو، تاہم اس فیصلے میں پیپلز پارٹی کا کردار ثانوی دکھائی دیتا ہے، کیونکہ محمود اچکزئی کے مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف سے تعلقات زیادہ مضبوط رہے ہیں۔ سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ محمود اچکزئی کو لیڈر آف دی اپوزیشن بنانا ایک بڑا سیاسی اور جمہوری فیصلہ ہے جو اگر درست سمت میں آگے بڑھا تو آنے والے دنوں کے لیے نیک شگون ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی کشیدگی، نفرت اور محاذ آرائی کم کیے بغیر ملک کو ایک معمول کا آئینی، جمہوری اور خوشحال ریاست بنانا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ذاتی فائدے کے لیے لڑائیاں بڑھائی جا سکتی ہیں، مگر قومی مفاد امن، مصالحت اور مذاکرات میں ہے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اگر بھارت سے جنگ کے بعد سیز فائر ہو سکتا ہے تو کیا پاکستانی سیاست دانوں کی ایک دوسرے کے خلاف چلنے والی بندوقیں ٹھنڈی نہیں ہو سکتیں؟

Back to top button